الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

انٹرویوباوا جی فضل محمد قادری قلندری

July 14, 2011

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام فیصل آباد شعبہ نشرواشاعت کے مشیر عبدالعزیز قادری معاونین محمد رفیق قادری ،محمد صابر شاہ اور محمد ذیشان قیصر نے حضرت باوا جی قائم سائیں سرکار قادری قلندری ؒ کے دربار شریف پر حاضری دی اور دربار شریف پر موجود اُن کے خلیفہ حضرت باوا جی فضل محمد قادری قلندری سے خصو صی انٹرویوکیا جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
پیدائش
حضرت باوا جی قائم سائیں سرکار قادری قلندری کا اسمِ گرامی قائم دین ہے۔آپ سرکارحضرت باواجی قائم سائیں قادری قلندری ؒ کی پیدائش تقریبا۱۸۷۶ ؁ء کو فیصل آباد کے ایک گاؤں پنج وڑ میں ہوئی۔
بچپن
آپ کو بچپن ہی سے بزرگانِ دین سے بہت لگاؤ تھا۔خصوصاحضرت داتا علی ہجویری سے قدرتی طور پر عشق تھا۔جہاں کہیں بھی خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کے بارے علم ہوتا، وہاں پہنچ کر بڑے ادب اور احترام کے ساتھ ان کو سلام کرتے اور بیٹھ جایا کرتے تھے اور ان نیک لوگوں کی خدمت کر کے دل میں بڑی خوشی محسوس کیا کرتے تھے۔
وہ کلام جو قائم سائیں سرکار اکثر فرمایا کرتے تھے
بچہ دین بہت بڑا ہے۔ دین کے کام کرو۔مالک (اللہ تعالیٰ) خود بخود تمہارے کا م کرے گا۔بچہ درویش صرف اپنے مالک کے حکم کا پابند ہوتا ہے۔ اسے دنیا دار لوگوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔بچہ یہ داتاکا دوارہ ہے۔یہ سب کچھ داتا ہی کی کرم نوازی ہے۔بچہ ہم تو داتا کے غلام ہیں۔بچہ درویش کی خوراک تو عبادت اور سخاوت ہوتی ہے۔ آپ سرکا رکا فرمان ہے ۔ بچہ ہر درویش اپنے مالک اللہ تعالیٰ کے احکام اورحضرت محمدﷺ کے فرمان کے مطابق آنیوالے لوگوں کو دینِ حق کا درس دیتا ہے۔ تاکہ آنیوالے لوگوں کی بھلائی ہو سکے۔
مشیر نشرواشاعت عبدالعزیز قادری نے باوا جی سے کہاکہ ہما را تعلق عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام سے ہے اور ہمارے مرشدِ کریم حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی پاک کر واور اپنی زبانوں کے ساتھ ساتھ اپنے قلوب کو بھی اللہ کے ذکر میں لگاؤ۔باوا جی حضرت قائم سائیں سرکار قادری قلندری ؒ کے دربار شریف کے سجادہ نشین فضل محمد قادری قلندری مدظلہ العالی نے کہاکہ آپ لوگ ہمارے پاس آئے ہمیں بڑی خوشی ہوئی اوریہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر احسان ہے کہ اس نے آپ لوگوں کوایک ولی کامل کی صحبت اور نسبت عطاکی ہے اور تمھیں اپنے ذکر میں لگایا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دنیا فانی اور لوگ سکون کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں لیکن کہیں بھی سکون میسرنہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ سکونِ قلب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کسی اللہ والے کی سنگت اختیار کرواور اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر میں لگاؤ تو خود بخود سکون حاصل ہوجائے گا ۔
جب حضرت باوا جی فضل محمد قادری قلندری دامت برکاتہم علیہ سے عرض کی کہ باوا جی ہمیں کوئی نصیحت کریں توانہوں نے فرمایا کہ اس راہِ فقر میں دو ہی تو چیزیں ہیں ایک برداشت اور دوسر ا درگزران دونوں کا دامن کبھی نہ چھوڑنا کامیاب ہوجاؤگے اور اپنے شیخ اور رہبر سے کبھی مایوس نہ ہونا اور اُن کا دامن کبھی نہ چھوڑنا۔
حضرت باواجی قائم سائیں سرکارقادری قلندری ؒ کا مزار فیصل آبادکے علاقہ رضاآبادمیں موجود ہے آپ کا مزار ہر خاص و عام کے لیے مرجع خلائق ہے آپ ؒ کا وصال سدھو پورہ گاؤں میں۱۶ مارچ۱۹۷۶ ؁ء بروز منگل فجر کی نمازکے بعد ہوا آپ کا عرس ہر سال شعبان ک۲۱،۲۲،۲۳تاریخ کو بڑی دھوم دھام اور انتہائی عقید ت و احترام کے ساتھ منایا جاتاہے ۔
آخرمیں حضرت باواجی فضل محمد قادری قلندری دامت برکاتہم عالیہ نے دعاؤں کے ساتھ حاضرین کو رخصت کیا۔
جاری کردہ
شعبہ نشرواشاعت فیصل آباد

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان