الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

جشن ولادت حضرت علی اکبرؓ و جشن لعل شہبارقلندرؒ فیصل آباد

June 21, 2013

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیرِ اہتمام آستانہ عالیہ پر جشن ولادت باسعادت حضرت علی اکبرؓ و جشن لعل شہبازقلندرؒ نہایت تزک واحتشام سے منایا گیا۔محفلِ پاک کا آغازتلاوتِ کلامِ مجید کی معطر ،مطہر ،نورانی آیہء مبارکہ سے کیاگیاجس کی سعادت قاری طارق محمودقادری نے حاصل کی۔نقابت کے فرائض مشیر پروگرام کمیٹی محمد افضال قادری نے سرانجام دئیے ۔محفل پاک میں حمدِ باری تعالیٰ کی سعادت محمد عرفان قادری و محمد جمیل قادری نے حاصل کی ۔اس کے بعد بارگاہِ رسالت مآبﷺمیں گلہائے عقیدت و محبت کے نذرانے باالترتیب محمد عامر،عبدالمنان قادری ،محمد زبیر قادری( PTV)، احسن عدیل آف چنیوٹ،محمد جاوید چشتی، محمد سلیم جیلانی، زین بن ارشدنے نہایت پر سوز انداز میں پیش کئے۔نمازِ مغرب کی باجماعت ادائیگی کے بعد مناجات کا نذرانہ محمد نثار بٹ (چنیوٹ )نے پیش کیا ۔ ماسٹر محمد لیا قت قادری نے خصوصی دعا فر مائی ۔
سینئر رہنماانجمن سرفروشانِ اسلام محمد شفیق قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایاکہ آج ہم جس ہستی کا تذکرہ کرنے جارہے ہیں دنیا اُسے لعل شہباز قلندرؒ کے نامِ نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے ۔ آپؒ کا اصل نام سیّد عثمان تھا چونکہ آپؒ کا تعلق افغانستان کے علاقے مروندسے تھا اس لئے مروندی کہلائے۔آپؒ حضرت بوعلی قلندرؒ کے کہنے پر ہندوستان سے سندھ کے علاقے سیوستان (سہون شریف)تشریف لائے۔رات کا وقت تھا آپ ؒ نے اپنے چند خدمت گزاروں کے ہمراہ جس محلے میں قیام فرمایا وہ طوائفوں کا محلہ تھا رات بھر مختلف مکانوں سے ناچنے گانے کی آوازیں آتی رہیں ۔درویش اپنے اورادو وظائف میں مشغول رہا مگر اس کے خدمت گاروں کی نیندیں اُڑ گئیں ۔صبح جب حالات کا جائزہ لینے کے لئے خدمت گار اپنے خیموں سے نکلے تو چند مسلمانوں کے گھروں کے علاوہ سبھی ہندو ؤں کے گھر تھے۔انہوں نے بزرگوں سے عرض کی اگر کسی اور جگہ ہمارے لئے امان ہوتی تو ہم بہت پہلے اس جگہ کو چھوڑ کر جا چکے ہوتے۔یہ اوباشوں کی نگری ہے جہاں دن رات آسمان سے لعنت برستی رہتی ہے۔اللہ ہی جانتا ہے کب ہمیں اس عذاب مسلسل سے نجات ملے گی؟جب ساری صورتِ حال سے مریدوں نے اپنے شیخ ؒ کو آگاہ کیا تو آپؒ نے فرمایا کہ” مسلمان کو اس لئے پیدا نہیں کیا گیاہے کہ وہ سازگار ماحول میں اپنے روزو شب بسر کرے اور چند روزہ زندگی گزار کر واپس چلا جائے “۔شیخ نے فرمایا کہ “مسلمان ایک چراغ کے مثل ہے کہ جہاں تاریکی دیکھے وہاں چلا جائے اور اپنے وجود سے ظلمتوں کو دور کر دے”۔بے شک !اس وقت ہم فاسقوں اور فاجروں کی بستی میں خیمہ زن ہیں مگر ہمارا قیام عارضی نہیں ۔یہاں درویشوں کا ڈیرہ مستقل ہو گا۔۔۔۔اور اللہ اپنی قدرت سے اس بستی کی تمام غلاظتیں دور فرما دے گا۔وہ پاک ہے اور وہی اپنی پاکی کے صدقے میں اس زمیں کی ساری کثافتیں دھو ڈالے گا۔پھر ایسا ہی ہوا چند ہی دنوں میں اس بازارِحسن میں مکمل سنّاٹا چھا گیا ۔ہر کوئی حیران و پریشان تھا کہ یکایک یہ کیوں اور کیسے ہوا؟پھر ان لوگوں پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جب سے یہ گڈری پوش مسلمان یہاں آئے ہیں اس دن سے ہی ہمارے کارو بارٹھپ ہو گئے ہیں ۔الغرض یہ سب شہباز قلندر ؒ کی کرامت تھی ۔راجہ جیر جی جو اس وقت سہون کا حاکم تھااس نے مختلف حیلوں سے آپؒ کو تنگ کرنا شروع کر دیا پھر جب اس نے اپنے نجومیوں اور جادوگروں کے کہنے پر حرام گوشت کے پکوان آپؒ کی خدمتِ اقدس میں بھیجے تو آپؒ کے مرید وہ خوان لے کر جب پیرومرشد کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوتے ہیں۔دریافت کرنے پر بتایا جاتا ہے کہ آج راجہ نے فقیروں کی دعوت کی ہے ۔شیخ نے ایک خوان سے کپڑا اُٹھایا ۔کھانا دیکھتے ہی شیخ کا رنگ متغیر ہو گیا۔پھر چہرے پر غیظ و غضب کے آثار نمایاں ہوئے ۔ہمارا خیال تھا کہ وہ کافر اتنی نشانیا ں دیکھنے کے بعد ایمان لے آئے گامگر جس کی تقدیر میں ہلاکت و بربادی لکھی جاچکی ہو اُسے اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا ۔پھر آپؒ نے جلال میں آکر ایک خوان کو اُلٹ دیا ۔ادھر آپ ؒ نے خوان کو اُلٹا کیا اُدھر راجہ جیر جی کے محل کی بنیادیں اُلٹی ہو گئیں اوروہ اپنے تمام منکرانِ اسلام کے ساتھ زندہ درگور ہوگیااور تمام منکرانِ واحدانیت رزقِ خاک بن گئے ۔الغرض آپؒ کی بے شمار کرامات ہیں جن میں قاضی ٗشہر کے سامنے رمضان کے پہلے آگ میں روٹی کو دبانا اور قاضی ٗشہر کے ہی سامنے عید کے روزاُسی چولہے سے پکی ہوئی روٹی نکالنا،جوناگڑھ کے علاقے میں سالوں سے ایک ڈنڈے اور زنبیل کا گھر گھر جاکر خیرات اور صدقات کا اکٹھا کرناجس کو اُس علاقے کے اولیاء اللہ بھی نہ روک سکے لیکن بزرگوں کی فرمائش پرآپؒ کا اُس ڈنڈے اورزنبیل کو پکڑنااور پھر ایک بزرگ کو وہ زنبیل دینااور دُعا دیناکہ آج کے بعد تمہارا نام زنبیل شاہ ہے۔آج کے بعد تمہارے در سے کوئی بھی خالی نہ جائے اور آج تک اُن کا فیض جاری و ساری ہے اور یہی نہیں ایک ہندو عورت جو کہ کانوگن کے علاقے میں رہتی تھی اور قلندر پاکؒ سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتی تھی ۔آپ ؒ اُس کے گھر کے سامنے راستے میں سر جھکائے ہو ئے اکثر اوقات تشریف فرما ہوتے تھے۔ایک دن اُس عورت کا آپؒ کے دیدار کی خاطر بالکونی سے چھلانگ لگا نا اور آپؒ کا دیدار کرکے دنیا سے رخصت ہو جانا جس کی وجہ سے اُس عورت کا مسلمانو ں کی طرح جنازہ پڑھایا جانا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا جانااور آج بھی عرس کے موقع پر مہندی اُسی عورت کے مزار سے قلندر پاکؒ کے روضہء اطہر پر لائی جاتی ہے۔غور طلب نقطہ یہ ہے کہ اُس عورت نے اپنی ظاہری زبان سے کلمہ نہیں پڑھا تھاتو پھر اُس عورت کا کفن دفن مسلمانوں کی طرح کیسے ہوا ؟اس کا جوا ب یہ ہے کہ ایمان کا تعلق زبا ن سے نہیں بلکہ دل سے جس نے بھی اللہ تعالیٰ کی واحدانیت ،رسولِ خدا ﷺکی رسالت کا اقرا ر اور ایک درویش باصفا و قلند ر کو دل و جان سے مان لیا تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ اُس عورت کو جلایا جاتا ؟اسی نقطہ کو انجمن سرفروشانِ اسلام آج عام کر رہی ہے کہ آؤ لوگو !اس ظاہری زبا ن کے ساتھ ساتھ اپنے دلوں کی خالی دھڑکنوں کو بھی اسمِ ذات اللہ کے ذکر سے جاری و ساری کر لو کیونکہ جب تک زبان کے ساتھ دل بھی تصدیق نہیں کرتا اُس وقت تک منزلِ مقصود کو پانا محال ہے ۔یہی وجہ کہ آج مُرشدِ پاک حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی نے ہمارے دلوں کو اللہ کے ذکر سے جارو ساری کر دیا ہے جب دل ذکرِاللہ سے زندہ وجاوید ہوتاہے تو دل میں رب کی محبت آجاتی ہے جب رب تعالیٰ کی محبت آجائیگی تو محبت رسولﷺبھی آجائے گی تواُس کے نیک بندوں سے بھی پیار ہو جائیگا۔اس لئے سب سے پہلے اپنے دلوں کو اسمِ ذات سے پاک و صاف کرو پھر گھر والا خود بخود گھر تشریف لے آئے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ ذیشان ہے کہ “قلب المومن عرش اللہ،قلب المومن بیت اللہ”یعنی مومن کا قلب میرا عرش ہے اور مومن کا قلب میرا گھر ہے۔مزید فرمایا کہ مجھے آسماں کی وسعتیں اپنے اندد نہیں سما سکتیں لیکن میں بندہء مومن کے دل میں سما جاتاہوں۔
اسکے بعد بارگاہِ قلندرپاک ؒ میں منقبت کا نذرانہ عبدالمنان قادری نے پیش کیا ۔ حضور غوث الثقلینؓ کی بارگاہِ اقدس میں نذرانہء منقبت منصب علی قادری نے پیش کیا ۔مرشدِ پاک حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کی بارگاہِ اقدس میں قصیدہ کی سعادت عبدالعزیزقادری نے حاصل کی۔امیر حلقہ کے فرائض محمد صدیق صداقت نے سرانجام دئیے۔درودوسلام کے بعد اختتامی دعاممبر مجلسِ شوریٰ وحید انور قادری نے کروائی ۔محفل پاک کے ختتام پر لنگرِ غوثیہ کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔
جاری کردہ
شعبہ نشرو اشاعت فیصل آباد

1 2 3 4 5 6 7 8

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان