الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

روحانی ٹور دربار ِاقدس مائی باپؒ اور سخی سلطان باھوؒ

March 23, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)پاکستان ،فیصل آباد کے زیر ِاہتمام روحانی قافلہ فیصل آباد سے امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری کی زیر ِصدارت 23-03-2016بروز بدھ صبح 10بجے دربار ِاقدس حضرت بازید محمد ؒاوربی بی راستی ؒ(والدین حضرت سخی سلطان حق باھوؒ)اور دربار ِاقدس سلطان الفقرحضرت سخی سلطان حق باھوؒ(شورکوٹ)پر حاضری کیلئے روانہ ہوا۔دربار شریف پر حاضری کے بعد محفل ِنعت و ذکر اللہ منعقد کی گئی ۔محفل کے بعد تبرک اور لنگر تقسیم کیا گیا ۔
مقررین نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب جسم ناپاک ہو جائے تو غسل کی ضرورت پڑتی ہے اور جب کثرت ِگناہ کی وجہ سے یہ دل ناپاک ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے اسم ِکی اور اللہ تعالیٰ کے ولیوں کی ضرورت پیش آتی ہے ۔آج ہم جس دربار پہ حاضر ہیں یہ وہ ہستی ہیں جو اک نگاہ سے اس دل کو اسم ِذات اللہ سے پاک کردیا کرتی ہیں اور صرف پاک ہی نہیں کرتے تھے بلکہ اُس بندے کو یہاں سے اُٹھاتے تھے اور اُس کو اللہ کے دیدار تک پہنچا دیتے تھے یعنی ایک ہی لمحے میں اللہ سے واصل کرا دیتے تھے ۔اللہ تعالیٰ کے دیدار کا تعلق آپ کی آنکھوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ آپ کے باطن کے ساتھ ہے ۔حضرت سیّدنا غو ث ِاعظم جیلانی ؓفرماتے ہیں ۔” اللہ نے تجھے 4آنکھیں عطاء فرمائیں ہیں ۔دو(2)تیرے ماتھے پہ لگا دیں جس سے تم ماں باپ ،بہن بھائی ،گھر بار، رنگوں اور الفاظ کی پہچان کرتے ہو ۔یا د رکھو ۔دوآنکھیں جو تیرے دل میں ہیں اُن کے ذریعے تو نبیوں کی پہچان ،ولیوں کی پہچان اوراللہ کی انواروتجلیات کی پہچان کرتاہے ـ”۔جب دربار پہ جائے تو سرخ پھول اور سبز چادریں نہیں بلکہ صاحب ِمزار/ صاحب ِدربار کو ملا کرتا ہے ۔آج ہم جس کامل ذات ہستی کے درِاقدس پہ حاضر ہیں یہ وہ عظیم ہستی ہیں کہ جو چاہیں تو ایک ہی لمحے میں اللہ سے واصل کرا سکتی ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اِن کے پاس اپنے کاروبار،بیماری کی شفاء اور ترقی و خوشحالی کے لئے آتے ہیں ۔اگر ہم اِن کے پاس اللہ کیلئے آئیں تو یہ آپ کو فورًا خدا سے واصل کرا دیں ۔اِسی لئے آپ ؒنے ارشاد فرمایا۔
طالب بیا ،طالب بیا،طالب بیا تارسانم روز ِاول باخدا
ترجمہ :۔ “اے طالب(دنیا) آ،اے طالب (عقبیٰ)آ،اے طالب مولیٰ آ،تاکہ پہلے ہی روز میں تجھے خدا سے ملا دوں
دوستو!آپ اتنے بڑے دربار پہ آئے ہیں اس سے خالی نہ جائیں ۔ایک تو یہ جھولی ہے جو اپنے ہاتھوں سے پھیلائی جاتی ہے اور ایک دل کی جھولی ہوتی ہے ۔اس دل کے دامن کو بھی دراز کیا جاتا ہے ۔دل کے ساتھ بھی طلب کیا جاتا ہے ۔جب اُن کی نگاہ اُٹھتی ہے تو پھر اِس دل کو اللہ کی بارگاہ تک پہنچا دیتی ہے ۔عزیز ساتھیو!کبھی سوچا کہ ہم درباروں پہ آکر مزاروں کوکیوں چومتے ہیں ؟معترض ہم پہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم درباروں کو کیوں چومتے ہیں ؟اُس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنا دوست بنا تا ہے تو اُس کو دیکھتا ہے ۔بغیر دیکھنے سے دوستی نہیں ہو تی ۔دوستی کیلئے ضروری ہے کہ اُس نے آپ کو دیکھا ہو یا آپ نے اُس کو دیکھاہو ۔پھر دوستی ہو تی ہے ۔اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی پیارے بندے سے دوستی کرتا ہے تو پھر اُسے دیکھتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا اُس بندے /اپنے ولی پر ایک دفعہ نظر کرنا تجلی بن کے گرتاہے ۔ایک تجلی 7کبیرہ گناہوں کو جلادیتی ہے ۔چونکہ ولی پہلے ہی گناہوں سے پاک و صاف ہو تا ہے ۔ولی کے آس پاس بیٹھنے والے لوگ پاک صا ف ہو نا شروع ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ ایک وقت ایسا آتا ہے ۔ولی اللہ کی صحبت میں رہنے والے لوگ پاک و صاف ہو جاتے ہیں ۔اِسی طرح جب وہ ولی اللہ اِس دارِفانی سے کوچ کر جاتا ہے تو اُس کے اندر کی وہ روحیں جن کو اُس نے ذکر ِالٰہی سے زندہ و جاوید کر لیا تھا ۔وہ قبر میں بھی ذکرو فکر کرتی رہتی ہیں اور اُسکی قبر پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نذول ہوتا رہتا ہے ۔جب قبر پر انواروتجلیا ت کی بارشیں ہو تی ہیں تو اس سے منسلک ہر چیز پر نظر ِرحمت پڑتی ہے چونکہ قبر پرُ انوار کی ہر چیز کو اُس ولی اللہ سے نسبت ہو تی ہے اِس لئے اُس کو چومنا بھی باعث ِسعادت و باعث ِرحمت بن جاتا ہے ۔اس لئے ولیوں کو چاہنے والے درباروںپر پڑی ہوئی چادروں اور درودیوار کو بوسہ دیتے ہیں تاکہ رحمت ِخداوندی کے مستحق ٹھہریں۔
مقررین نے مزید کہا کہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی شان یہ ہے کہ آپؒ اپنی ظاہری حیات ِمبارکہ میں جس راہ سے گزرتے تھے ۔اس میں جس انسان پہ آپ کی نظر پڑتی ۔اُس کا دل اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتا ۔آج بھی اگرکو ئی شخص اللہ کی رضا کیلئے آپ ؒکے مزارِاقدس پہ حاضرہو تا ہے ۔اپنے دل کو اللہ کے نام کے ساتھ وابستہ کرنے کے لئے آتا ہے تو آپ کو یہ طاقت حاصل ہے کہ آپ ؒاُس کے دل کی خالی دھڑکنوں کو اللہ اللہ سے وابستہ کر دیتے ہیں ۔آپ ؒمزید فرماتے ہیں کہ جس نور کی ایک تجلی کو ہ ِطور پرپڑی ،وہ جل گیا ۔موسیٰ ؑبے ہوش ہو گئے ۔ایسی 70ہزار انواروتجلیات کی بارش ایک لمحہ میں سلطان الفقر کی روح مبارکہ پہ وارد ہوتی ہیں اور سلطان الفقر کا مقام یہ ہے کہ وہ آنکھ بھی نہیں جھپکتابلکہ اللہ کی بارگاہ سے اورانوارو تجلیات کا طالب رہتاہے ۔آپؒ کے مزارِپر انوار سے وہی فیض آج بھی جاری و ساری ہے جس کے متعلق سرکار غوث ِپاک ؓ فرماتے ہیں ”میرامرید وہ ہے جو ذاکر ہے اورمیں ذاکر اُس کو مانتا ہوں جس کا دل اللہ اللہ کرتا ہے اور آپ ؓنے اپنے مُرید کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے 70مرتبہ مرید ی لا تخف کا وعدہ لیا ہے کہ جو میرامرید ہو گا وہ بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائے گا۔
حاضرین ِمحترم !جو کوئی یہ چاہتا ہے کہ اُس کے دِل کی خالی دھڑکنیں جو محض جانوروں کی طرح ٹک ٹک کر رہی ہیں وہ اللہ کے نام کے ساتھ وابستہ ہو جائیں اوراُس کا شمار بھی اُن لوگوں میں ہو جائے جن کے متعلق اللہ فرماتا ہے “میرے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پہ میں نے ایمان نقش کر دیا ہے” اور” وہ ایسے لوگ ہیں اُن کونہ خرید غفلت میں ڈالتی ہے اور نہ فروخت ”نبی پاک ﷺفرماتے ہیں کہ “چلتے پھرتے بھی مردہ ہیں وہ لوگ جن کے دل مردہ ہیں)اللہ کے ذکر سے غافل ہیں ) ۔قبروں میں بھی زندہ ہیں وہ لوگ جن کے دل اللہ کے ذکر سے زندہ ہیں” ۔جو کوئی یہ چاہتاہے اُس کا دل ہمہ وقت اللہ اللہ کرتارہے ۔وہ اجازت ِذکر ِقلب حاصل کرے اور اس کی مشق کرے ۔ ۔حاضرین کی کثیر تعداد نے ممبر مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری سے اجازت ِذکر ِقلب حاصل کی ۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان