الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

خصوصی محافل محر م الحرام فیصل آباد

November 18, 2013

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیرِ اہتمام امامِ عالی مقام حضرت امام حسین ؑ اور انکے جانثار ساتھیوں کی عظیم اور لازوال شہادت کو خراجِ عقیدت و محبت پیش کرنے کیلئے فیصل آباد میں سرفروش ذاکرین کی رہائش گاہوں پر خصوصی محافل بسلسلہ ء محرم الحرام درج ذیل شیڈول کے تحت منعقد کی گئیں ۔جن میں نقابت کے فرائض سابقہ ناظم فیصل آباد محمد خالد قادری،مشیر پروگرام کمیٹی محمد افضال قادری،مشیر نشرواشاعت عبدالعزیز قادری،اطہراقبال قادری نے سرانجام دئیے۔ان محافل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے قاری محمد طارق قادری،محمد بلال قادری،حافظ محمد عثمان عطاری نے کیااورحمدِ باری تعالیٰ کی سعادت باالترتیب منصب علی قادری،محمد رضوان قادری،محمد صابر قادری،لیاقت علی قادری اور اطہر اقبال قادری نے حاصل کی۔اسکے بعد حضور پر نور ،شافع یوم النشور، حضور تاجدارِ مدینہ ،سر ورِ قلب و سینہ ،رحمتِ مصطفیِ حضرت محمدِ مصطفی ﷺکی بارگاہِ بے کس پناہ میں اسامہ شبیر،واحد علی ،فیصل شوکت،محمد زبیر قادری،افسر علی رضوی،غلام مصطفی،صغیر صدیقی،محمد ندیم مصطفائی،سیف الرحمن،عبد اللہ،محمد کاشف،ابو بکر اور اقبال میراں سمیت عبدالعزیز قادری نے عقیدت ومحبت کے نذرانے پیش فرمائے۔
عالمی مرکزی امیر حضرت علامہ مولانا سعید احمد قادری نے9محرم الحرام کو آستانہ فیصل آباد پر شہدائے کربلا کے حضور نذرانہء عقید ت پیش کرنے کے سلسلہ میں منعقدہ خصوصی محفلِ پاک سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا شاعرِ مشرق ،حکیم الا مت حضرت علا مہ محمد اقبال ؒ نے خاتونِ جنت ،امامِ عالی پاک کی والدہ ماجدسیّدۃالنساء العالمین ،سارے جہاں کی عورتوں کی سردارکے بارے میں ارشاد فرمایاکہ \” مریم ازیک نسبت عیسی ؑ عزیز،از سہَ نسبتِ حضرتِ زہرہ عزیز\” حضرت مریم سلام اللہ علیہاکوبڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے ۔صرف ایک واسطے سے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ماجدہ ہیں لیکن خاتونِ جنت کی تین بڑی فضیلتیں ہیں فرمایا
1۔ کملی والے کی نورِ چشم ہیں، آنکھوں کا نور ہیں،لختِ جگر ہیں جو اوّلین و آخرین سب کے امام ہیں۔
2۔ مولا علی ؑ مشکل کشاء کی زوجہ ہیں۔
3۔امامِ عالی مقام قافلہ سالارِعشق ہیں۔
سرکار نے ہمیں جو ذکر قلب عطاء کیا اس کا مقصد یہ ہے کہ دلوں کو اللہ کے ذکر سے پاک کرنااور اللہ کے نام کو دلوں میں بساناتاکہ دلوں میں عشق پیدا ہو جائے۔ یا د رکھیں عشق کا تعلق دلوں کے ساتھ ہے زبانوں کے ساتھ نہیں ،نا تحریروں کے ساتھ ہے۔تحریری اور زبانی عشق و محبت کے دعوے کوفے والوں نے بڑے کیے تھے۔ امامِ عالی مقام ؑ کو خط لکھے لیکن آخر میں کیا کیامیدانِ کربلا میں امامِ عالی مقام کو اکیلا چھوڑ دیا کوئی کوفی نہیں آیااوراہلِ کوفہ یزید کے لشکر کے ساتھ تھے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنہوں نے دعوے کیے تھے، خط لکھے تھے ،میدانِ کربلا میں وہ ہی امام عالی مقام کے مقابلے میں کھڑے تھے اور ایسے منظر بھی کربلا کی تاریخ میں محفوظ ہیں جب امام عالی مقام نے ان لوگوں کو مخاطب کر کے اپنا تعارف کروایا کہ میں کون ہوں ؟ کس کانورِ نظرہوں،کس کا لختِ جگر ہوں اورکس کا نواسہ ہوں تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن دلوں میں محبت نہیں تھی جب دلوں سے اللہ اور سول ﷺکی محبت نکل جاتی ہے تو دلوں میں خوف آجاتا ہے ڈر آجاتا ہے وہ ڈرے ہوئے تھے خوف زدہ تھے یزید سے امامِ عالی مقام کے سامنے رو تو رہے تھے لیکن امام کا ساتھ نہیں دیا ۔علامہ اقبال ؒ نے فرمایا \”موسیٰ و فرعون ، شبیر و یزید ۔ ایں دو قوت از حیات آید پذیر \” ترجمہ :۔\” موسیٰ کے مقابلے میں فرعون اور حسین ؑ کے مقابلے میں یزیدیہ دو قوتیں ہیں دو طاقتیں ہیں دو کردارہیں،جو ہر دور میں ،ہر زمانے میں مو جودہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بر سرِ پیکار ہوتے ہیں\” ۔فیصلہ ہم نے کرناہے کہ ہم نے ساتھ کس کردار کا دیناہے؟ یہ دو کردار ہیں جو ازل سے ابد تک رہیں گے ،حسینی کردارابراہیم ؑ کی شکل میں آیا اور یزید ی کردار نمرود کی شکل میں آیا ۔کبھی حسینی کردار موسیٰ کی شکل میں آیا اور یزیدی کردار فرعون کی شکل میں آیااور یہ سلسلہ چلتے چلتے آخرحسینی کردار امام مہدی ؑ کی شکل میں آئے گا اور یزیدی کردار دجال کی شکل میں آئے گا۔دولت اور دنیا کے پجاریوں نے امامِ عالی مقام ؑ کا ساتھ نہیں دیا ،بُلا کر ساتھ چھوڑ دیا کسی کوکوفے والوں کا نام یاد نہیں ،وہ کہاں گئے؟ کوئی نام نہیں جانتا یزیدیوں کے ۔حسین ؑ کو دنیا سلا م کرتی ہے۔یزید کا اگر کوئی نام لیتا بھی ہے تو لعنت کے ساتھ لیتا ہے۔واقعہ کربلاہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے اس میں کو فی کردار بھی ،یزیدی کردار بھی ہے اور حسینی کردار بھی موجود ہے اور حُر کا کردار بھی موجود ہے ۔کامیاب وہ ہے جو حسینی کردار کا ساتھ دے یا حُر کا کردار اپنائے۔انہوں نے تا کید کی کہ ذاکرین کو درود شریف ،محفلِ ذکرِ لطائف اور ماہانہ گیارھویں شریف میں بھر پور شرکت کرنی چاہیے تاکہ ان محافل کے ذریعے ہم اپنے قلوب و اذہان کو روشن و منور کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھو اور غور کرو!اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھو ۔مرشدِ پاک نے ہمیں وہ لازوال دولتِ عظمیٰ عطاء کی ہے اگر ہم اس پر عمل کریں تو ہم آنے والے دور میں آخریِ امامِ زمانہ امام محمد مہدی ؑ کے ساتھ ہو ں گے۔ آخر میں شہدائے کربلاکے حضور اتنا عرض کروں گا
میرا سلامِ عقیدت ہو اُس گھرانے کو حسین ؑ پال کے دیا جس نے زمانے کو
حضرت غوث الاعظم سرکارؓاور امامِ عالی مقام حضرت امامِ حسین ؑ کے حضورنذرانہء منقبت و حضور قبلہ عالم حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی کے حضور قصیدہ کی سعادت باالترتیب احسن عدیل،ناصر حیدری حاجی تاج انور قادری،محمد رفیق قادری،نعمان فیضی،رحمان فیضی، محمد حسن قادری، محمد جمیل قادری،محمد شہباز قادری ، عبدالعزیز قادری اورعبدالمنان قادری نے حاصل کی۔نئے ساتھیوں کی کثیر تعداد کو اجازتِ ذکرِ قلب کی نایاب دولت عظمیٰ حاجی محمد اویس قرنی،محمد وسیم بٹ اور محمد جمیل قادری نے عطاء کی۔امیرِ حلقہ کے فرائض حاجی محمد سلیم قادری،محمد صدیق قادری،محمد ناصر قادری،محمد ساجد بٹ سرانجام دئیے۔ان محافل میں درودوسلام کے بعدشہدائے کربلا کی بارگاہِ اقدس میں فیض محمد فیضی اورحاجی محمد اویس قرنی نے خصوصی دعائیں کیں۔

1

2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان