الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

خصوصی محافل محرم الحرام

October 17, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام(رجسٹرڈ)پاکستان ،فیصل آباد کے زیر اہتمام گزشتہ سال کی طرح امسال بھی امام ِعالی مقام حضرت سیدنا امامِ حسین ؑاور آپ ؑکے جانثار ساتھیوں کی لازوال شہادت کو خراج ِعقیدت پیش کرنے کیلئے فیصل آباد میں مختلف سرفروش ذاکرین کے گھروں میں خصوصی محافل منعقد کی گئیں۔جس کا آغاز یکم محرم الحرام کو آستانہ عالیہ فیصل آباد پر یوم ِشہادت فاروق ِاعظم ؓسے کیا گیا جس میں نقابت کے فرائض اطہر اقبال ببی نے سرانجام دئیے۔اس محفل ِپاک میں حمد و نعت ومنقبت اور قصیدۂ مرشد پاک کی سعادت ڈاکٹرمحمد ناصر قادری،عبدالعزیز قادری اورقاری محمد عدیل قادری نے حاصل کی ۔
نقیب ِمحفل نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہو ئے کہاکہ “حضور ؑنے اللہ تبارک وتعالیٰ سے جمعرات کی شب دعاکی کہ عمر بن خطاب یا عمرو بن ھشام کے ذریعے سے اسلام کوعزت و سربلندی اور قوت وغلبہ عطاء فرما “۔اسی لئے آپ ؓ کو مرادِرسول ﷺکہتے ہیں۔ آپ ؓ کے ذریعے اللہ رب العزت نے اسلام کو فتح دی۔حضور ﷺنے آپؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ “میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا”آپ ؓ کی اہل ِبیت سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ جب آپ ؓکے دورِحکومت میں مدین فتح ہوا تو آپ ؓکے بیٹے عبداللہ بن عمر آئے تو آپ ؓ نے ان کو1000ہزاردرہم دئیے۔تھوڑی دیر بعد امیرالمومنین مسندِخلافت چھوڑکر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے ۔لوگ حیران ہوئے ۔جب سامنے دیکھاتو مصطفی کریم ﷺکی دو نشانیاں جلوہ افروز تھیں تو آپ ؓ نے اُن دونوں شہزادوں کو 20,20ہزار درہم پیش کئے توآپ ؓ کے لختِ جگر نے کہا ۔ابا جان!میں نے جہاد کیا ،زخم کھائے ،میراباپ امیر المومنین!مجھے 1000درہم اور شہزادوں کو بغیر جہاد کئے 20,20ہزار درہم دے دئیے۔تو آپ ؓ کو جوش آگیااور فرمایابیٹا!اب تو ،تو نے یہ بات کرلی ہے ۔خبردار!آئندہ مت کرنا،تجھے معلوم نہیں یہ کون ہیں ؟ان کے ناناامام الانبیاء ﷺہیں ،ان کی ماں سید ۃالنساء ،فاطمتہ الزہراہ سلام اللہ علیہا ہیں اور ان کے باپ سیدالاولیائؓ ہیں ۔اے ابن ِعمر!اگر تو نے بھی 20ہزاردرہم لینے ہیں تو ان کے ناناجیسا نانا،ان کی ماں جیسی ماںاور ان کے باپ جیسا باپ لے آ۔ مت سمجھ کہ تیرا باپ امیرالمومنین ہے ۔اگر ان کا نانا کرم نہ فرماتا تو عمر کہاں اور امارت کہاں؟
جو وی عزت حاصل مینوں ،دان اینہاں دے گھر دا ہر حالت وچ سمجھیں مینوں ،گولا اینہاں دے گھر دا۔
نقیب ِمحفل نے مزیدکہاکہ حضرت عمر ِفاروقؓکی شہادت کاخلاء قیامت تک پورانہیں ہو سکتا۔
اسکے بعد 2محرم الحرام رہائش گاہ غلام فرید قادری(نثار کالونی)،3محرم الحرام رہائش گاہ محمد شہباز قادری(ہجویری ٹائون)،4محرم الحرام رہائش گاہ سیّد اطہر حسین شاہ بخاری(بوٹاچوک،اقبال نگر)،5محرم الحرام رہائش گاہ حاجی تاج انور قادری(کہکشاں کالونی)،6محرم الحرام رہائش گاہ محمد فیصل قادری(مانانوالہ)،7محرم الحرام رہائش گاہ عاشق علی قادری،8محرم الحرام رہائش گاہ جمیل انور ساہی (بٹالہ کالونی)،9محرم الحرام آستانہ عالیہ فیصل آبادپر مرکزی محفل ِپاک بعد نماز ِعصر،9محرم الحرام رہائش گاہ شکیل الرحمن قادری،بعد از نمازِعشاء،10محرم الحرام رہائش گاہ محمد اشرف شاہی (ہجویری ٹائون)بعد از نمازِظہر،11محرم الحرام رہائش گاہ محمد صفدر قادری(جہانگیر کلاں)،12محرم الحرام آستانہ عالیہ فیصل آباد پر ماہانہ محفل گیارھویں شریف حضرت امام ِحسین ؑکی شہادت ِعظیم کے سلسلہ میں منعقد کی گئی ۔14محرم الحرام رہائش گاہ ستارالحق قادری(جمیل آباد)،رہائش گاہ محمد صدیق ڈان (غوث ِ اعظم زون چک نمبر188نلے والا)رہائش گاہ محمد مجید قادری (ذوالفقار کالونی )رہائش گاہ محمدصابر قادری (مظفر کالونی )پر محافل بیاد ِشہدائے کربلامنعقد کی گئیں۔
ٓ ان مقدس محافل میںتلاوت ِکلام ِمجید، ہدیۂ حمد و نعت ِرسول ِمقبولﷺ،مناقب ِامام ِعالی مقام حضرت امام حسین ؑ،مناقب ِدر ِشان ِغوث الورائؓاور قصائد ِمرشد ِپاک حضرت سیّد نا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی باالترتیب قاری طارق محمود قادری،اطہر اقبال قادری،محمد رفیق قادری،ڈاکٹر محمد ناصر قادری،قاری محمد عدیل قادری،فیصل شوکت،محمد رضوان،محمد ناصر چشتی،شاہد میراں،فیصل سلطانی،محمد آصف نقشبندی،منصب علی قادری،طارق محمود روفی،محمد رفیق چشتی،ننھے ثناء خواںمحمد سیف شہباز،احتشام علی،محمد جمیل قادری،عبدالعزیز قادری،عبدالمنان قادری اور دیگر نے اپنے اپنے مخصوص انداز میں پیش کر کے حاضرین ِمحفل کے دلوں میں محبت ِالٰہی،محبت ِرسول ﷺ،محبت ِاہل ِبیت اور محبت ِاولیاء کو مزید فروزاں کیا۔شرکاء محفل کو اجازت ِذکر ِقلب کی عظیم اور نایاب دولت سے نوازا گیا۔اہل ِعلاقہ نے سرفروش ذاکرین کی طرف سے منعقدہ ان مقدس محافل میں بھرپور شرکت فرماکر اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیااور انجمن کے مشن کو سراہا۔
شہدائے کربلا کی یاد میں منعقدہ محافل میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری ،سیّد اطہر حسین بخاری،ڈاکٹر محمد مشتاق قادری اور نسیم احمد آرائیںنے سرانجام دئیے۔شان ِغوث الورائؓاور شہدائے کربلاکی عظیم قربانی پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد شفیق قادری اور حضرت علامہ مولانا عبدالرحمن باروی نے کہا
طاری ہے اہل ِجبر پہ ہیبت حسین ؑکی اللہ رہے یہ شان ِجلالت حسین ؑکی
کٹوا کے سَر گواہی توحید دے گئے بے مثل ہے جہان میں شہادت حسین ؑ کی
بے مثل کیسے ہے ؟آپ نے دنیامیں نہ صرف بے شمار شہید سنے ہیں بلکہ دیکھے بھی ہیں ۔ایک شہید غزوۂ بدر میں ہوا۔ایک شہید غزوۂ حنین میں ہوا۔ایک تبوک میں ہوا۔ایک اُحد کے میدان میں ہوا۔کوئی کہیں پہ شہید ہوا ہے اور ایک شہادت اعلیٰ ہے ۔ارفا ہے ۔بلند ہے۔مگر شہداء میں ایسا شہید نہیں ملے گاجس نے سَر سجدے میں رکھا ہواور جام ِشہادت نوش کیا ہو۔ایسا شہید دنیا نے کبھی نہیں دیکھا۔خود شہید ہیں ۔بابابھی شہید ہیں ۔بیٹا بھی شہید ہے اور بھائی حسن مجتبیٰؓ بھی شہید ہیں ۔یہ تو سارا گھرانہ ہی شہداء کا ہے ۔
نرمی وہی ،خلوص وہی ،ذات بھی وہی ملتی تھی مصطفی ﷺ سے طبیعت حسین ؑ کی
ہمارا تعلق زہرہ سلام اللہ علیہاکے بابا ﷺسے ہے ۔کسی ظاہر پرست سے نہیں ،خدا پرست سے ہے ۔ میں نے جو آیت ِکریمہ بیان کی اُس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتیں عطاء کیں ۔کسی ایک بھی نعمت کا اُس نے نعم البدل نہیںمانگا۔آنکھیں بھی نعمت ہیں ۔پہلے کرم کی بات کرتے ہیں اُن کے لئے بھی ہے اور اولاد کیلئے بھی ہے۔ابھی آپ نے کلمہ شریف ،قرآن کا سب کا سنا ہے ۔یہ جملہ سنیں ایمان تازہ ہو جائے گا۔اللہ نے ہاتھ ،کان اور آنکھیں باہر رکھیں ہیں ۔دل اکیلا کیوں اندر رکھا ہے ؟اللہ فرماتا ہے ۔ہاتھ ،کان اور آنکھیں تیرے کام کی اور دل میرے کام کا۔کس لئے دل اندر رکھاہے ؟۔ساری چیزیں تیرے استعمال کی ہیں اور دل میرے استعمال کا ہے ۔اللہ نے کسی نعمت کا اجر نہیں مانگا۔بے شمار نعمتیں اُس نے دی ہیں ۔لا محدود ،اَن گنت نعمتیں دی ہیں ۔فرمایااگر میری نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے ۔ اللہ کتاب ِمبین میں ارشاد فرماتا ہے /ترجمہ :۔تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟کتنی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟لامحدود نعمتیں دینے والا،خالق ہوکر ،مالک ہو کر فرماتا ہے ۔”میرے محبوب کے قریبیوں سے پیار کرو”۔کون قریبی ہیں ؟امام ترمذیؒنے نقل کیا ہے۔کہتے ہیں ،قریبی کون ہیں ؟
نبی دوجہاں ،روح کائنات ،جانِ جانِ کائنات ،بزم ِزینت ِکائناتﷺنے مولائے کائنات علی المرتضی ؓ کو بلا یا ،سیّدہ ٔکائنات سلام اللہ علیہا کو بلا یا ۔امام حسن ؑکو بلا یا اورامام حسین ؑکو بلا یا۔بلا کر اپنی چادر کی لپیٹ میں لے لیا ۔لپیٹ میں لے کر آسما ن کی طرف ہاتھ اُٹھائے ۔”اے اللہ!یہ میری اہل ِبیت ہے ۔میں اِن سے پیار کرتا ہوں ،توبھی اِن سے پیار کر۔جو اِن سے پیار کرتا ہے تو اُن سے بھی پیار کر۔آئیے صحابۂ اکرام کی اہل ِبیت سے محبت و عقیدت ملاحظہ کرتے ہیں ۔خلیفہ ٔ اوّل صدیق ِاکبر ؓسے یہ بات شروع کرتے ہیں ۔عمر ِفاروق ؓسے پوچھتے ہیں ۔پھر میں آپ کو چشتیوں کے شہنشاء کی بارگاہ میں لے کر جائوں گا۔حضور رحمت ِدوجہاں ﷺحسنین کریمین کا کبھی رخسار ،کبھی پیشانی ،کبھی حلق چومتے تھے ۔صدیق ِاکبر ؓ دیکھ رہے ہیں ۔ایک دن نبی دوجہاں ﷺ نے امام ِحسین ؑ کو اُٹھایا ۔آپ ؓ کے بچپن کا زمانہ ہے ۔کس کو اُٹھایا ہے ؟حسین ؑہے جس کو اُٹھایا ہے ۔نبیﷺ کے کندھوں پر سوار ہے ۔نبیوں کے شہنشاہ کے کندھے ہیں اور ایسا سوار ہے کہ کائنات نے نہ سوار دیکھا اور نہ سواری دیکھی ۔بے مثل ہے حسین ؑ۔میرے امام کے پائوں مبارک والی ٔ دوجہاں کی داڑھی مبارک کے ساتھ مَس ہو رہے ہیں ۔ قدم حسین ؑکے اور داڑھی مبارک میرے آقاﷺکی ۔جب نیچے اُترے تو حضرت صدیق ِاکبر ؓ نے حضرت امام حسین ؑ کے قدم چومے ۔حضور سرور ِدو عالم ﷺفرماتے ہیں کہ “میں کبھی اپنے ہونٹوں سے کبھی ہاتھ چومتا ہوں ،کبھی رُخسارچومتا ہوں ۔کبھی پیشانی چومتا ہوں ،کبھی حلق(گلے)کو چومتا ہوں ۔تم میرے نواسے کے قدم کیوں چوم رہے ہو؟۔عرض کرتے ہیں آقاﷺ!یہ قدم آپ ﷺکی داڑھی مبارک کے ساتھ مَس ہو گئے ہیں ۔صدیق ؓقدم نہ چومے تو اور کیا چومے؟
خلیفہ ٔدوم امیرا لمومنین !میرے آقاﷺکی مراد بھی ہیں اور میرے آقاﷺکے مرید بھی ہیں ۔عمر ِفاروق ؓ کا دور مبار ک ہے ۔آپؓ ؓاپنے کمر ے میں تشریف فرما تھے ۔امام حسن پاک ؓاور حضرت عمر ؓکا بیٹا عبداللہ بن عمر ؓدروازے پر کھڑے ہیں ۔اندر نہیں جارہے ۔امام حسن ؓ نے دیکھا کہ امیر المومنین ؓکا بیٹا باہر کھڑا ہے ۔اگر بیٹا اندر نہیں جا سکتا تو میں بھی نہیں جاسکتا ۔آپ ؑواپس چلے گئے ۔امیر المومنین ؓکو خبر ہو ئی کہ امام حسن ؓ آئے اور چلے گئے ۔آپؓ نے کرسی چھوڑی،اقتدار چھوڑا۔دوڑکر امام کے پاس چلے گئے ۔جا کر کہتے ہیں امام پاک آپ ؑآئے تو سیدھا آجاتے ۔فرمایا جب آپؓکا بیٹا باہر کھڑا تھا تو میں اندر کیسے آتا؟۔عرض کی آپ ؑآجاتے ۔امیرا لمومنین کا عقیدہ سنیے۔آپ ؓ نے عرض کیا یہ جو میرے سَر کے بال ہیں ۔اللہ کے بعد آپ ؑنے اُگائے ہیں ۔اگر اس زمانے میں عمر کو عزت ملی ہے تو آپ ؑکی وجہ سے ملی ۔اس سے آپ صحابۂ اکرام کی اہل ِبیت سے محبت و عقیدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
وہ عظیم عزت جو اللہ نے عطاء فرمائی ۔سالوں بعد امام شہید ہو گئے ۔چشتیوں کے شہنشاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ صدیوں بعد پیدا ہوئے ۔90لاکھ ہندوئوں کو کلمہ پڑھانے والے۔جب آپ آئے تو حسین ؑکے بارے میں کسی نے پوچھا۔تو قلم کو بھی اُٹھایا ،زبان کوبھی ہلایااور دل کو بھی اور رہتی دنیا تک آنے والوں کے لئے یہ ترانہ سجایا۔کہا جس کو یہ نام پسند آئے وہ کہے۔میں تو اکثر کہتا ہوں
دل کی دھڑکن ،دل کا چین یا حسین ؑیا حسین ؑ
میں نے آپ کی آواز کو اجمیر پہنچانا ہے ۔پھر وہاں سے بغداد، بغداد سے سیدھا کربلا،کربلا سے کوفہ ،کوفہ سے مدینہ منورہ میں ۔سب بولو۔
دل کی دھڑکن ،دل کا چین یا حسین ؑ یا حسین ؑ
خواجہ ٔ خواجگان ؒنے ارشاد فرمایا:۔
شاہ است حسین ،بادشاہ است حسین دیں است حسین ،دین ِپناہ است حسین
سر داد نہ داد ،دست دَر دست ِیزید حقّاکے بنائے لاالہ است حسین
مزید کسی نے کیا خوب کہا ہے
لا الہ تو پڑھ دیا اب لے مزہ تاثیر کا لا الہ کی تہہ کے نیچے خون ہے شبیر ؓکا
لاالہ کو پڑھنے والو!لا الہ تو بچ گیا گھر لُٹ گیا شبیر کا
عزیز ساتھیو!دس محرم الحرام کا دن ہے ۔حضرت امام ِعلی اصغر ؓ،باپ کا نام امام حسین ؑ،ماں کا نام ہے اُم ِلیلیٰ۔بہت عظیم ماں،عظیم باپ ہے ۔عظیم باپ کا بیٹا بھی عظیم ہے ۔یہ کون ہے ؟ہم شکل ِنبی ہے ۔حسین و حسن ملیں تو شکل ِنبی بنے۔علی اکبر تنہا ہوں تو شکل ِنبی بنے۔میرے امام نے فرمایا ۔صبح کا وقت ہے اذان پڑھو۔کو ن علی اکبرؓ ؟جس کا نام بھی اکبر ہے اور اکبر کانام لے رہا ہے ۔کو ن اذان پڑھ رہا ہے ؟۔کوئی عام آدمی اذان نہیں پڑھ رہا۔کربلا کی سَرزمین کے اوپر جب اذان کی آواز کو بلند کیا ۔اُدھر چیخ و پکار شروع ہو گئی ۔ادھر اذان پڑھ رہے ہیں ۔فرمایا ۔گھبرائونہیں ۔زندگی کی آخری اذان دینے لگا ہوں ۔یہ آج آخری اذان ہے ۔اتنی درد بھری آواز کائنات میں نہ کسی نے سنی ہے اور نہ کوئی سنے گا۔جو پرندے اُڑ رہے تھے یا درختوں کے جھرمٹ میں بیٹھے ہو ئے تھے ۔وہ بھی کان لگا کر کہنے لگے ۔آج تک ایسی آواز نہیں سنی ۔بلال کی آوا ز بھی سنی ہے ۔بڑے بڑے مواعظ بھی سنے ہیں ۔پتھروں میں اذانیں دینے والے بھی سنے ہیں ۔کربلا میں اذان پہلی مرتبہ سنی ہے ۔بڑی بڑی آوازیں سنیں ہیں۔انداز سنے ہیں لیکن اس کا نرالہ انداز ہے ۔جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو چلتا پانی بھی رُک گیا ،ٹھہر گیا۔بابا اذان سن رہا ہے اور بیٹا اذان دے رہا ہے ۔آج کا اٹھا رہ سال کا نوجوان جس کو مسجد کی عظمت کا پتہ نہیں ۔ امام کی عظمت پر قربان جائیں ۔ہر ہر شہزادے کو اذان بھی آتی ہے ۔نماز بھی آتی ہے ۔کلمہ بھی آتا ہے ۔قرآن بھی آتا ہے اور ہر مسلمان کا احترام بھی آتا ہے ۔ایسا امام سبحان اللہ۔اذان پڑھی ۔صدا بلند ہوئی۔کہا بیٹاسنتیں ادا کرو۔سنتیں ادا ہوئیں ۔کہا بیٹا میں نماز پڑھاتا ہوں ۔پیچھے سے تکبیر پڑھو ۔اما م نے جماعت کروائی ۔بیٹے نے تکبیر پڑھی ۔اللہ اکبر ۔پانی بھی نہیں مگر نماز پھر بھی ہو رہی ہے ۔(کیا آپ کے گھر میں پانی نہیں ہوتاجو آپ نماز نہیں پڑھتے؟آپکو بھی پتہ ہونا چاہیے ۔آج کی اس محفل شہدائے کربلا سے کیا پیغام لے کے جانا ہے ؟کیا اما م حسین ؑنے کربلا میں نماز چھوڑی ؟نہیں نا۔تو پھر آپ کیوں نہیں پڑھتے؟اِس کا جواب کون دے گا؟)اما م کا کردار اپنا لو ۔اللہ کی قسم !اگر حسینی ہو تو نماز کو نہ چھوڑوکیونکہ 28رجب سے لے کر 10محرم تک اس کٹھن اور انتہائی تکلیف دہ تاریخی سفر کے دوران آپ ؑاور آپ ؑکے جان نثار ساتھیوں نے ایک بھی نماز نہیں چھوڑی۔اسی لئے سرکار گوھر شاھی فرماتے ہیں کہ اللہ اللہ کرنے والوں کو شیطان نماز سے روکتا ہے اور نماز پڑھنے والوں کو اللہ اللہ سے ۔جب کہ ہم کہتے ہیں کہ نماز اور ذکر اکٹھا ہو گا تو ولایت شروع ہو جائے گی ۔نماز اور ذکر(ذکرِالٰہی ) دین ِاسلام کے دو پَر ہیں اور پرندہ ایک پَر کے بغیر اُڑ نہیں سکتا ۔اسی لئے انجمن سرفروشان ِاسلام کا پیغام بھی یہی ہے کہ نماز ،روزہ بھی کرو اور ساتھ میں ذکر بھی کرو تو دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو جائو گے ۔

pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-2 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-3 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-4 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-5 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-6 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-7 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-8 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-9 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-10 pix-khsusi-mahafil-muharram-ul-haram-asi-fsd-1

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان