الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

رپورٹ دورہء پنجاب

January 21, 2012

قائم مقام عالمی مرکزی امیر جناب حضرت علامہ مولاناسعید احمد قادری کی زیرِ صدارت پنجاب کا دورہ کیا گیا جس میں مجلس شورٰی کے ممبرجناب چودھری اظہر نواز،جناب چودھری عصمت اللہ،جناب شبیر احمد قادری اور امیر پنجاب جناب عبدالرزاق گوھراورنشرو اشاعت پنجاب غلام فرید قادری نے شرکت کی۔دورہ کی تفصیل درج ذیل ہے۔
31-12-2011بروز ہفتہ بعد از نمازِ مغرب جوھر آباد میں جنرل اجلاس ہوا جس میں سرگودھا کے ساتھیوں نے شرکت کی۔
01-01-2012 بروز اتواربعد از نمازِ مغرب لاہور میں جنرل اجلاس ہوا جس میں حاجی سعید احمد قادری اور رضوان گوھر نے بھی شرکت کی۔اس اجلاس میں شیخوپورہ کے ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔
02-01-2012بروز پیر بعد از نمازِ مغرب رائیونڈ میں جنرل اجلاس ہوا۔
02-01-2012بروز پیر رات9بجے قصور میں جنرل اجلاس ہوا۔
03-01-2012بروز منگل بعد از نمازِ مغرب فیصل آباد میں جنرل اجلاس ہوا جس میں محمد شفیق قادری،حاجی محمد اصغراور حاجی محمد اویس نے خصوصی شرکت کی اور اس اجلاس میں سمندری کے ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔
04-01-2012بروز بُدھ بعد از نمازِ ظُہر جھنگ میں جنرل اجلاس ہوا۔
04-01-2012بروز بُدھ بعد از نمازِ مغرب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جنرل اجلاس ہوا۔جس میں کمالیہ اور پیر محل کے ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔
05-01-2012بروز جمعرات بعد از نمازِ مغرب بوریوالہ میں گیارھویں شریف کا پروگرام ہوااور اِس کے بعد جنرل اجلاس ہوا جس میں ساہیوال کے سا تھیوں نے بھی شرکت کی۔
06-01-2012بروز جمعتہ المبارک بعد از نمازِ مغرب گیارھو یں شریف کا پروگرام ہوااور اُ س کے بعد جنرل اجلاس ہوا جس میں مظفر گڑھ،رنگ پور، روہیلانوالی، رحیم یا ر خاں اور خانیوال کے ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔
07-01-2012بروز ہفتہ بعد از نمازِ عصر چشتیاں میں جنرل اجلاس ہوا۔
07-01-2012بروز ہفتہ بعد از نمازِعشاء فقیر والی میں جنرل اجلاس ہوا۔
اِن اجلاسوں میں ممبران مرکزی مجلسِ شورٰی نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اِن الفاظ میں کیا۔
( شبیر احمد قادری):۔آج جس شخصیت کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہے وہ اُ ن چارشخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے مل بیٹھ کر سرکار شاہ صاحب کے ساتھ اس تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور آج اس تنظیم کی تعداد چار سے بڑھ کر لاکھوں میں پہنچ چکی ہے اور اِس سالارِ سرفروش نے اس کے قیام سے لیکر آ ج تک اتنا کام کیا کہ آج اپنا خون بھی انجمن سرفروشانِ اسلا م کی جڑوں میں شامل کر دیا۔قبلہ مرشدِ گرامی نے شہید وصی بھائی کی کوہ کاف میں بھی ڈیوٹی لگائی تھی اِسکے علاوہ شہیدوصی بھائی کو یہ منفرد اعزازبھی حاصل ہے کہ سرکار کی ظاہری موجودگی میں عید کے دِن سرکار شاہ صاحب شہیدوصی بھائی کو فرماتے کہ اُٹھ کر اِن کو بتاؤ کہ لیلتہ القدر کونسی رات ہے اور اس میں تم نے کیا کیا مشاہدہ کیا۔پچھلے رمضان شریف میں آنیوالی لیلتہ القدر کی رات شہیدوصی بھائی بہت خوش تھے اور مجھے کہہ رہے تھے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ جو نبی پاکﷺ کی سواری ہمارے آستانہ پر آ کر قیام کرتی ہے اور ہمارے لئے خصوصی دُعا کی جاتی ہے لیکن جب لیلتہ القدر کی محفل ختم ہونے پر ہماری آستانہ سے واپسی ہوئی تو راستے میں ،میں (شبیر احمد قادری)نے شہیدوصی بھائی کو بہت زیادہ غمگین پایااستفسار پر اُ نہوں نے بتایا کہ یااللہ کے ذکر میں نبی پاکﷺکی تشریف آوری ہوئی تو گنتی کے چند ساتھیوں نے آپﷺ کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور باقی تمام ذاکرین دُنیاوی خیالات میں مگن تھے جس کا ہمیں بے حد افسوس ہوا۔یہ واقعہ اُنہوں نے امی جی حضورکے گوش گزار کیا تو امی جی حضور نے فرمایاکہ شبیر تم تمام ذاکرین اور خصوصی طور پر مبلغین کو جنجھوڑوتاکہ وہ خوابِ غفلت سے باہر نکل آئیں اور صحیح معنوں میں اپنے آپ کو ذکر و فکر میں مشغول رکھیں۔
اِ س لئے ساتھیو! شہیدوصی بھائی نے اِ س مشنِ عظیم کی بے لوث خدمت کرتے کرتے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔اِس لئے ہمیں اِس مشن کے فروغ کے لئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہیے تاکہ اُنکی قربانی رائیگاں نہ جائے اور ہم بھی سرکار شاہ صاحب کی رضا و خوشنودی حاصل کر سکیں۔
اِسی طرح ایک مرتبہ سرکار شاہ صاحب نے شہید وصی بھائی کو پاکپتن شریف میں چلہ کی غرض سے بھیجا۔ وہ یہ سوچ کر گئے کہ پتہ نہیں مجھے بابا فریدگنج شکر واپس آنے دیں گے یا نہیں اور چلہ کتنا کٹھن ہو گا لیکن جب شہید وصی بھائی دربار شریف پر پہنچے تو اُنہیں ایک شربت پلایا جس کی وجہ سے اُنہیں چالیس دن کے چلہ کا پتہ بھی نہ چلاکیونکہ وہ بھوک اورپیاس سے عاری تھے جب اُ ن کا چلہ ختم ہواتو اُنہیں تحفہ کے طور پر ذکرِ اللہ کی محفل کا طریقہ بتایا گیا اور اِسی طریقہ کے مطابق ہم ذکر کی محفل کو ترتیب دیتے ہیں۔
(چودھری عصمت اللہ قادری):۔ اسلام کے شروع میں دیکھا جائے تو مسلمانوں نے بہت سی قربانیاں دیں جیسے حضرتِ عمر فاروقؓ کی شہادت،حضرت عثمانِ غنیؓ کی شہادت،حضرت علیؓ کی شہادت، امام حسنؓ اور امام حسینؓ کی شہاد ت اور اسی طرح اسلام کی تاریخ شہادتوں سے بھری ہوئی ہے اور جب تک کسی معاشرے میں قربانی کا جذبہ بیدار نہیں ہوتا اُس وقت تک وہ معاشرہ پروان نہیں چڑھتا ۔اِسی ظمن میں سر کا ر شاہ صاحب نے فرمایاکہ ہمیں انجمن سرفروشانِ اسلام کا نام سرکارِ مدینہﷺ کی محفل سے مِلا ہے۔اِسی نام کے پیشِ نظر ہم سب کو ہمیشہ قربانی کے لئے تیار رہنا چاہیے۔جب کچھ لوگ شہید وصی بھائی کی شکایت لیکے سرکار شاہ صاحب کے پا س گئے تو سرکار شاہ صاحب نے وصی بھائی کو فرمایا کہ اگر سارا زمانہ بھی تمہارے خلاف ہو جائے مگر ہم تو تم سے راضی ہیں۔
آخری مجلس شورٰی کے اجلاس کی قیادت کرتے ہوئے شہید وصی بھائی نے ایک سیٹ اَپ بنایااور نائب امیر مولانا سعید احمد قادری صاحب کو مقرر کیااِ س لئے تنظیمی قوائد و ضوابط کی پیروی کرتے ہوئے اُن کے ہر حکم پر لبیک کہنا چاہیے۔
(عبدالرزاق گوھر):۔ہماری خوش بختی ہے کہ ہمارے درمیان مرکزی قائدین موجود ہیں جو مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں دورہ کرنے کا مقصد سرکارشاہ صاحب نے جس کام کی ڈیوٹی لگائی ہے اُ س کو پوراکرنا اور ذاکرین کو ترغیب دینا کہ اس مشن کو آگے پھیلانے کیلئے مسلسل جدوجہد کرنی ہے ۔ جس طرح ہمارے پیارے نبی کریمﷺ کو اللہ تعا لی نے اپنا اسم لفظِ اللہ عطا کیا اور اسی اسمِ مبارک کو عام کرنے کا ہمارے مرشدِ پاک نے بیڑا اُٹھایاجس طرح طائف کی وادیوں میں آپ ﷺ پر پتھر مارے گئے تو کبھی آپﷺ کے دندان مبارک شہید کیے گئے کبھی آپﷺ پر کوڑہ پھینکا گیا لیکن آپ ﷺ نے اللہ کے مشن کو نہیں چھوڑا۔اِ سی طرح ہمارے مرشدِ پاک پر مختلف حیلوں بہانوں سے فتوے لگائے گئے تو کبھی بم سے حملہ کیا گیا تو کبھی جھوٹے کیس بنائے گئے مگر ہمارے پیرومرشد ہمیشہ ثابت قدم رہے اور فرمایا کہ یہ نادان نہیں جانتے کہ ہمارے اس مشن کے پیچھے ایک آسمانی ہاتھ ہے ۔ سرکار شاہ صاحب نے لال باغ سے اس مشن کی شروعات کی اور کون جانتا تھا کہ یہ مشن پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔اس مشن کی آبیاری کے لئے شہیدوں کے خون کی ضرورت پڑی تو کبھی جناب محمدسعید صدیقیؒ کے روپ میں تو کبھی جناب محمد عارف میمنؒ تو کبھی شہید وصی بھائیؒ کا خون کام آیا۔ جس کا قلب جاری ہو جائے اور وہ دنیا سے چلا جائے تو وہ اپنے نفس سے جہاد کرتے کرتے شہید ہو گیا۔کسی کے جانے سے تنظیم ختم نہیں ہوتی۔کل جناب عارف میمن ہمیں چھوڑ گئے تو مخالفوں نے کہا کہ اب تنظیم ختم ہو جائے گی مگر سرکار شاہ صاحب نے فرمایا کہ عارف ہمارا دایا ں بازو تھا لیکن کسی کے جانے سے اللہ کا کام نہیں رُکے گااور آج ہمارا ہر ذاکر عارف بن گیا ہے۔
(چوہد ری اظہر نواز)عہدیداروں کا بدلنا کوئی بڑی بات نہیں مگر وصی بھائی کی جگہ کو پر کرنا بہت مشکل ہے ۔ سرکار شاہ صاحب نے فرمایا کہ عارف ہمارا دایا ں بازو تھا اور آج ہمار اہر ذاکر عار ف بن چکا ہے اس فرمان کے بعد وصی بھائی کو سرکا رنے امیر بنا یا اور کہاکہ جو وصی بھائی کا حکم ہے وہی ہمارا حکم ہے ۔بطور امیر شہید وصی محمد قریشیؒ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جب ہم اپنے اپنے علاقوں میں ہوتے تھے او رکوئی بھی کام ہوتا تھا تو ہمیں فکر نہیں ہوتی تھی مثلاً بڑی گیارھویں شریف ہے وصی بھائی بیٹھے ہیں، دیکھ لیں گے ، صدائے سرفروش کا کام ہے یہ بھی وصی بھائی دیکھ لیں گے ،آستانہ کے لنگرکا انتظام کس طرح کرنا ہے یہ بھی وصی بھائی دیکھ لیں گے ،جشن ولادت مرشد کریم یا جشن شاھی ،اعتکا ف کے انتظامات ہمیں کوئی فکر نہیں ہوتی تھی یہ بھی وصی بھائی دیکھ لیں گے ،سرکار کے کیس کی پیر وی یا تنظیمی حوالہ سے کسی بھی کیس کی پیر وی یا کسی وفد سے ملا قات یا پریس کانفرنس یا دیگر اہم معاملا ت کو دیکھنے کے لیے ہمیں کسی بھی قسم کی فکر نہیں ہوتی تھی کیونکہ وصی بھائی ظاہر ی طورپرموجود تھے ۔لیکن آج ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے سرپر چھت نہیں ہے ۔
سرکار شاہ صاحب نے فرمایا کہ “اگر تم متحد رہے توتمھارے مخالف منہ چھپاتے پھریں گے اور اگر تم بکھر گئے تو تم خود بھی مٹ جاؤ گے “۔شہید وصی بھائیؒ کو شہید کرنے والا کوئی بھی ہو اس کا اصل مقصد تنظیم کو ختم کرنے کی مذمو م کوشش ہے اور سرکار کے فرمان کے مطابق اگر ہم متحد رہے تو وصی بھائی کو شہید کرنے والوں کے عزائم خود ہی خاک میں مل جائیں گے ۔جس طرح انسان کی زندگی میں کبھی خوشیاں آتی ہیں تو کبھی غم۔اسی طرح ہر تنظیم میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں مگر ہماری اس تنظیم جس کی بنیا د نبی کریم ﷺ کی اجازت سے ہوئی ہے اس کو قیامت تک چلنا ہے بلکہ قیامت کے بعد بھی ۔اگر کوئی ایسا بندہ یکدم منظرسے ہٹ جائے جس کے اوپر سارا دارومدار ہوتو بڑی پریشانی ہوتی ہے ۔
انجمن سرفروشان اسلام کا مطلب بھی ہے کہ سر قربان کر نا اور آج شہید وصی بھائی ؒ نے اپنا سر قربان کردیا ہے ۔جب مرشد پاک ہماری ظاہر ی آنکھ سے اوجھل ہوئے اس وقت بھی ہماری سوچیں منتشر ہوئیں مگرسرکارنے فرمایا کہ؛؛ یہ مشن ہماراذاتی نہیں ہے بلکہ یہ مشن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے ہمارے اوپر ایک آسمانی ہاتھ ہے جو ہمیں یہ کہتاہے کہ یہ کر و اور ہم وہی کرتے ہیں۔اللہ اگر چاہے تو پتھروں اور درختوں سے کام لے سکتا ہے جیسا کہ پتھروں نے کلمہ پڑھا اور درختوں نے سجدہ کیا ،پہاڑوں اور دریاؤں نے بھی آپ کی گواہی دی ۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے لوگ مل جائیں گے جو ہم سے دولت مند ،ہم سے زیا دہ خوبصورت ،ہم سے زیادہ اچھا بولنے والے اور اچھا لکھنے والے موجود ہیں لیکن اللہ رب العزت نے ہمیں ہی اپنے مشن کی ترویج و اشاعت کے لیے کیوں چُنا ؟۔تو ہمیں پتہ چلتاہے کہ یہ اُس رب کریم کا ہم پر خاص کر م ہے ہمیں اس پر فخر ہے اور ہمیں اس احسانِ عظیم کا حق ادا کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کراس مشن کی خدمت کرنی چاہیئے۔
مرشدکریم نے ارشاد فرمایا کہ؛؛ فقر کا سلسلہ حضور پاک ﷺ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ملا پھر 9صحابہ کرامؓ کو ملا ،پھر امام حسین ؑ کو ملا اور پھر غوث پاکؓ کوملا اور جب تک امام مہدی ؑ نہیں آتے اُس وقت تک یہ غوث پاکؓ کے پا س رہے گا۔
(حضرت علامہ مولانا سعید احمد قادری)میں ایک دفعہ بہاولپور کے دورہ کے دوران شہید وصی بھائی ؒ کے ساتھ تھا ۔ وصی بھائی نے وہاں ایک دربار پر حاضری دی تو فرمایا کہ یہ بزرگ بڑی روحانی ہستی ہیں ۔ ہم نے کہا کہ ہمارے لئے بھی دُعا فرمائیں تو بزرگ ہمارے سامنے آ گئے اور اُ ن کے سامنے روضہء رسولﷺ آ گیا اور اُنہوں نے ہمارے لئے دُعا فرمائی۔ مسلمانوں کا سال محرم سے شروع ہوتا ہے اور ذوالحج پر ختم ہوتا ہے۔آغاز بھی قربانی سے ہوتا ہے اور اختتام بھی قربانی پر۔اِس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی بہت پسند ہے االلہ تعالیٰ ہر انسان کو آزماتا ہے ۔کبھی بھوک سے،کبھی قربانی سے ،کبھی ذلت سے اور کبھی جنگ و جدال سے۔
جو آ خری نبیؐ کا پیغام ہے وُ ہی گوھر شاھی کا پیغام ہے۔مخالفین کو آقاؐ کی ذاتِ پاک سے اختلاف نہیں تھا بلکہ اِ ن کے پیغا مِ عظیم سے اختلاف تھااور اُس وقت بھی جو ذکر کرنیوالے تھے اُنکو ختم کرنا مقصد تھا۔شیطان بھی اللہ کے ذکر کا بڑا مخالف ہے جنگ بَدر میں بھی شیطا ن نے جنگ کروائی۔اہلِ بَدر بھی جو اُس پیغامِ عظیم کی حفاظت کے لئے ،اُ نکو اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتنا زبردست اعزاز دِیا کہ حضرتِ حنظلہؓ کا جسم بدر کے میدان سے غائب ہو گیااور سب نے دیکھا کہ آسمان سے فرشتوں نے اُنکو غسل کے بعد دوبارہ زمین پر بھیجا۔ یہ واقعی بڑا زبردست اعزاز ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت پیش کرنا ہر کسی کا کام نہیں ہے۔
موسیٰ ؑ و فرعون و شبیرؓ و یزیدایک کردار حسینؑ کا تھا اور دوسرا یزیدملعون کا تھا ۔ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہم نے کس کا ساتھ دینا ہے۔یہی یزیدی میدانِ بدر میں اکٹھے ہوئے تھے لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانو ں کی مدد کیلئے5000 فرشتوں کوبھیج دیا۔
وصی بھائی سے جب بھی کہا گیاکہ آپ کچھ ساتھیوں کو ساتھ لے کر نِکلا کریں تو ہمیشہ جواب دیتے کہ مرنا تو ہے ہی کیوں نہ اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں۔جن کا قلب اللہ کے ذکر سے بیدار ہو جائے تو شیطان بھی اُ ن سے ڈرتا ہے۔وصی بھائی شہیدآن ڈیوٹی گئے ہیں اور کامیا ب ہو کر گئے ہیں۔اپنی صفوں میں اتحا د پیدا کریں جس طرح جو لوگ جہاں جہاں کام کر رہے ہیں وہ اِسی طرح کام مزید جوش و جذبہ سے کام کرتے رہیں اور بڑھ چڑھ کر مشن کی خدمت کریں ۔اپنے اپنے علاقہ میں زیادہ سے زیادہ وقت ہے تو وقت دو ،جوانی ہے تو جوانی لگاؤ اور اگر پیسہ ہے تو پیسہ لگاؤ۔عارف بھائیؒ ،وصی بھائیؒ شہید اور سعید صدیقیؒ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنیکا بہترین طریقہ یہ ہے مشن کا کام اچھے اوربہتر طریقے سے کیا جائے۔ ربیع الاو ل کے حوالہ سے تمام ذاکرین اپنے اپنے گھروں میں پرچم لہرائیں اور گیارھویں شریف کے لنگر اورمسجد کی تعمیر و توسیع میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں۔
سرکار شاہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کا ذکر کرنے سے بندہ سخی ہو جاتا ہے ۔ہمارے لئے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ سرکار شاہ صاحب جیسی ہستی ہمارے حصہ میں آئی۔ جب حاتم طا ئی کی بیٹی قیدیوں میں حضورﷺ کے سامنے پیش کی گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ اِ س کے سَر پر چادَر دو ،یہ سخی کی بیٹی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ سخی بندہ اللہ کا دوست ہے اگرچہ وہ گنہگار ہے۔ شیطان سے پوچھا گیا کہ تمہارا سب سے بڑا دشمن کون ہے اس نے کہا کہ سخی گنہگار اور اس سے پوچھا گیا کہ تمہارا سب سے بڑا دوست کون ہے تو اُس نے کہا کہ کنجوس عبا دت گزار۔
عہدیدار کوئی بھی ہو، کام عہدہ سے نہیں جذبہ سے ہو تا ہے۔طالب مرشد کو تلاش کرتے ہیں ہمیں مرشد نے تلاش کیا ہے اور مرشد نے اللہ تعالیٰ سے تمام سرفروشوں کے سروں کا سودا کر لیا ہے۔دشمنوں کی گولیا ں ختم ہو جائیں گی مگر سرفروش ختم نہیں ہوں گے۔جس کو زندگی پیاری وہ یہیں سے لوٹ جائے۔ جان تو ایک دِن جانی ہے ،موت کا ایک لمحہ نہ آگے ہوتا ہے نہ پیچھے۔ایک دِن اِس دُنیا سے جانا ہے اگر اللہ رسولﷺ کو چھوڑ دیا تو پھر بھی ہم نے مَرنا ہے۔جس نے اپنے سروں کا سودا کر لیا ہو اَن کے لئے روپیہ کیا معنی رکھتا ہے۔یہا ں پر خوشی کے سودے ہوتے ہیں۔اگر آپ زندگی عزت سے گزارنا چاہتے ہو تو اُس کا ذکر کثرت سے کرو۔ جِن کو حضورِ پاک ﷺ نے اللہ سے مانگ کر لیا ۔فاروقِ اعظم گھر سے غلط مطلب لے کر نِکلے مگر آپﷺ نے اِن کے بارے میں دُعا کی اور فاروقِ اعظمؓ غلام بن کر آپﷺ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ فاروقِ اعظمؓ کے کشف کا عالم یہ ہے کہ 500میل دورنہجاوند کا میدان دیکھ رہے ہیں اور اُ سی ممبر پر بیٹھ کر آواز دیتے ہیں ۔ایک دفعہ مدینہ میں زلزلہ آیا تو آپؓ نے زمین پر تین دُرے مارے اور کہا کہ کیا میں زمین پر انصاف نہیں کرتا جو زلزلہ آیا ہے اور تاریخ گواہ ہے اِس کے بعد آج تک مدینہ میں زلزلہ نہیں آیامگر آپؓ کو بھی شہید کر دیا گیا۔اِ س کے بعد عثمانِ غنیؓ کو بھی شہید کیا گیا اور پھر حضرتِ علی المرتضیٰؓ کو شہید کیا گیا۔اِسی طرح حضرتِ امام حسنؓ اور امامِ حسینؓ کو شہید کر دیاگیا۔اِ س لئے کہ اِس راستے میں نشیب و فراز آتے ہیں اور اِس راستے میں قربانی دی جاتی ہے۔
سَب ساتھیوں کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ ہمارا قلب،ہماری روح اور ہمارا سَرغرض کہ ہمارا جسم اَب ہمارا نہیں بلکہ گوھر شاہی کا ہے اِس لئے صدقِ دِل سے اِس مشنِ عظیم کی خدمت کرو اور اِ س راہ میں جان کا نذرانہ بھی دینا پڑ جائے تو اِس سے بھی دریغ نہ کرنااور دِل و جان سے عظیم مشن کی خدمت کرتے رہناکہ
زندگی کی بازی فقط اُسی نے پائی اللہ اللہ کرتے جِسے موت آئی
نو ٹ:۔ملتان میں دورہ کے دوران قائم مقام مرکزی عالمی امیر جنابِ محترم مولانا سعید احمد قادری،مجلسِ شورٰی کے ممبران شبیر احمد قادری،چودھری اظہر نواز قادری ،غلام فرید( شعبہ نشرواشاعت پنجاب )نے ملتان کے امیر محمد یونس قادری کے ساتھ شاہ رُکن عالم ، بہاؤا لدین زکریا مُلتانی اور موسیٰ پاک شہیدکے درباروں پر حاضری بھی دی۔
جاری کردہ
شعبہ نشرواشاعت پنجاب

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان