الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

خصوصی محافل بسلسلہ ذکر ِ امام حسین

October 6, 2017

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِ اسلام فیصل آباد کے زیر اہتمام محرم الحرام میں امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ اور شہدائے کربلا کی بارگاہ میں خراج ِ عقید ت پیش کرنے کے لیے شہر بھرمیں محافل کا انعقاد کیا گیا ۔ یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوئم حضرت عمر ؓ کے یوم شہاد ت کے سلسلہ میںآستانہ فیصل آباد پر محفل ِپاک منعقد کی گئی ۔
2محرم الحرام کو وحید انور قادری صاحب کے (مرکز ِ ذکر) میں محفل ِ نعت و ذکر اللہ کا اہتمام کیا گیاجس میں صاحبزادہ حماد ریاض گوھر شاھی صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی ۔ اس محفل پاک کا باقاعدہ آغاز تلاوت ِ کلام ِپاک سے کیا گیاجس کی سعادت حافظ محمد بلال نے حاصل کی اس کے بعد بارگاہ ِ رسالت مآب ﷺ میں ہدیہ نعت کا سلسلہ شروع ہو ا اور بالترتیب محمد عدیل قادری ، عثمان سعید ، طلحہ سعید ، احتشام گوھر ، عبدالمنا ن قادری ، شفیع اللہ خاں آف (گکھڑ سٹی) نے اپنے مخصوص انداز میں سرکار ِ دو عالم ﷺ کے حضور نعت کا نذرانہ پیش کیا ۔بارگاہ ِ امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ میں قصیدہ کی سعاد ت عبدالعزیز قادری نے حاصل کی ۔
صاحبزادہ مرشد کریم حماد ریاض گوھر شاھی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ضرور ت اس امر کی ہے ہم اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی پاک کریں کیونکہ جب تک اندر پاک نہیں ہوتا ظاہرکا صاف ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دل کو غلاظتوں ، حسد ،تکبر اورکینہ سے پاک کریں ۔ اس کے بعد صاحبزاد صاحب نے حلقہ ذکر ترتیب دیا اور درود و سلام کے بعد دعا کی اور لنگر تقسیم کیا گیا۔
3محرم الحرام محمد اشر ف صاحب کے گھر ، 4محرم الحرام شیخ نوید قادری صاحب کے گھر ، 5محرم الحرام قاری سعید احمد قادری صاحب کے گھر ، 6محرم الحرام محمد شہباز لودھی صاحب کے گھر، 7محرم الحرام شکیل الرحمن قادری کے گھر، 8محرم الحرام محمد ساجد قادری کے گھر، 9محرم الحرام (مرکزی محفل ) آستانہ فیصل آباد، اور حاجی محمد تاج انور قادری صاحب کے گھر، 11محرم الحرام صفدر علی قادری صاحب کے گھر، 12محرم الحرام محمد صابرقادری صاحب کے گھر، 13محرم الحرام محمد صدیق ڈان صاحب کے گھر، 14محرم الحرام اطہر حسین بخاری صاحب کے گھرپر محافل کا انعقاد کیا گیا۔
ان مقدس محافل میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری ،اطہر حسین بخاری و دیگر نے سرانجام دئیے۔تلاوت ِکلام ِمجید سے محافل کا آغاز کیا گیا۔حمد ِباری تعالیٰ ،نعت ِرسولِ مقبول ﷺ،منقبت امام ِعالی مقام ،منقبت ِغوث الوراء ؓاور آخر پر پیرومرشد حضرت سیّدناریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی کے حضور ہدیہ ٔقصیدہ پیش کیاگیاجس کی سعادت قاری طارق محمود قادری ،قاری غلام مجتبیٰ ،علامہ حسن رزاق ،محمد رفیق قادری ،محمد صابر قادری ،محمد جمیل قادری ،منصب علی قادری ،ڈاکٹر محمد ناصر،قاری محمد عدیل ،محمد فیصل شوکت ،محمد فیصل سلطانی ،افسر علی رضوی،میاں عبدالمنان قادری اور عبدالعزیزقادری ودیگر نے حاصل کی ۔حلقہ ٔذکر ِالٰہی اور دعا حاجی محمد سلیم قادری ،حاجی محمد اصغر قادری اور حاجی محمد اویس قادری نے کروائی ۔درودوسلام کے نذرانے بھی پیش کئے ۔اختتام ِمحافل پر لنگر کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ان پاک محافل میں اہل ِمحبت نے بھرپور شرکت فرمائی اور انجمن سرفروشان ِاسلام کی اس روایت کو بے حد سراہا اور مرشد پاک کی تعلیمات کو بھی بے حد پسند فرمایا کہ اُن کی بدولت یہ سرفروش اہل ِمحبت کے یہاں اہل ِبیت کے حضور نذرانہ ٔعقیدت و محبت پیش کرتے ہیں ہیں اور پیغام ِحسینی اور پیغام کربلا کو پوری شدومد کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ اگر کبھی اسلام کی خاطراپنی اور اپنے خاندان کی جانی قربانی بھی پیش کرنی پڑے تو کبھی اس سے دریغ نہ کرنااور ہر باطل قوت سے ٹکرا جانا اور اسلام کے پرچم کو کبھی سرنگوں نہ ہونے دینا۔یہی کل ایمان ہے اور یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے ۔اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین۔
اس موقع پر جناب مفتی سعید صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا سورۃ آل ِعمران میں اللہ تعالیٰ نے حضور ِپاک ﷺکی اہل ِبیت کی شان کو بیان فرمایا ہے ۔اور حضور پاک ﷺنے ارشاد فرمایا تھا کہ تم 72فرقوں میں تقسیم ہو جائوگے اور اُن میں سے ایک صحیح ہو گااور وہ کون سا ہوگا؟وہ گروہ جو فلاح پانے والا ہے اس کے دووصف بیان فرمائے میرے آقاﷺنے کہ
{” وہ میری سنت پر عمل پیرا ہو گااور دوسرایہ کہ وہ بڑا گروہ ہوگا۔فھوااہل السنت والجماعۃ(وہ اہل ِسنت ہوگا اور جماعت یعنی گروہ پر مشتمل ہوگا)}
شیخ سعدی! ؒبارگاہ ِرب العزت میں دعا کرتے ہیں کہ مولا !”اگر تو نے میر ی دعا قبول نہ کی( میں تجھے اس دعا میں آل ِرسول کا واسطہ دے رہاہوں) تو قیامت کے دن اہل ِبیت کا دامن پکڑ کرشکایت کروں گا”۔ایمان کی تکمیل کے لئے اہل ِبیت کی محبت لازم و ملزوم ہے ۔ایمان پہ مرنے کیلئے اہل ِبیت کی محبت ضروری ہے ۔اگر کوئی چاہے کہ مجھے ایمان پہ موت آئے پارہ نمبر 4رکوع نمبر 2آیت نمبر 1کے آخری جملے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ” اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈروجس طرح ڈرنے کاحق ہے “کردار اور گفتار کو سنوارو۔اس میں بہت فرق ہے ۔گفتار کا غازی بنناکوئی کمال نہیں ،کردار کا غازی بننا بہت کمال کی بات ہے ۔پورااسلام کردار کانام ہے ،صرف گفتار کا نہیں۔آقاﷺکی اپنی ظاہری سیرت مبارکہ دیکھیں 63سالہ زندگی میں 40سالہ دور صرف کردار ہی کردار ہے اور 23سالہ دور حضور ﷺکی پوری تھیوری اور پریکٹیکل کے مجموعے کانام اسلام ہے اور حضورْﷺنے اپنے نبی ہونے کی جو دلیل پیش کی کہ میں نبی ہوں ۔میرے نبی ہونے کی دلیل کیا ہے وہ 11ویں پارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی پیش کی ۔جب حضور ﷺنے مکہ میں اعلان ِنبوت کیاتو مکہ والے سب مل کے آگئے کہ آپ بتائیں آپ جو کہہ رہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں تو آپ ﷺکے پاس کوئی دلیل بھی ہے کہ آپ ﷺاللہ کے نبی ہیں ؟تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے محبوب !ان کو فرمادیں “اے مکہ والو!تمہارے پاس میرے نبی ہونے کی دلیل موجود ہے ۔40سالہ زندگی تمہارے اندر گزار چکا ہوں ۔اب اس 40سالہ دور میں اگر ایک بھی بے وفائی تمہیں نظر آتی ہے۔محمد!سامنے کھڑا ہے انگلی اُٹھائو۔جب تمہیں نظر نہیں آسکتی تو پھر کچھ تو سوچو۔یہی تو دلیل ہے میرے نبی ہونے کی۔تو نبوت کی دلیل کردار تھانہ کہ گفتار۔نبوت کی دلیل کردار بنا ناکہ گفتار بنی۔

مفتی سعید صاحب نے مزید کہا کہ ہم آقاﷺکے غلام ہیں ۔ہم مومن و ایمان والے ہیں۔تو ہمارے ایمان کی دلیل بھی کردار ہی بنے گاتومومن بنیں گے نہ کہ گفتار۔گفتار نہیں بن سکتی ۔اس لئے جب ہم خانوادہ ٔ رسول ﷺکا کردار اپنائیں گے توہم حسینی ہوں گے ۔صرف گفتار سے ،صرف سبیلوں سے ثواب ملتا ہے ۔سب کچھ درست ہے لیکن حسینی بننے کے لئے کردار کی ضرورت ہے جس جس ایمان والے میں یہ کردار ِحسینؑ پیدا ہواوہی رسول ﷺکا غلام بنا۔اس لئے کردار کو اپنی زندگی کا لازمہ بنانے کی کوشش کیجئے ۔آج کے دور میں ہمارا اور مسلمانوں کا بڑا دشمن امریکہ ہے ۔یہاں یہ بات کرنا ضروری ہے کہ اُسے ہمارے ایٹم بم سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔اُس کے پاس ہم سے زیادہ ہیںمگر ایک سچے اور صاحب ِکردار مسلمان سے ۔وہ ہمارے کردار پر حملہ کر رہاہے ۔کچھ سوچو۔ ہم کسی نبی کے غلام ہیں ؟کس نبی کی آل کے غلام ہیں ؟جنہوں نے کردار پیش کیا تھا۔اس لئے کردار اپنانے کی کوشش کریں گے تو پھر اللہ کی بارگاہ میں معززو محترم ہوں گے ۔ پارہ نمبر 4رکوع نمبر 2آیت نمبر 1میں رب العزت نے ارشاد فرمایاکہ” اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈروجس طرح ڈرنے کاحق ہے “رسماّ نہیں کردار کے اعتبار سے ڈرواور دوسرا کام یہ کرنا کہ بس نا مرنا ،نامرنا،نامرنامگر ایمان کے بغیر۔یہ کس طرح کا خوبصورت جملہ ہے کہ پہلے نفی فرمائی پھر استثناء کیا۔نفی بھی کوئی عام نہیں ۔اس میں تین دفعہ تاکید لگائی ۔عربی کا اصول ہے کہ جس لفظ کے آخر میں ن، شدوالی آجائے تو اس میں تین دفعہ تاکید کا معنی ہو تا ہے ۔ضرور ،ضرور ،ضرور۔اللہ زور کیساتھ تاکید لگا کر وہ بات بیان کرنا چاہ رہاہوتاہے ۔تو جہاں مرنے کی بات کی تو فرمایا میرے بندو! ہرگز نا مرنا،نا مرنا،نامرنا مگر ایمان پہ مرنایعنی اگر تمہیں موت آئے تو بس ایمان ہی پہ آئے کیونکہ باقی ایمان سے ہٹ کراگر کسی کو موت آئی اُس سے نامرنا اچھا ہے کیونکہ اُس کی حالت ہی ایسی ہونی ہے کہ اُس کی حالت کو کوئی دیکھنے والا نہیں ہوگا۔مومن کیلئے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اُس کا سانس ایمان پہ نکلے ۔اگر کوئی شخص چاہے کہ مجھے ایمان پہ موت آئے تو اُس کے لئے” محبت اہل ِبیت” ضروری ہے ۔جس کے دامن میں محبت اہل ِبیت ہو گی تو یقینا وہ ایمان پہ مرے گااور جس کے پاس محبت ِاہل ِبیت ہو گی اُس کا ایمان بھی مکمل ہو گا۔ہمیں اپنے بڑوں سے ،آئماء اکرام سے دین کوسیکھنے کی جستجو کرنی چاہیے۔

ایمان کی تکمیل کے لئے محبت اہل ِبیت ضروری ہے اور ایمان پہ مرنے کیلئے بھی یہی نعمت و دولت ضروری ہے ۔حضور پاک ﷺنے اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع پر تمام لوگوں کو تاکیداً ارشاد فرمایاکہ غور کرو اب میں تمہیں بہت ضروری بات کہنے جارہاہوں کہ “میں تم میں دو چیزیں چھوڑکرجارہاہوں ۔اگر ان دونوں سے چمٹے رہو گے ،ان دونوں سے وابسطہ رہوگے،زندگی بھر گمراہ نہیں ہوسکتے ۔سیدھے رہو گے ،بھٹکو گے نہیں ۔بے راہ رو نہیں ہو گے ۔گمراہی کی دلدل میں نہیں پڑو گے ۔ایک اللہ کی کتاب (قرآن )جو مکمل ہو گیا ۔تمہیں وہ دے کے جارہاہوں اور ایک میری اہل ِبیت ہے وہ تمہارے اندر چھوڑ کے جارہاہوں ۔اگر ان دونوں کے ساتھ وابسطہ رہو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ،ہدایت پہ ہی رہوگے تو جس کے پاس یہ دوونوں نعمتیں ہو ں گی ،ایمان بھی مکمل اور زندگی کا اختتام بھی مکمل ۔اگر آپ زندگی میں سب کچھ حاصل کرلولیکن ایمان نصیب نہ ہواور زندگی کااختتام ہوگیاتوسب کچھ رائیگاں گیالیکن اگر دنیاوی طور پر کچھ بھی حاصل نہ کر سکا مگر دولت ِایمان نصیب ہو گئی تو مومن کے لئے اس سے بڑھ کو کوئی نعمت نہیں یعنی اُس کا خاتمہ ایمان پہ ہوگیا۔خانوادہ ٔاہل ِبیت کی محبت زندگی کا لازمہ بنا لو۔جب بھی حضور ﷺکے خانوادے کا نام آئے سر جھکا کے سلام پیش کیا کرو۔اللہ اپنے اور اپنے پیارے محبوب ﷺکی غلامی عطاء فرمائے ۔اپنے پیارے محبوب کے خانوادہ کے ساتھ ہم سب کو دل سے پیار کرنے کی ،محبت کرنے کی ،آپ کے کرداروتعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
حضور داتاصاحبؒ کی لکھی ہوئی کشف المحجوب تصوف کے لئے اثاثی اور بنیادی کتاب ہے ۔عرفاء کے لئے بہت بڑی میراث ہے ۔اس بلند پایا تصنیف میں داتا صاحب ؒ نے اہل ِبیت کے متعلق پورا باب لکھا ہے جہاں حضرت امام ِحسین ؑکابھی بہت تذکرہ کیا ہے وہاں چونکہ امام حسن ؑبڑے ہیں اس لئے اُن کی بابت صرف ایک بات عرض کروں گاجو انہوں نے اس کتاب میں تحریر فرمائی ۔اور فی زمانہ اُس کی بہت اشد ضرورت ہے ۔جب امام حسن ؑکے مصاحب ،متعلقین اور متوسلین آپ ؑکے پاس بیٹھتے تو آپ کیا پیغام دیتے تھے ؟آپ عربی میں ایک جملہ ارشاد فرماتے تو لوگ سہم جاتے ۔آپ ؑارشادفرماتے تھے کہ لوگو!اپنے دل کی خبر لو۔اللہ کا تعلق دلوں سے ہوتا ہے ۔یہ بہت بڑی بات ہے ۔ہمیں اپنے جسموں کی تو خبر ہے لیکن اپنے دلوں کی نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ آپ انجمن سرفروشان ِاسلام کے مرکز پہ جائیں تو اللہ کا نام ایک خاص انداز میں لکھا ہو تا ہے وہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔وہاں آپ کو اللہ اللہ کرنا اور دلوںکیساتھ کرنا دکھاتے ہیں ،سمجھاتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔اس لئے کہ اللہ کے نام جیسا کوئی نا م نہیں۔سورۃ مریم کی ایک آیت میں ارشاد ِباری تعالیٰ ہے ۔جبرائیل ِامین ؑ نے کہا ۔پیارے محبوب !اللہ جیسا کوئی نام تو پوری دنیا میں کسی اور کا ہے ہی نہیں ۔اللہ نام واقعی کسی کانہیں ہے ۔تفسیرمیںمفتی احمد یار خان نعیمی سمیت تمام افراد لکھتے ہیں۔کہ بتوں کوپوجنے والے دنیا میں کتنے بڑے بڑے مشرک آئے ۔اب بھی اس وقت دنیا میں بہت سارے غیر مسلم ہیںاور معبودان ِباطلہ کوپوجنے والے بھی ہیں لیکن اُن بتوں کا نام اللہ کسی نے نہیں رکھا۔حبل ،منات وغیرہ سارے نام رکھے لیکن اللہ نہیں رکھا۔کیا انہیں کوئی روک سکتا تھا نہیں بلکہ اللہ نے رکھنے ہی نہیں دیا(سبحان اللہ )اور کوئی جسارت کر بھی نہیں سکتا۔علماء نے لفظ اللہ پر پوری کتاب لکھی ہے کہ لفظ ِاللہ ہے کیا؟لفظ اللہ کے چارحروف ہیںاور پوری کتاب ہے کہ لفظ اللہ کی اصل کیا ہے ؟تو اصل اور آخری بات جو نہایت قابل ِغوروفکر ہے کہ “اگر اللہ نام جیسا کوئی اور نہیں ہے تو اُس کی “ذات”جیسا کوئی کیسے ہو سکتا ہے ؟نام جیسا رب نے اپنے کوئی بننے نہیں دیاتو اللہ کی ذات جیسا کوئی نہیں بن سکتا۔اس لئے اللہ اللہ ہے ۔اسلئے امام حسن ؑنے فرمایا “لوگو!اپنے دلوں کی خبر لو۔اللہ کا تعلق دلوں سے ہوتا ہے “۔اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے ۔خاندانِ اہل ِبیت کے پیغامات کو سمجھنے کی توفیق دے ۔اُن کی محبت میں مرنا جینا نصیب فرمائے ۔آمین۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان