الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

خصوصیِ محافل محر م الحرام

November 9, 2014

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ)پاکستان ،فیصل آباد کے زیرِ اہتمام گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی محر م الحرام کے مقدس اور بابرکت مہینہ میں سرفروش ذاکرین حکیم ذوالفقار علی (مظفر کالونی)،سیّد اطہر حسین شاہ بخاری(علامہ اقبال کالونی)،محمد صفدر(جہانگیر کلاں)،محمد شہباز قادری(ہجویری ٹاؤن)،ماسٹر محمد ارشد قادری(سیٹلائیٹ ٹاؤن)،محمد اشرف شاھی(ہجویری ٹاؤن)،حاجی تاج انور قادری(کہکشاں کالونی)،محمد ساجد علی قادری(علامہ اقبال کالونی)،عاشق علی قادری(شالیمار پارک )مرکزی پروگرام (آستانہ عالیہ فیصل آباد)،شکیل الرحمن قادری(فتح آباد شرقی)،محمد صدیق ڈان(نلے والا)،ستارالحق قادری(جمیل آباد)،نثار بٹ قادری(چنیوٹ)،زیارت علی (مظفر کالونی)کے گھروں پر خصوصی محافل کا انعقاد کیا گیا۔جن میں نقابت کے فرائض خالد محمود قادری،محمد افضال قادری،ڈاکٹر مشتاق قادری،عبدالعزیز قادری اوراطہر اقبال قادری نے احسن انداز میں سرانجام دئیے۔محفلِ پاک کا باقائد ہ آغازتلاوتِ قر آنِ پاک سے قاری محمد عدیل قادری،عبدالمنان قادری نے کیا۔اسکے حمدِ باری تعالیٰ ،نعتِ رسولِ مقبول ﷺ،منقبتِ امامِ عالی مقامؓ ،منقبتِ غوث الوراءؒ اور قصیدہ ء مرشدِ پاک کی سعادت سیّد اطہر حسین شاہ بخاری،اطہر اقبال ببی،الطاف حسین ،حسان خالد،محمد صابر قادری،حافظ محمد عدیل ،منصب علی قادری،محمد جمیل قادری،عبدالمنان قادری،رحمان فیضی،سیف اللہ ،محمد حسن قادری،عمران الحق قادری،ڈاکٹر ناصر محمود قادری،بابر برادران،ناصر حیدری،محمد آصف نے حاصل کی۔
مقررین حضرات نے امامِ عالی مقام علیہ السلام اور اُن کے 72جان نثار ساتھیوں کی بارگاہِ اقدس میں اپنی عقیدت و محبت کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کاواحداور انوکھا واقعہ ہے کہ اس میں ہر عمر اورطبقے کے افراد شامل تھے۔کربلا کے قافلے کاہر فردایثارو قربانی ،صبر ،تحمل،یقینِ محکم اور نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال پیش کرتا نظر آتاہے۔واقعہء کربلادہشت گردی کے خلاف،ظلم و ستم،ناانصافی کے خلاف،جبرو ملوکیت کے خلاف،حق و سچ،دین و دیانت اورصبرورضاکے اسلحہ سے لڑی جانے والی جنگ ہے جس میں ظالم ،فاسق و فاجراور بے حس حکمران وقتی طور پر تو جیت گئے لیکن ابدی بد بختی وذلت آمیزشکست ہمیشہ کے لئے ان کے مقدر میں لکھ دی گئی اور قیامت تک آنیوالی انسانیت کویہ پیغامِ عظیم دے دیا کہ جب بھی کبھی حق و باطل کا معرکہ درپیش آجائے تو دینِ اسلام کی احیاء و بقا کے لئے اپنی جان تک قربان کر دینا لیکن کبھی بھی باطل کے سامنے اپنے گھٹنے نہ ٹیک دینا۔ امامِ حسین ؑ نے کربلاکے سفر کے شروع میں ہی کہہ دیا تھاکہ اپنے ناناپاک ﷺکی امت کی اصلاح اور’’امرِ بالمعروف ونہی عن المنکر‘‘کیلئے ظالم حکمرانوں کے خلاف قیام کررہا ہوں۔اہلِ مدینہ نے آپؓ کو روکنے کیلئے تجاویز دیں لیکن آپؓنے فرمایا’’میرا جاناٹھہر گیا ہے جو کام مجھے کرناہے وہ یہاں رہ کر نہیں ہوسکتا‘‘۔آپؓ نے حر بن یزید ریاحی کو مخاطب کرتے ہو ئے فرمایا کہ ’’میرے لئے یزید جیسے فاسق انسان کے ساتھ زندگی بسر کرنا موت کی آغوش سے ہزار درجہ بدتر ہے‘‘۔
ان مقدس محافل میں نئے ساتھیوں کو ذکرِ قلب کی نایاب دولتِ عظمیٰ حاجی محمد اویس قرنی ،سیّد اطہر حسین شاہ بخاری،محمد صدیق ڈان نے عطاء کی۔امیر حلقہ اور دعائے خیر و مغفرت محمد افضال قادری،حاجی محمد اویس قرنی ،سیّد اطہر حسین شاہ بخاری،انوارالحق قادری اور ستارالحق قادری،محمد شفیق قادری،حافظ عبدالصمدنے کروائی۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان