الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

رپورٹ کاروانِ امن و محبت

July 12, 2010

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ) پاکستان اور آل فیتھ سپریچوئیل آرگنائزیشن (رجسٹرڈ) پاکستان کے زیر اہتمام حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے دربار اقدس پر ہونے والے خودکش دھماکوں کی مذمت کرنے کے لیے کاروانِ امن و محبت کا اہتمام کیا گیا ۔ 10جولائی بروز ہفتہ کراچی اسٹیشن سے کارواں کا آغاز ہوا جس میں راستے بھر سے ذاکرین اور عوام الناس کی کثیر تعداد شامل ہوتی گئی اور11جولائی بروز اتوار شام 4بجے لاہور اسٹیشن پر سفیرانِ امن و محبت کا فقید المثال استقبال کیا گیاجس میں ملک بھر اور بیرونِ ممالک سے آئے ہوئے وفود نے شرکت کی اور حضرت دات گنج بخش علی ہجویری ؒ کے ساتھ اپنی عقید ت و محبت کا ثبوت دیا۔اولیاء اللہ کے ماننے والوں کے اس ڈھا ٹھیں مارتے سمندر میں بچے ، بوڑھے ،جوان اور نوجوانوں کے جم غفیر نے شرکت کی ۔اسٹیشن سے ریلی داتا دربار کی جانب روانہ ہوئی تو فضاء اللہ اکبر اور نعرہ رسالتﷺ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ریلی کی قیادت عالمی مرکزی امیر وصی محمد قریشی نے کی جبکہ دیگر قائدین میں نائب عالمی امیر مولانا سعید احمد قادری، حاجی محمد اویس قادری، حاجی محمد اصغر، حاجی محمد سلیم قادری،ظفر کاظمی،قمر احمد خان، لالہ محمد شریف،سہیل قادری، عین الدین قادری، مدثر ریاض،عظیم دانش، مسعود جعفری ،عبدالرزاق گوھرو دیگرنے کی جبکہ آل فیتھ کی جانب سے شبیر احمد چیف آرگنائزر آل فیتھ نے ریلی کی قیادت کی۔
کاروانِ امن و محبت میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اولیاء اللہ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان کو اولیا ء اللہ کی وجہ سے قائم کیا گیا اور اسکے قیام میں اولیاء اللہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور یہ ملک اولیاء اللہ اور انکے ماننے والے ہی بچائیں گے۔اولیاء اللہ کے مزارات کو شہید کرنے والی دجالی قوتوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہم انکے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں اور انکے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دینگے ۔ناموس رسالت ﷺ سے لیکر ولیوں کے مزارات تک جو ہاتھ بھی انکی شان میں گستاخی کے لیے اٹھے گا وہ قلم ہو کر رہے گا۔ہمارا پیغام حق پر مبنی ہے کہ آؤ لوگوں اپنے دلوں سے حسد، حرص ، بغض کو نکال کر اپنے من کو پاک کرو۔ اپنے دلوں میں اسم ذات اللہ کی بوٹی سے اپنے اندر نور پیدا کروجب تمہارے دلوں میں نور پیدا ہوجائے گا تو ہر قسم کی فرقہ پرستی ،مذہبی دہشت گردی اور قتل و غارت سے خود بھی بچو گے اور دوسروں کے لیے بھی ایک روشن چراغ کی مانند ہو جاؤ گے۔ چوہدری اظہر نواز نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انجمن سرفروشانِ اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئیں، جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے اور ہمارے مرشدِ کریم سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی کی ذات اقدس پر بازاری مولویوں نے فتوئے بھی جاری کئے اور توہین رسالتﷺ کے جھوٹے کیس بھی بنوائے لیکن اللہ نے اپنے اس درویش کی عزت کو بلند ہی کیا۔ یہ کسی کے گھٹانے سے گھٹنے والی نہیں ہے کیونکہ عزت اللہ کی دی ہوئی ہے ۔ہم نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو خاموشی سے سہاہے لیکن اب بات ہمارے عقیدے کی ہے۔ولیوں کی تعلیمات کو نا ماننے والے باطل عناصر کو یہ باور کرادینا چاہتے ہیں کہ اب ہمارا تم سے کھلا جہاد ہے اور حکومتی ایوانوں میں موجود انکے خیرخواہوں کو بھی یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ اب کہ ہم اٹھے ہیں تو اولیاء اللہ کے پیغامِ محبت کو عام کرنے اور معاشرے سے مذہبی دہشت گردی کی ختم کرنے کے لیے اٹھے ہیں اور اس کے لیے ہماری جانیں بھی حاضر ہیں اور ہمارے لہوکا ایک ایک قطرہ حاضر ہے۔
کاروان اپنے مقررہ راستے سے ہوتا ہوالاہور پریس کلب پہنچا جہاں مولانا سعید احمد قادری کی اقتدعا میں نمازِ عصر اداء کی گئی اور بعد ازاں کارواں اپنے راستے پر رواں دواں رہا۔کارواں میں شرکاء نے مختلف بینر، پلے کارڈ، اورکتبے اٹھا رکھے تھے جن پر اولیاء اللہ کی تعلیمات ، دہشت گردی کی مذمت میں نعرے درج تھے۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی قائد وصی محمد قریشی نے کہاکہ آج صبح سے لاہور گرمی میں جھلس رہا تھا اور ہر چرند پرند اور انسان اس گرمی سے پریشان تھا لیکن جیسے ہی کاروانِ امن و محبت نے اپنے سفر کا آغاز کیا لاہور شہر کو کالی گھٹاؤں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اولیاء اللہ اور خصوصاً حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ کی یہ خاص نظرِکرم ہے ان لوگوں پر جو دور دراز سے سفر کر کے اللہ کے ولیوں سے محبت اور خصوصاً حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ سے اپنی عقید ت کا اظہار کرنے آئے ہیں۔حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری نے انکواپنی محبت کی آغوش میں لے لیا ہے اور اولیاء اللہ کو یہ فیضان کرم کسی ایک تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جو بھی ان سے عقید ت رکھتا وہ اس پر ایسا ہی کرم فرماتے ہیں۔مزید براں انہوں نے کہا کہ ملک پاکستان ولیوں نے بنایا تھا اور وہی اب اس کی حفاظت بھی کریں گے اور اس میں امن و محبت بھی قائم کریں گے۔آنے والا دور سیاست کا نہیں روحانیت کا دور ہے ،دجالیت کا خاتمہ ہوگا اور ملک پاکستا ن میں امن و محبت کی فضاء قائم ہوگی۔ہمار امقصد کوئی سیاست نہیں ہے ، کوئی اقتدار کی ہوس نہیں ہے ، کوئی روپے پیسے کا لالچ نہیں ہے فقط ہمارامقصد ہے کہ اپنے دلوں میں اللہ کا نور پیدا کروتاکہ تمہارے اندر وہ بصیرت پیدا ہوسکے جس کی وجہ سے تم اقوام عالم کی رہنمائی کرو گے ۔ پاکستان کو ایسے ہی اسلام کا قلعہ نہیں کہہ گیا اس کی کچھ حقیقت ہے اور وہ حقیقت یہ ہی کہ یہاں سے ہی روحانیت کا سورج طلوع ہوگا۔

کھول کر آنکھ میری آئینہ ادراک میں                                                                   
آنے والے دور کی دھندلی سی تصویر دیکھ                                                                   
لولاک لما دیکھ، فلک دیکھ فضاء دیکھ                                                                   
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ                                                                   
( علامہ اقبالؒ )    

تونے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے                                                                   
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے                                                                  
دکھا کہ دنیا کی حقیقت تجھ کو                                                                   
تیرا جینا اور بھی دشوار کرئے                                                                   
( علامہ اقبالؒ )  
کاروانِ امن و محبت کا داتا دربار پہنچنے پر دربار کے خلیفہ میاں اعجاز نے خیر مقد م کیا اور سرفروشوں کے اس جذبہِ سرفروشی کو سراہتے ہوئے انکو ہدیہ تبریک پیش کیا۔انتظامیہ کی جانب سے راستوں میں مکمل تعاون فراہم کیا گیااور ملک بھر کے پریس اور الیکٹرونک میڈیا نے کاروانِ امن و محبت کو بھرپور کوریج دی اور کاروانِ امن و محبت کو براہ راست نشر کیا۔

جاری کردہ
شعبہ نشروا شاعت

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان