الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

اسم محمد ﷺ کی فضیلت

July 7, 2013

تحریر :حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے دہر میں اسمِ محمد ؐ سے اجالا کردے

آپ ﷺ کا اسم مبارک کرسی و عرش پر کلمہ طیبہ میں درج تھا ۔جب حضرت آدمؑ نے دوبارہ کشف میں محمد رسول اللہ ﷺ لکھا دیکھا تو اس نام کا واسطہ دیا تب آپ کو معافی ہوئی ۔پھر آپ کو اس عظیم ہستی کے دیدار کی خواہش ہوئی چنانچہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کا نور حضرت آدم ؑ کو انگوٹھوں میں دکھایا جسے دیکھ کر حضرت آدم ؑ نے اپنے انگوٹھوں کو چوم لیا ۔اسی نسبت سے آج بھی بہت سے مسلمان بوقت نام محمد ﷺ پر انگوٹھے چومتے ہیں کہ یہ حضرت آدم ؑ کی سنت ہے۔ چونکہ اسمِ محمد ﷺ کا نور مقام یاہوت میں جمالی تھا جسے مقام محمد یﷺ بھی کہتے ہیں اور روح مبارکہ کا نور بوجہ وصل جلالی تھا ۔روح اور اسم جب جسم میں داخل ہوئے تو جسم ان کی تپش کی تاب نہ لاکر’’ نور علیٰ نور ‘‘ہوگیا ۔یہی وجہ سے کہ آپﷺ کے دائیں پاؤں کے نیچے جمالیت اور بائیں پاؤں کے نیچے جلالیت ہے ۔جس طرح اسم اللہ کا ورد جلالی و ذاتی نورپید ا کر تاہے اسی طرح’’ اسم محمد ﷺ ‘‘ کا ورد جمالی نور بنا تا ہے بعض عار ف ا س جمالی اسم کے ذریعے بھی مجلس محمد ی ﷺ میں پہنچے ۔یا د رہے کہ کل کائنات جلالی و جمالی اسماء کی محتا ج ہے جیسا کہ سورج جلالیت کا اور قمر جمالیت کا ۔اسی طرح قرآن مجید کی بھی کچھ سورتیں جلالیت اور کچھ جمالیت کا حکم رکھتی ہیں ۔بعض مسلمان آپ ﷺ کی حیات النبی ﷺ پر شبہ کرتے ہیں جبکہ شہیدوں کو زندہ مانتے ہیں کیا شہیدوں کا مرتبہ آپ ﷺ سے زیادہ ہے ؟شک انکی کو تاہ بینی اورسیاہ قلبی کا ہے جو آپ کی زیارت خواب یا ظاہر سے محروم ہیں ۔جب تک آپ ﷺ کسی کو زیارت نہ دیں اس کے امتی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ۔اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ آپ ﷺ کی زیارت و اعانت ہے ۔آپ ﷺ تک پہنچنے کا وسیلہ باطنی صفائی ہفت اندام ہے اور باطنی صفائی کا وسیلہ کامل مرشدہے ۔جس طرح سے آیت الکرسی کی فضیلت ان اسماء اللہ حی وقیوم سے ہے اس طرح درود شریف کو فضیلت اسم، جسم اور رتبے سے ہے ۔فرشتے آیت الکرسی لکھی دیکھ کر دست بستہ کھڑے ہوجاتے ہیں اور درود شریف پڑھنے سے مست ہوجاتے ہیں اس لیے سورۃ احزاب میں ہے ’’ اللہ اور اس کے فرشتے اپنے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں ا ے ایمان والو تم بھی درود و سلام بھیجو‘‘ آپ ﷺ پر اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی درود پڑھا جا تا تھا جیسے جب مائی حوا کی طرف حضرت آدم ؑ نے ہاتھ بڑھایا توفرشتوں نے کہا آدم ؑ صبر کرو پہلے ا س کا مہر اد ا کرو۔حضرت آدم ؑ نے دریا فت فرمایا کہ مہر کیاہے ؟تو فرشتوں نے کہا کہ تین دفعہ رب کے حبیبﷺ پر درود پڑھو ۔اصل قرآن مجید جو نوری الفاظ میں حضرت جبرائیل امین لے کر آئے آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر اترا جو بعد میں سینہ بہ سینہ سلسلہ در سلسلہ مستحق لوگوں کو ملتارہا اور ان لوگوں کی کرامتیں اور فیض اس باطنی قرآن سے ہے ۔یہ ظاہر ی قرآن مجید اس کا عکس ہے جو بذریعہ کاغذ محفوظ ہے یہ علما ء اور حفاظ کرام کے حصہ میں آیا علما ء نے ظاہر سے ظاہر کو آراستہ کیا اور اولیا ء اللہ نے باطن سے باطن کو پاک کیا ۔علماء امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی نبی نہیں لیکن نبوت کا دعویدار ہے تو وہ کافر ہے اس کے ماننے والے بھی کافرکہلائیں گے ۔نبی کے لیے وحی اور معجزہ شرط ہے اسی طرح فقرا ء امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی ولی نہیں اور ولایت کا دعویدار ہے تو وہ کم بخت سخت گنہگا ر اور احمق ہے جس نے خواہ مخواہ طالبوں کا بوجھ سر پر لاد لیا اور ہزاروں طالبوں کی عمر بر باد کر دی اس کو ولی ماننے والے بھی کم بخت اور فیض سے محروم رہتے ہیں ۔ولی کے لیے الہام ،کشف و کرامت ضروری ہیں تب و ہ مفید ہے۔ اگر کسی کو کشف و کرامات الہام نہ ہوں خواہ وہ اللہ کے ہاں مقرب ہی کیوں نہ ہو وہ منفرد کے زمرے میں ہے اسے چاہئے کہ وہ رجوعات خلق سے بچ کر رہے۔ ولی کی سب سے ادنیٰ کرامت یہ ہے کہ سات د ن کے اندر اندر طالب کو ذاکرِ قلبی بنا دے اور کم ازکم چار مرد یا آٹھ عورتیں یہ گواہی دے سکیں کہ اس کے ذریعے انہیں محفلِ حضوری ﷺ نصیب ہوئی ہے اور خود بھی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا مرتبہ رکھتا ہویہ فقر باکمالیت کا درجہ ہے ۔فقر باکرم والے بھی حضور ﷺ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور طالب کو عبادت ،ریاضت اور وظائف کے بعد ذکر قلب اور محفل حضور ی ﷺ میں پہنچا دیتے ہیں اگر ایسی کرامتوں والا شریعت کا پابند ہو تو اس کے درجے میں ترقی ہوتی رہتی ہے اگر شریعت میں تارک ہوجائے تو کسی ایک مقام پر ساکن ہو جاتاہے ۔
روزنامہ ایکسپریس ملتان اشاعت خاص 22جون2011 ؁ء

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان