الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

خصوصی محافل شب بیداری بسلسلہ شب قدر۔ فیصل آباد

July 18, 2015

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشا نِ اسلام (رجسٹرڈ) پاکستا ن،فیصل آباد آستانہ پر رمضان المبارک کی مبارک طاق راتوں میں شب قدر کو حاصل کرنے کیلئے خصوصی محافل کا انعقاد کیا گیا جس میں سینئر سرفروش ذاکرین ،ذمہ دارن اور عوام الناس نے بھر پور شرکت فرمائی ۔صلوٰۃ التسبیح کے بعد قبلہ شاہ صاحب کے خطاب کو بڑی سکرین پروجیکٹر پر دیکھایا گیا جس کے دوران رقت انگیز مناظر بھی دیکھنے کو ملے اور پیرومرشد کی تعلیمات کو عوام الناس تک پہنچایا گیا جس کی عوامی سطح پر بہت پزیرائی ہوئی ۔اسکے بعد محافل حمدو نعت اورذکر لطائف کی خصوصی محافل ترتیب دی گئیں۔مشیر پروگرام کمیٹی محمد افضال قادری ،سابقہ امیر کوٹری محمد نسیم آرائیں اوررکن مرکزی مجلس شوریٰ محمد شفیق قادری نے نقابت کے فرائض سرانجام دئیے ۔ان مبارک اوربابرکت طاق راتوں میں حمدو نعت،مناقب اور قصائدپیش کرنے کی سعادت منصب علی قادری ،ڈاکٹر ناصرقادری ،محمد صابر قادری ،محمدرضوان قادری ،محمد جمیل قادری ،محمد رفیق قادری،منصور احمد ،معیزاحمد ،منیب رامش، شکیل احمد،عبدالعزیزقادری اور عبدالمنان قادری سمیت دیگر سرفروش ذاکرین حاصل کرتے رہے۔حاجی محمد اویس قرنی ،حاجی محمداصغر قادری اور حاجی محمد سلیم قادری نے حلقہء ذکرِ لطائف کو ترتیب دیااور دعائیں کیں اوردرودوسلام پیش کیا گیا۔اختتامِ محافل پر سحری کا خصوصی اہتمام کیاگیا تھا۔
رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔اس ماہ مبارک میں اللہ رب العزت حضور پاک ﷺکی امت پر خاص کرم اور عنایات فرماتا ہے ۔اس ماہ میں ایک رات ایسی ہے جسے لیلتہ القدر کہا جاتا ہے اور وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس شب قدر میں قرآنِ پاک نازل ہوا۔ان خیالات کا اظہار مرکزی مشیر محمد شفیق قادری نے طاق راتوں میں شب بیداری کے سلسلہ میں محافل سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا روزہ سے تزکیہ ء نفس حاصل ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیے کہ کثرت سے اور خلوصِ دل سے اللہ کے ذکر کی بدولت اپنے قلوب کو گناہوں کی آلودگی سے پاک اور صاف کرکے اللہ کے نور سے منور کریں ۔جب قلب منور ہو جائے تو قرآنِ پاک کا ایک ایک لفظ دل میں اتر جاتا ہے ۔اسی کی بدولت نماز قائم ہو جاتی ہے اور زکوٰۃ و حج کی حقیقت بھی عیاں ہو جاتی ہے ۔محمد شفیق قادری نے کہا کہ اللہ ظاہرکو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں کو دیکھتا ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے” اللہ نہ تمہاری شکلوں کو دیکھتا ہے اور نہ تمہارے اعمال کو مگر دیکھتا ہے تو تمہارے دلوں اورتمہاری نیتوں کو ”
حضرت مالک بن دینار ؒ کے پڑوس میں ایک اوباش شخص رہتا تھالوگ اُس سے بہت تنگ تھے ایک دن اکٹھے ہو کر آپ کے پاس آگئے اور اُس بدمعاش کی شکایت کی آپ ؒ جب شکایت لے کر اُس کے پاس گئے تو اُس نے سخت لہجے میں کہا کہ میں حکومت کا بندہ ہوں کسی کو میرے کام میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ۔آپؒ نے فرمایا کہ میں تیری شکایت بادشاہ سے کروں گا اُس نے جواب دیا کہ بادشاہ بہت کریم ہے وہ میری شکایت نہیں سنے گا آپ ؒ نے فرمایا اگر وہ نہیں سنے گا تو میں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کروں گا اُ س نے کہا اللہ تعالیٰ بادشاہ سے بھی زیادہ کریم ہے آپ ؒ یہ سن کر خاموشی سے واپس آگئے ۔پھر جب اُس کی حرکتوں سے لوگ اور زیادہ تنگ ہو گئے تو پھر آپ ؒ کے پاس اُس کی شکایت لے کر حاضر ہوگئے ۔آپ ؒ اُسکو سمجھانے کے لئے گھر سے نکلے تواللہ کی طرف سے آواز آئی “ہمارے دوست کو تنگ مت کرو ”
آپ اُس کے پاس تشریف لے گئے اور راستے میں آنیوالی آواز کے بارے میں پو چھا کہنے لگا “اللہ نے مجھے اپنا دوست کہا ہے “آج سے میں اپنے سارے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردوں گا ۔چنانچہ اپنا سارامال اللہ کی راہ میں خرچ کرکے نامعلوم مقام کی طرف چلا گیا پھر اُس کو کسی نے نہیں دیکھا سوائے مالک بن دینار ؒ کے کہ اُس کی موت کا وقت قریب تھا اور خانہ کعبہ میں کہہ رہا تھا کہ یا اللہ !تو نے مجھے اپنا دوست کہا ہے میں تیری رضا پہ راضی ہوں ۔یہ کہتے ہوئے اللہ کی محبت میں واصل ہو گیا ۔
محمد نسیم آرائیں اور محمد افضال قادری نے کہا کہ پیرو مرشد کی نسبتِ کاملہ کے طفیل ہم پر اللہ رب العزت اور رسولِ پاک ﷺکے بے شمار کرم ہیں جن کا ہم جتنا بھی شکر کریں کم ہے بلکہ ہم ان کا کما حقہ شکر اد ا ہی نہیں کر سکتے ۔جس میں سب سے اہم ذکر قلب اور محفلِ ذکر لطائف ہے جو کہ کسی اور سلسلے والے کو عطاء نہیں ہو ئی اور اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دورانِ محفل ایک لمحے کیلئے اس محفلِ ذکرِ لطائف کو پیارے آقاﷺکی بارگاہِ اقدس میں پیش کیا جاتا ہے اورہر جمعرات کو رات 1بجے منعقد ہو نے والی یہ خصوصی محفل عام 40محفلوں کے برابرفضلیت رکھتی ہے ۔شب قدر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارے پیرومرشد حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ” جب حضورِ پاک صاحبِ لولاک ﷺکی ذاتی روح مبارکہ جو کہ سارا سال رب کے حضور رُوبرو رہتی ہے وہ طاق رات یعنی شبِ قدر میں اس دنیا ناسوت میں تشریف لاتی ہے جس کی بدولت اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس شب کو ہزار مہینوں سے افضل فرمایا ہے ۔”اوراللہ کی طرف سے اپنے پیارے بندوں پر انواروتجلیا ت کی بارش کی جاتی ہے اور ہر ایک کو اس کے ظرف کے لحاظ سے نوازا جاتا ہے ۔رمضان المبارک کی پرکیف رحمتو ں سے صرف وہی لوگ صحیح معنوں میں مستفید ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کو پاک کر لیا ہے اور اپنے دلوں میں اللہ اللہ بسالی ہے ۔جس طرح بارش کے قطرے زمین پر گرتے ہیں تو گندگی والی جگہ پر تعفن پیدا ہو تا ہے لیکن یہی بارش جب پھول پر پڑتی ہے تو وہ ساری فضا کو معطر کر دیتا ہے ۔اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اپنے دلوں کو ذکرِ اللہ سے روشن و منور کرنا پڑے گا اور سینوں سے ہر قسم کی بیماریوں کو نکال کو اس میں عشقِ مصطفی ﷺکو پیدا کرناہوگاجو کہ صرف ذکرِ الٰہی کی بدولت ہی ممکن ہے ۔

رپورٹ:۔محمد رفیق قادری (نمائندہ صدائے سرفروش)فیصل آباد۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان