الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

خصوصی محفلِ پاک بسلسلہ سالانہ برسی وصی محمد قریشی شہید

November 6, 2015

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ) فیصل آباد کے زیرِ اہتمام آستانہ عالیہ پر خصوصی محفلِ پاک بسلسلہ سالانہ برسی وصی محمد قریشی شہیدمنعقد کی گئی جس میں محمد شفیق قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وصی بھائی شہیدکی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔جو جو مرشد کے در سے وابسطہ ہو گیا وہ کہتا ہے کہ جتنا سرکار کا مجھ پہ کرم ہے کسی اور پہ نہیں ہر بندہ یہ کہتا ہے کہ جو مرشد نے مجھے دیا ہے وہ کسی کو نہیں دیاحالانکہ اُن کا کرم ہر ایک پر بے شمار ہے جس کا جتنا ظرف ہے اسکے ظرف سے بھی بڑھ کے اُس پر مرشدِ پاک کا کرم ہے ۔
جتنے روحانی بزرگ ہوئے ہیں انہوں نے اپنے خلفاء سے کام لیا۔کسی نے تنظیم نہیں بنائی لیکن ہمیں(حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی ) انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ)بنانے کا حکم دیاگیااس لئے ہم نے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے تنظیم بنائی اور سرکار نے فرمایا پہلے ولی خلفاء سے جو کام لیتے تھے وہی کام ہم انجمن کے عہدیداران سے لیں گے۔پھر جب تنظیم بنائی چار(4) بندے تھے جس میں ایک روشن نام،ایک چمکتا ہوا ستارہ،شہیدِ انجمن سرفروشانِ اسلام وصی محمد قریشی شہید کا بھی ہے ۔ اس ماہِ محرم ،ماہِ مقدس جس میں نواسہء رسول ﷺاور جان نثار انِ حسین ؑ قربانی دے کر سرخرو ہو ئے ہیں اسی میں وصی محمد قریشی کی شہادت ہوئی ۔
مثلِ شبیرؓ کو ئی حق کا پرستا ر تو ہو                            دورِ حاضر میں کسی کا وہ کردار تو ہو
مثلِ حیدر کی طرح پیکرِ ایثار تو ہو                              ایسا دنیا میں کوئی قافلہ سالار تو ہو
آج بھی گرمی بازارِشہادت ہے وہی                               کوئی آگے تو آئے کوئی خریدار تو ہو
عافیت کے لئے درکار ہے دامانِ حسین ؑ                         ظلم کی دھوپ میں سایہء دیوار تو ہو
عین ممکن ہے نصیر آلِ محمدﷺ کاکرم                          کوئی اس پاک گھرانے کا نمک خوار تو ہو
جب بھی سرکار کے سامنے وصی بھائی کا نام لیا جاتا تھا تو قبلہ مرشدی کا اندازِمحبت دیدنی ہو تا تھا۔سالارِ سرفروش صدرِ انجمن محمد عارف میمن کو مشن میں لانے والے بھی وصی محمد قریشی شہید ہی تھے ۔حاضرینِ محترم وصی بھائی کو پنجاب کنونشن کی دعوت دی گئی تو وصی بھائی نے فرمایاکہ اگر میں نہ آؤں تو تم پروگرام کر لو گے جواب میں کہا گیا کہ دلہا کے بغیرکیا بارات سجے گی ؟تو وصی بھائی نے اس تاریخی کنونشن میں شرکت کی اور فرمایا کہ سرکار شاہ صاحب نے پروگرام کو پسند فرمایا ہے اور سب ذاکرین کو مبارک باد دی ہے ۔وصی بھائی نے مشن کی جو خدمت کی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔صدائے سرفروش اخبار جب شروع میں نکلتا تھا تو وصی بھائی اپنے ہاتھوں سے کٹنگ کر کے ٹریسنگ کیا کرتے تھے اور جو رہ جاتاوہ پوائنٹر سے لکھنا کہ بقیہ اتنے صفحے پر۔اس طرح انہوں نے صدائے سرفروش کیلئے تگ و دو کی ۔وصی بھائی کے جب بیٹا پید اہو اتو میں حیدر آباد گیاتو صدائے سرفروش کے آفس چلا گیا تو وہاں وہ اخبار کی پیسٹنگ کررہے تھے۔ پیسٹنگ میں اس قدر مگن تھے کہ انہیں یہ بھی ہوش نہیں تھاکہ انہیں چائے یا پانی پوچھنا ہے ۔جب پیسٹنگ وغیرہ سے فارغ ہوئے تو معذرت کی کہ میں پیسٹنگ میں اس قدر مگن تھا کہ آپ سے چائے پانی نہیں پو چھ سکا۔میں نے وصی بھائی سے کہا کوئی بات نہیں یہ کام زیادہ ضروری تھا۔وصی بھائی صاحبِ کشف تھے اور صاحبِ کشف بڑے محتاط ہو تے ہیں ۔وصی بھائی کوئی بات بتاتے نہیں تھے۔جب کوئی خاص بات ہوتی تو سرکار فرماتے کہ وصی بتاؤ کہ لیلتہ القدرہوئی اور رات کو تم نے کیا دیکھاتومرشد کے سامنے کہتے کہ لیلتہ القدرہے حضورِ پاک ﷺتشریف لائے ،صحابہء اکرام اولیائے اکرام کی جماعت ہے اورپورا آستانہ بقعہء نور بنا ہو اہے ۔یہ بتاتے وصی بھائی کی جو طبیعت ہو تی تھی وہ بتانے کے قابل ہے۔
اس دنیا میںآنے کے بعد ہر کسی نے مرنا ہے لیکن شہید کے جسم کو قبر کی مٹی نہیں کھاتی۔جنگِ اُحد میں جب شہداء شہید ہو ئے ۔اُ نکی قبروں کو جب دوبارہ کھولا گیا تواُن کے کفن تازہ تھے قبر کی مٹی نے اُن کے جسم کو نقصان نہیں پہنچایا۔جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے تو قرآنِ پاک میں ارشادِباری تعالیٰ ہے ۔’’جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں اُن کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں ‘‘بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں اُن کو مردہ بھی نہ سمجھو۔وہ زندہ ہے بلکہ اللہ کے دستر خوان سے رزق کھاتے ہیں۔
اکثر ہم نے دیکھا کہ ہم رمضان شریف میں محافل کرتے تھے ۔محفل کر کے آنا صبح کا کھانا کھایا ہوا ہے رات محفل کرنی ۔محفل کے بعد بھوک ختم ہوجاتی تھی توکھانا ویسے ہی کھا لینا لیکن تمنا نہیں ہوتی تھی۔اس لئے کہ محفل پہ اللہ نے اتنا کرم کیا ہوتا تھاکہ قلب و روح کو غذامل جاتی تھی جسم کو غذاکی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی ۔اس محفلِ پاک میں نئے ساتھیوں کو اجازتِ ذکرِقلب حاجی محمد اویس قادری نے دی۔حلقہء ذکر امیرِ فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے ترتیب دیا ۔درودوسلام کے بعدڈاکٹر محمد مشتاق قادری نے وصی بھائی شہید کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعاکروائی اور ملکِ خداداد پاکستان کی ترقی و خوشحالی ،امن وامان کے قیام کیلئے دعائیں کی گئیں ۔

06-11-15 Salana Barsi Wasi Bai (1)

06-11-15 Salana Barsi Wasi Bai (6) 06-11-15 Salana Barsi Wasi Bai (2) 06-11-15 Salana Barsi Wasi Bai (3) 06-11-15 Salana Barsi Wasi Bai (4) 06-11-15 Salana Barsi Wasi Bai (5)

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان