الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

جشنِ مولائے کائناتؑ

June 11, 2012

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیرِ اہتمام محمد افضل قادری کی رہائش گاہ پر204چک میں جشنِ مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کے سلسلہ میںؓ عظیم الشان روڈ پروگرام منعقد کیا گیا ۔جس میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری اور عبدالعزیز قادری نے سر انجام دئیے۔محفلِ پاک کا باقائدہ آغازتلاوتِ کلامِ مجید کی معطر ،مطہراور نورانی آیات کریمہ سے کیا گیاجس کی سعادت قاری محمد حنیف صاحب نے حاصل کی۔اسکے بعد بارگاہِ ربوبیت میں ہدیہء حمد کی سعادت اطہر اقبال قادری نے حاصل کی اور حاضرین کی کثیر تعداد نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اپنی زبانوں کو پاک اور صاف کیا ۔بارگاہِ رب العزت میں ہدیہء حمد کے بعدحضور پر نور،شافع یوم النشورﷺ کے حضور نذرانہء عقیدت و محبت کے گلدستے باالترتیب ننھے منے ثناء خواں شہر یار گوھر،حنان ،حسنین کے علاوہ انجمن سرفروشان اسلام کے مشہورو معروف نعت خواں جناب عبدالمنان قادری اور افسر علی رضوی نے پیش کیے اور محفل پاک کی رونق کو دوبالا کیا۔محفلِ پاک میں حضرت علی ؑ کے حضور نذرانہ ء عقیدت عبدالعزیز قادری نے پیش کیا اور سب کے دِلوں میں حبً علیؑ کو مزید اُجاگر کیا ۔
حضرت علامہ مولاناسےًد اکبر علی شاہ کاظمی(خطیب جامع مسجد نور) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اولیاء اکرام کی شان اقدس کو نہایت ہی مناسب انداز میں پیش کیا اور فرمایا کہ ہم اولیا ء اکرام کی تعلیما ت کو من و عن مانتے ہیں اور دلوں و جاں سے اُنکا ادب و احترام کرتے ہیں اور یہ سلسلہ حضرت علی ؑ سے شروع ہوتا ہے اور کوئی بھی اُس وقت تک ولی اللہ نہیں بن سکتا جب تک کہ آپؑ کی مُہر مبارک اُس اللہ کے بندے پر نہ لگ جائے ۔اس لئے ہما را عقیدہ ہے کہ جب تک کوئی حضرت علی ؑ کو نہ مانے گا اور آپ کی سچی تعلیمات پر دلوں و جان سے عمل پیرا نہیں ہو گا وہ نہ تو آپ ؑ کا عقید ت مند ہو سکتا ہے اور نہ ہی آپؑ کا پیرو کار۔
علاقہ کی مشہور ومعروف شخصیت جناب علامہ مولانا سےًد شہزاد بدرنے اپنے پر سوز خطاب میں مولا علیؓ مشکل کشاء کی شانِ اقدس میں ہدیہء تبریک پیش کیا اور کثیر تعداد میں حاضرینِ محفل میں مناقب حضرت علی المرتضیٰ ؑ کو بیا ن کیا اور فرمایاکہ آپ ؑ کو یہ خاص سعادت حاصل ہے کہ آپ ؑ نے اس دُنیا میں جب اپنی آنکھ کھولی تو حضورﷺ کا دیدار کیا ا ور آپ ﷺ نے ہی آپؑ کا نامِ مبارک تجویز فرمایا۔بچپن میں آپ ؑ اکثر اوقات حضورﷺ کی زبانِ اقدس کو چو سا کرتے تھے ۔جسکی وجہ سے آپ ؑ کو علم کا دروازہ قرار دیا گیااوراللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کے صدقے حضرت علی ؑ کووہ شانِ ولایت عطاء فرمائی کہ جس کے متعلق خود سرور
ِ کا ئناتﷺ نے ارشاد فرمایا “فقر میرا فخر ہے اور فقر میرا ورثہ ہے” یہی وجہ ہے کہ جس نے بھی آپؑ سے کبھی کوئی سوال کیا توآپ ؑ نے کبھی کسی کتاب کو کھولنے اور اُس کا حوالہ دینے کا نہیں فرمایا بلکہ بغیر کسی حیل و حجت کیااللہ رب العزت کی عطاء اور نبی دو جہاں ﷺکی زبانِ اقدس کو چوسنے کی وجہ سے اُس کا فورًا اور تسلی بخش جواب دیا اور آپﷺ نے آپؑ کو دونوں جہانوں میں اپنا بھائی بنایااوخم غدیر کے موقع پر آپ ؑ کے ہاتھ کو بُلند کر کے فرمایا کہ” جس کا میں مولا ،اُ س کا علی ؑ مولا”
درودوسلام کے بعددُعائے خیر سےًد شہزاد بدر نے کروائی ۔محفلِ پاک کے اختتام پر لنگرکا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔
جاری کردہ
عبدالعزیز قادری
فیصل آباد

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان