الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

انتقالِ پر ملال فیصل آباد کے سرپرست اور سینئر سرفروش رہنما جنابِ محترم حاجی رئیس احمد قادری

January 13, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ) فیصل آباد کے سرپرست اور سینئر سرفروش رہنما جنابِ محترم حاجی رئیس احمد قادری 30ربیع الاول بمطابق 1437ہجری، 10جنوری 2016 ؁ء بروز اتوارطویل علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔اُن کی نمازِجنازہ جامع مسجد زینب مدینہ ٹاؤن فیصل آباد میں 12جنوری 2016 ؁ء بروز منگل بعد از نمازِ ظہر عالمی مرکزی امیر حضرت علامہ مولانا سعید احمد قادری نے پڑھائی ۔نمازِ جنازہ میں قبلہ مرشدِ گرامی حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کے بھائی سید ذوالفقار احمدگوھر شاھی بردیانہ ڈھوک گوھر شاہ( گجر خان) اورشہزادہ ٗمرشدِ پاک سید غفران گوھرنے حیدر آبا د سندھ سے خصوصی شرکت کی ۔اسکے علاوہ آرگنائزر AFSOشبیر احمد گوھر،ممبر مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد اویس قادری،محمد توفیق قریشی ،محمد شفیق قادری ،محمد رضوان گوھر،حاجی سعید احمد،حاجی محمد اصغر قادری،صوبہ پنجاب کے امیر جناب عبدالرزاق گوھر(رحیم یار خاں)،علاقائی امیران حاجی محمد سلیم قادری(فیصل آباد)،چودھری صلابت گجر (سمندری)سمیت ٹوبہ ،جوھر آباد،لاہور،سید نوید الحق قادری(کراچی) کے علاوہ کثیر تعداد میں سرفروش ذاکرین و عوام الناس نے شرکت کی ۔
مرکزی مشیر محمد شفیق قادری نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بندہ اس دنیا میں آتا ہے اور اُسے واپس بھی جا نا ہے ۔اللہ نے پہلے زندگی دی پھر موت دیتا ہے اور پھر زندگی دے گا۔بندہ اللہ کی بارگاہ تک رسائی کر لیتاہے ۔کوئی چلتے پھرتے چلاجاتا ہے اور کوئی بیماری کی حالت میں ۔ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ہر بندہ اپنی زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتا ہے ۔دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس بندے نے دنیا میں کیسا وقت گزارا ہے اور اب قبر کی طرف جارہا ہے کہ اُس نے دنیا میں کیا کیا ہے؟ اللہ کی بارگاہ میں کیا لے کر جا رہا ہے ؟کونسا نامہء اعمال ہے اس کے پاس جو اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو جائے؟عزیزانِ من !نماز ،روزہ ،حج اور زکوٰۃیہ چار ارکان ہیں اور پانچواں رکن جو سب سے پہلے ہے وہ کلمہ ہے وہ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے ۔یہ پہلا اور بنیادی رکن ہے اگریہ مضبوط ہے تو چاروں ارکان اس بنیاد پر مضبوط رہ سکتے ہیں ۔اگر آپ کا کلمہ طیبہ جس کا تعلق آپ کے ایمان سے ہے وہ مضبوط نہیں تو باقی چاروں ارکان کابھی کوئی بھروسہ نہیں ۔حدیثِ پاک میں ہے افضل الذکر لاالہ الااللہ ۔کلمہ طیبہ تمام ذکروں سے افضل ہے ۔کلمہ طیبہ کے دو حصے ہیں ۔پہلا حصہ توحید کا اور دوسرا رسالت کا ہے ۔پہلے حصے توحید کے 12حروف اور دوسرے حصے رسالت کے 12حروف ہیں۔دونوں کو ملائیں تو 24حروف بنتے ہیں۔سلطان العارفین ،برھان الواصلین ،مقتداء الکاملین ،حضرت سخی سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی صدقِ دل سے دن کے چوبیس گھنٹوں میں ایک مرتبہ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اُس شخص کے تمام دن کے گناہ بخش دیتاہے ۔جس نے پورے دن میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسالتِ مآب ﷺکی رسالت کا اقرار کر لیا ،صدقِ دل سے کلمہ پڑھ لیا تو اُس کے 24گھنٹوں کے گناہ بخش دئیے گئے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپکی تب بنیاد مضبوط ہوگی جب دل کے اندر آپ کا ایمان مضبوط ہو گا توصرف نماز پڑھیں گے نہیں بلکہ قائم کریں گے ۔پورے قرآنِ پاک میں کہیں بھی نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے بلکہ نماز کو قائم کرنے اور نمازوں کی حفاظت کا حکم دیاگیا ہے۔جب آپ کا ایمان مضبوط ہو گا تو آپ کی نماز قائم ہوگی۔جب آپ کی نماز قائم ہوگئی تو پھر کیا ہو گا؟ارشادِ بار ی تعالیٰ ہے “”بے شک !نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے”’پھر جب کلمہ کے ساتھ دل مضبوط ہو گیا تو اُس وقت جب سجدے میں جاؤ گے تو کہوگے سبحان ربی الاعلیٰ ، سبحان ربی الاعلیٰ۔حضرت جنید بغدادی ؒ اور حضرت شبلی ؒ ایک دفعہ سفر کے دوران ایک جگہ پر اکٹھے ہو گئے ۔نماز کا وقت ہوگیا ۔ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آ پ جماعت کرائیں۔دوسرے کہنے لگے کہ آپ کا رتبہ زیادہ ہے آپ جماعت کرائیں ۔بزرگانِ دین میں عاجزی اور انکساری بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ہم کہتے ہیں کہ ہم سے تو بڑا ہی کوئی نہیں لیکن اللہ والوں میں یہ چیز نہیں ہوتی ۔ اتنے میں ایک چرواہابکریاں چراتے ہوئے وہاں آگیا ۔اس نے کہا آپ دونوں بزرگ ہستیاں ہیں آپس میں تکرار کیوں کر رہے ہیں ؟انہوں نے سارا ماجرا سنایا تو اُس چرواہے نے کہایہ کون سی بات ہے ؟جماعت میں کراتا ہوں آپ دونوں میرے پیچھے پڑھ لیں ۔چرواہے نے جماعت کرائی دونوں بزرگوں نے پیچھے پڑھی ۔نماز کے بعد دونوں بزرگوں نے کہا کہ بھلے مانس ہم نے تیرے پیچھے نماز توپڑھ لی لیکن یہ تو بتا کہ کوئی سجدہ لمبا تھا تو کوئی چھوٹا۔یہ کیسی نماز پڑھائی ؟چرواہا کہنے لگا میں سجدے میں جاتا توکہتا تھا سبحان ربی الاعلیٰ ، سبحان ربی الاعلیٰ اللہ رب العزت کی طرف سے آواز آتی تھی کبھی آواز جلدی آتی تھی کبھی دیر سے ۔جب آواز آتی تھی تب سجدے سے سر کو اُٹھا تا تھا۔یہ نماز کو قائم کرنا ہے ۔قرآنِ پاک میں ہے کہ ”نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔نمازکیسے قائم ہوگی ؟مزید ارشاد ہوا “میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کرو “۔بندے کے دل میں اللہ کی یاد بس جائے اُس کا دل اللہ اللہ کرنے لگ جائے ۔ظہر کی نماز پڑھی ۔ظہر سے پھر عصر کی نماز پڑھی ۔ظہر سے عصر تک بظاہر کوئی کلمہ نہیں پڑھا ۔کوئی تسبیح و تحلیل نہیں کی ۔تلاوتِ قرآن نہیں کی کا م میں لگ گیا ۔اپنی مصروفیا ت میں مگن ہوگیا۔ظہر سے عصر تک نماز کیسے قائم ہوئی پھر وہ دل جو اُس نے بیدا ر کرلیا تھا ۔وہ اللہ اللہ کرتا رہا ۔اُس کی نماز قائم ہو گئی ۔رات کو سونے لگا اب سوتے ہوئے زبانی ذکر کوئی نہیں ہو تا ۔زبان بند ہو جاتی ہے ۔سانس سے کرنیکی کو شش کرے گا سانس ساتھ نہیں دیتا ۔تسبیح سے کرنے کی کوشش کرے گا ۔وہ بھی ہاتھ سے چھوٹ جائے گی ۔پھر وہ دل ہی ہے جس سے 24گھنٹے اللہ اللہ ہو سکتی ہے ۔اس دل میں جب اللہ کی یاد کو بسا لو گے تم سوتے رہو گے یہ دل اللہ اللہ کرتا رہے گا۔لوگ کہتے ہیں کہ مرتے وقت کلمہ پڑھ لیں گے اور جس کو نصیب ہو جائے توکہتے ہیں کہ وہ جنتی ہے۔نشتر ہاسپٹل ملتان کے ڈاکٹر صاحب کی ڈائری کے مطابق 80سے 85فیصد لوگوں کی مرتے وقت زبان بند ہو جاتی ہے ۔اب جو مرنے سے پہلے زبان بند ہو گئی ،کلمہ کہاں گیا ؟وہ لوگ جنہوں نے اپنے دل میں اللہ کی یاد کو بسا لیا ۔سائنس کہتی ہے بندہ مر جاتا ہے ۔چند سیکنڈ تک اُس کا دل دھڑکتا رہتا ہے ۔وہ جنہوں نے اللہ ھو بسا لیا تھا مر بھی رہے تھے اُن کا دل اللہ اللہ بھی کر رہا تھا ۔جو شخص انڈے کی خاصیت سے واقف نہیں ہے اُسے کہا جائے کہ یہ بڑا ہو کر چوں چوں کرے گا ،ہوا میں اُڑے گا تو وہ شخص انکار کردے گا کیونکہ اُسے اس کی حقیقت کا علم نہیں ہے۔لیکن انڈے کو مخصوص دنوں تک حرارت دی جاتی ہے تو اس میں سے ایک چوزہ نکلتا ہے جو بغیر سیکھے سکھائے چوں چوں کرتا ہے یہ اس کی فطرت ہے ۔اسی طرح اس دل پر جب اللہ کے درویش کی نظرِ کیمیا پڑھتی ہے تو اس میں سے ایک مرغِ بسمل نکلتا ہے جس کی فطرت اللہ اللہ کر ناہے ۔چوزہ بڑا ہوا تو اس نے اُڑنا شروع کردیا اسی طرح جب یہ دل اللہ اللہ کرنے لگا تو اس نے بھی پرواز کرنی شروع کر دی۔اس نے سوچا کہ غوث پاکؓ کے روضے پہ کیا ہو رہا ہے یہ ادھر سے اُڑا اور وہاں پہنچ گیا ۔خانہ کعبہ کے بارے میں سوچا تو یہ وہاں چلا گیا اور آپ نے سوچا کہ حضور پاک ﷺ کے روضہء انور کی کیا کیفیت ہے ؟آپ یہاں بیٹھے ہیں ۔آپکی آنکھیں اور زبان بند ہے ۔دل یہاں سے نکلا حضور کے قدموں میں پہنچ گیا ۔امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان بریلوی ؒ کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں۔
وہی رب ہے جس نے تم کو ہمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستاں بتایا
تجھے حمد ہے خدایا تجھے حمد ہے خدایا
ارے اوہ خدا کے بندو!کوئی میرے دل کو ڈھونڈو ابھی پاس تھا میرے تو ابھی کیا ہوا خدایا
نہ کوئی گیا نہ آیا نہ کوئی گیا نہ آیا
اے رضا ! تیرے دل کا پتا چلا بمشکل درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا
یہ نہ پوچھ کیسا پایا یہ نہ پوچھ کیسا پایا
اُس دل کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی ۔وہی جانتا ہے جس کا دل مانتا ہے ۔
عزیزانِ محترم !حاجی رئیس صاحب بظاہر عام لوگوں کی طرح تھے لیکن واللہ !ان کا دل اللہ کے ذکر سے روشن و منور تھا اور ہم نے کئی دفعہ ان کو دیکھا ہے کہ محفل میں بیٹھے بیٹھے عجیب کیفیت ہو جاتی تھی ۔جب اُن سے پوچھا کہ حاجی صاحب کیا معاملہ ہو اہے ؟تو کہتے میری آنکھیں بند تھیں سامنے روضہ ء رسول ﷺنظر آرہا تھا۔ میری آنکھیں بند تھیں۔سامنے حضور غوثِ پاکؓ کا روضہ تھا ۔یہ وہ دولت ہے جو بزرگانِ دین سے عطا ء ہوتی ہے ۔علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ
یا رب !دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما دے ،جو روح کو تڑپا دے
ہمارا پیغام یہی ہے کہ آپ کو جہاں سے بھی یہ دولتِ عظمیٰ ملے اس کو حاصل کریں لیکن اگر کسی سے میسر نہ ہو تو ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو اس کا طریقہ بتائیں گے جس پر عمل کرکے آپ کو یہ نایاب دولت عطاء ہو جائے گی۔آخر میں عالمی مرکزی امیر علامہ مولاناسعید احمد قادری نے حاجی رئیس احمد قادری کی نمازِ جنازہ پڑھائی ۔

HR-2 HR-3 HR-4 HR-5 HR-6 HR-1

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان