الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

رمضان المبارک میں طاق راتوں کی خصوصی محافل

July 5, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام(رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیر ِاہتمام آستانہ عالیہ فیصل آباد پر ہر سال کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کی طاق راتوں میں شب قدر کی مقدس رات کو تلاش کرنے کے کیلئے خصوصی محافل ِنعت و ذکر لطائف کا انعقاد کیا گیا۔رات 11بجے صلوۃ التسبیح کے بعد سرکار شاہ صاحب کے خطاب کی ویڈیوپروجیکٹر(بڑی سکرین )پر دکھائی گئی جس کو بے حد سراہا گیا۔سرفروش ذاکرین اور عوام الناس قبلہ شاہ صاحب کی زبان ِاطہر سے نکلے ہوئے گوھر ِنایاب سے مستفیض ہو ئے۔اسکے بعد محفل ِنعت و ذکر ِلطائف منعقد کی گئی ۔بعدازاں تمام شرکاء محفل کے لئے سحری کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔
ان محافل میں نقابت کے فرائض محمد شفیق قادری،محمد افضال قادری،محمد جمیل انورساہی ،محمد نسیم آرائیں،ڈاکٹر محمد مشتاق قادری اور محمد صدیق صداقت نے سرانجام دئیے۔ان محافل میں حمد و نعت و مناقب اور قصائد ِمرشد ِپاک کی سعادت باالترتیب منصب علی قادری،عبدالعزیز قادری،بشارت سردار،علی محسن،محمد رفیق قادری،محمد صابر قادری،محمد رضوان اشرف ،محمد جمیل قادری ،محمد خالد قادری ،زین بن ارشد اور محمد رضوان گوھر نے حاصل کی۔
مقر رین حضرات نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا”شب قدرایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے”۔ “جس نے ایمان کے ساتھ اور نیکی کی امید رکھتے ہوئے لیلۃ القدر میںقیام کیاتو ا س کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے”۔(صحیح بخاری)۔حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رمضان کا مہینہ آیا تو حضور ﷺنے ارشاد فرمایاکہ “تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا ساری ہی خیر سے محروم رہ گیااورکوئی اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقتا ً محروم ہی ہے”۔انہوں نے مزید کہا کہ ان پانچ طاق راتوں میں شب بیداری کرکے لیلۃ القدر کو تلاش کرنا چاہیے اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺاپنی ذاتی ارواح کے ساتھ اس دنیا ناسوت میں تشریف لاتے ہیں اور اپنے عشاق،دیوانوں،مستانوں اور پروانوں کو اپنی رحمت ِبے کراں سے نوازتے ہیں اوراپنے دیدار ِپر انوار سے مشرف فرماتے ہیں ۔محمد نسیم آرائیں نے 29ویں شب کواپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس رات کوعبادت وریاضت،حمد و نعت و مناقب اور مرشد پاک کی شان بیان کرنے کا مقصد اپنے قلوب کو اللہ تبارک وتعالیٰ ،سرکار ِدوعالم ﷺ،غوث ِپاک ؓاور اللہ تعالیٰ کے نیک و برگزیدہ بندوں اولیاء اکرام کی محبت سے سرشار کرنا ہوتا ہے اور سینوں میں محبت ِرسول ﷺکو مزید گرمایا جائے ۔ہم دنیا کو دعوت َفکر دیتے ہیںکہ آئو !اور اپنے دلوں کو اسم ِذات اللہ کے ذکر سے زندہ و جاوید کریں لیکن لمحہ ء فکریہ ہے کہ کیا ہم تمام ذاکرین خود اس بات پر کاربند ہیں ؟تو میں آج آپ تمام ذاکرین کو خصوصاًیہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے خود اللہ اللہ کرو اور پھر دوسروں کو دعوت دو ۔کیونکہ جب آپ خود ایک کام نہیں کرتے تو وہی کام دوسروں کو کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔یعنی وہ شخص عمل نہیں کرے گا اس لئے ہمیں چاہیے کہ سرکار شاہ صاحب نے ہمیں جو اس قدر نایاب دولت ِعظمیٰ سے نوازا ہے ۔اس کی قدر کریں اور درود شریف ،ذکر ِلطائف اور ماہانہ گیارھویں شریف میںنہ صرف خود شریک ہوں بلکہ نئے دوستوں کو بھی ساتھ لے کر آئیں۔کیونکہ قبلہ شاہ صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ خود ذکر کرو گے تو وہ تمہارے لئے ہے لیکن تمہاری وجہ سے اگر کوئی اور کرے گا تو تمہیں اس کا اجر ملے گااور تمہارے درجات بھی بڑھیں گے ۔
سرکار شاہ صاحب کی بابت شب قدر کی اہمیت کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1990کی دہائی کی بات ہے جب سرکار شاہ صاحب بنفس ِنفیس کوٹری میں تشرف فرما تھے۔قبلہ مرشدی شاید 25ویں کی شب اپنی گاڑی پر پہاڑی پر تشریف لاتے ہیں۔ یہ واقعہ مجھے مشیر مالیات کوٹری نے بیان کیا کہ سرکار کی تشریف آوری کے بعد جو شخص بھی سرکار کے پاس جانے کی کوشش کرتا تو سرکار ہاتھ کے اشارے سے اُسے روک دیتے ۔سرکار گاڑی سے اترنے کے بعد مدرسے میں تشریف لے گئے ۔وہاں پر کچھ ساتھی سو رہے تھے جن میں ندیم بھائی مشیر مالیات کوٹری بھی تھے۔تو وہ کہتے ہیں کہ سرکار نے خود مجھے اُٹھایا کہ اُٹھو اور محفل میں چلو ۔کہتے ہیں میں نے آنکھیں کھولیں تو سرکار میریے اوپر جھکے ہو ئے تھے اور مجھے محفل کے لئے اُٹھا رہے تھے ۔تواس واقعے سے شب قدر کی اہمیت کا اندازہ ہو تا ہے کہ سرکار شاہ صاحب خود ذاکرین کو محفل ِذکر ِلطائف کے لئے اُٹھا رہے ہیں ۔تو ہمیں یہ بات پر عمل کرنا چاہیے کہ جو ساتھی گھروں میں سوئے رہتے ہیں اُن کو بھی محفل میں لانے کیلئے تگ و دو کریں ۔ڈویژنل آرگنائزر محمد شفیق قادری نے کہا کہ اسم ِذات اللہ کی تقسیم کا مکمل تصرف سرکار گوھر شاھی کے پاس ہے وہ جسے چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں ۔لیکن قربان جائیں مرشد ِپاک کی سخاوت کے کہ جو بھی ،جیسا بھی گنہگار آپ کے در ِاقدس پر آیااُس کے من کے اندر اسم ِذات کی بوٹی لگا دی۔یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی 25سال پراناہے یا 30 سال بلکہ اُس کا تقویٰ و طہارت اہمیت رکھتا ہے کہ اُس نے مرشد ِپاک کی تعلیمات پر عمل کیا ہے یا نہیں ؟مرشد تو لجپال ہیں وہ تو آج بھی نواز رہے ہیں لیکن ہر کام میں عمل (Practical)ضروری ہو تا ہے ۔آج اگر ایک نیا شخص ذکرو فکر کرتے ہوئے آگے اس دعوت کو پھیلاتا ہے تو وہ مرشد کی خوشنودی و رضاکا حقدار ہو گا نہ کہ پرانے ذاکرین۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ سرکار کی خوشنودی عطاء فرمائیں اور دنیااور آخرت میں اُ ن کی سنگت و رفاقت سے نوازیں (آمین)۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان