الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

سالانہ جشنِ ولادتِ مرشدِ پاک کے سلسلہ میں (سمندری) میں خصوصی محفلِ سماع

November 20, 2015

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام رجسٹرڈپاکستان فیصل آباد ڈویژن کے تحت مرشدِ پاک حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کے سالانہ جشنِ ولادت باسعادت کے سلسلہ میں خصوصی محفلِ سماع منعقد کی گئی جس میں نقابت کے فرائض مرکزی مشیر محمد شفیق قادری اور مرکزی مشیر چودھری محمد اعجاز گجرنے سرانجام دئیے۔محفلِ پاک کا باقائد ہ آغازقاری طارق محمود طارق نے تلاوتِ کلامِ مجید سے کیا ۔اسکے بعد حمدِ باری تعالیٰ کا نذرانہ محمد عمرنے پیش کیا۔بعد ازاں آقائے نامدارﷺکی بارگاہِ اقدس میں نعتِ رسولِ مقبولﷺکے نذرانے قاری عدیل احمداورعابد علی عابد آف سمندری نے پیش کیے۔اسکے بعد عباد علی عباد نے اپنے مخصوص انداز میں مرشدِ پاک کی بارگاہِ اقدس میں ہدیہء عقیدت و محبت پیش کیااور تما م شرکاء محفل کے دلوں میں مرشدِ پاک کی محبت کو مزید فروزاں کیا ۔اس محفلِ پاک میں معزز مہمانِ گرامی قدر پیر سید ناصر علی محبوبی ،پیر سید ظفر حسین شاہ کے علاوہ چودھری عارف علی گل ((M.P.Aسمندری سمیت آرگنائزرAFSO شبیر احمد ،مرکزی مشیران چودھری اظہر نواز قادری، محمد رضوان گوھر ،حاجی سعید احمد ،حاجی محمد اویس قادری،حاجی محمد اصغر قادری علاقائی امیران محمد اختر قادری(پیر محل )،محمد رفیق قادری (ساہیوال )،حاجی محمد سلیم قادری (فیصل آباد),صوفی محمد اقبال قادری (کمالیہ )علاقائی مشیران اورلاہور، ٹوبہ ،گوجرہ،جھنگ،پیرمحل، کمالیہ اور فیصل آبادکے سرفروش ذاکرین نے بھرپور شرکت کرکے محفلِ پاک کی رونق کو دوبالا کیا۔
مرکزی عالمی امیر حضرت علامہ مولانا سعید احمد قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام کے بانی وسرپرست اعلیٰ قبلہ و کعبہ حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی25نومبر1941 ؁ء گوجر خان کے ایک علاقے ڈھوک گوھر شاہ میں پیدا ہوئے ۔پھر وقت گزرتا گیا ۔34سال کی عمر میں امام بری سرکار ؒ سامنے آئے اور سرکار کو اشارہ فرمایا کہ اب آپ کا وقت ہے۔سرکار شاہ صاحب بری امام ؒ کے اشارے پر حضرت سخی سلطان باھو ؒ کے دربارِ اقدس پر پہنچے اور سہون شریف لعل باغ میں 3سال چلہ کیا ۔پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہماری رشدو ہدایت کے لئے سرکار دنیا میں واپس تشریف لائے ورنہ سرکار نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے دنیا کو چھوڑ دیا تھا۔پھر سرکا ر کی جب ڈیوٹی لگی15رمضان المبارک کو سرکار کو عظمت کا تاج پہنا کر راضیہ مرضیہ کا وعدہ کرکے دوبارہ دنیا کے اندر لوگوں کی ہدایت کیلئے بھیج دیا گیا اور پھر سرکار نے تشریف لاکر ہم جیسے گنہگاروں کے دلوں کو اللہ کے پاک نام سے زندہ و بیدار کیااگر سرکار نہ ملتے تو شائد آج ہم اور آپ پتہ نہیں کہاں ہوتے ؟ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں پر ایسے ساتھیوں کی اکثریت جمع ہے جن کاظاہر میں آپس کا دنیا داری کا کوئی تعلق یا رشتہ نہیں ہے لیکن دلوں کا رشتہ جو مرشد پاک نے اللہ کے نام کے نور کے ذریعے سے جوڑ دیا ہے اُس رشتے سے ہم یہاں پر اس انداز میں بیٹھے ہیں کہ جیسے ہمارا صد یوں پرانا کوئی رشتہ ہو ۔حضراتِ محترم !دیکھتے ہی دیکھتے ذکرِ قلب کی دولت سرکار شاہ صاحب نے لٹانی شروع کی اور یہ سلسلہ سیلاب کی طرح پھیلا۔جس طرح سیلاب آتا ہے تھوڑی دیر کیلئے لیکن اُس کی زد میں جو بھی چیز آتی ہے اُس کو لپیٹ لیتا ہے اسی طرح سرکار ذکرِ قلب کا سلسلہ لے کر آئے ۔سرکار نے ہم جیسے گنہگاروں کو اپنی لپیٹ میں ایسے لے لیا کہ ہم سب ظاہر میں کو ئی تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی ایک ہو گئے اور آپ جانتے ہیں اس کیلئے سرکار نے کتنی محنت فرمائی ؟دور دراز علاقوں کا سفر طے کیا ۔جہاں بھی جس علاقے میں تشریف لائے ۔سرکار کا آغاز بھی ذکرِ قلب ہے اورسرکار کے خطاب کا اختتام بھی ذکرِ قلب ہے ۔ سرکار کے خطاب کا آغاز بھی کلمے سے ہے اور اختتام بھی کلمے کے اوپر ہے ۔آپ سرکار کی کوئی بھی دُعا یا خطاب اُٹھا کر دیکھیں جو سرکار اپنے آنے کا مدعا،مقصد پیش کرتے ہیں وہ بھی ذکرِ قلب ہے اورجب سرکار محفل کا اختتام فرماتے ہیں تو ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے ذکرِ قلب لینا ہے آنکھیں بند کرے اور دل پر اللہ کا نام تصورکرتے ہوئے میری آواز کے ساتھ آواز ملاکر اللہ ھو اللہ ھو پڑھے۔فقط یہی مشن اور پیغام ہے سرکار شاہ صاحب کا اور اس پیغام کو اپنے سینوں میں بسانے والے اور اس پیغام کو مستحق دلوں تک پہنچانے والے لوگ ظاہر میں جہاں بھی ہوں میرے مرشد کا اُن کیلئے فرمان ہے کہ وہ میرے سب سے زیادہ قریب ہیں ۔میں بھی چاہتا ہوں اور آپ بھی چاہتے ہیں اور یقیناًچاہتے ہیں کہ سرکار کا قرب نصیب ہو،سرکار کی معیت نصیب ہو جائے ،سرکار کاساتھ مل جائے ۔میرے مرشدِ کریم کا فرمان ہے کہ کچھ لوگ ظاہر میں ہمارے قریب بیٹھے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ دور درازکے علاقوں میں مشن کا کام کررہے ہوتے ہیں ۔فرمایا ہمارے نزدیک ،ہمارے قریب وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظاہر میں تو دور ہوتے ہیں لیکن ہمارے مشن کیلئے کام کر رہے ہوتے ہیں ۔جس پیغام کے لئے سرکار نے خود بھی سفر طے کئے ۔وہ پیغام ہمیں عطا ء فرمایااور ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ خود بھی اللہ کا ذکر کرو اور اللہ کے ذکر کا پیغام مستحق لوگوں تک پہنچاؤ۔یہ سرکار کا مختصر سا اور سیدھا ساداسا آسان ساپیغام اور مشن ہے ۔اسمِ ذات اللہ کو اپنے دلوں کے اندر بسانا۔اس کیلئے سرکاراجازتِ ذکرِ قلب عطا ء فرماتے ہیں اور جس کو سرکاراجازتِ ذکرِ قلب عطا ء فرماتے ہیں۔ساتھ اُس کی مشق بھی بتاتے ہیں ۔اللہ کے نام کو دل کے اندر پکا کرنے کیلئے ،دل کے اوپر نقش کرنے کیلئے مشق بھی سرکار بتاتے ہیں کہ اس طرح مشق کو کرنا ہے اور اللہ کے نام کو اپنے دل کے اندر بسانا ہے ۔جس کیلئے سرکار نے ارشاد فرمایاکامیاب ہوا وہ شخص جس کو دوچیزیں ملیں۔1۔ ایسا قلب جو ہمہ وقت اللہ کا ذکر کرے 2۔ ایسا مرشدجو دور رہ کر بھی خبر گیری کرے۔یہ دونوں چیزیں ہمیں ملیں ۔اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ اس سے ہم خود کتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں اور دوسروں کو کتنا فائدہ پہنچاتے ہیں ۔مرشدِ پاک کے اس مشن کیلئے جس کیلئے ہم سب سرکار کی بارگاہِ اقدس میں اللہ کے نام پر آئے ۔ہمارا سودا ہوا اور یہ ایسا سودا ہواکہ سرفروشوں نے مرشد کے نام پر ،ان کے دستِ مبارک میں ،اُن کے قدموں میں اللہ کے نام پر اپنی جوانیوں کو قربان کر دیا ورنہ اتنی دیر رات کو کوئی نہیں بیٹھتا۔یہ دلوں کی ڈور ہے جو مرشد کے ہاتھوں میں ہے جنہوں نے رات کے اس پہر میں ہمیں یہاں بٹھا رکھا ہے ۔
فرمایا اللہ کا نام دل میں بساؤ۔اسمِ ذات اللہ جب دل میں آتا ہے تو انسان کے غافل قلب میں سمجھ بوجھ آجاتی ہے ۔جس قلب کو سمجھ بوجھ نہ آئے ایسے قلب کیلئے پروردگارِ عالم نے ارشاد فرمایا۔””میں نے کثیر تعداد جنوں اورانسانوں کی جہنم کے لئے بنائی ہے ۔””یا اللہ!یہ تیری مخلوق ہے یہ جہنم میں کیوں جائے گی؟فرمایااس لئے کہ “”میں نے ان کو قلوب عطاء کئے ہیں لیکن اُن کے قلبوں کے اندر سمجھ بوجھ نہیں ہے””۔غفلت اور اللہ کی بارگاہ سے دوری کی وجہ سے ان کے قلبوں میں نہ سمجھ ہے نہ بوجھ ہے ۔””میں نے ان کو کان عطاء کیے ہیں لیکن یہ سنتے نہیں ہیں “”یہ ان کانوں کی بات نہیں ہے یہ دل کے کانوں کی بات ہے ۔””آنکھیں عطاء کیں لیکن دیکھتیں نہیں”” ایسا شخص چوپاؤں کی مانند ہے بلکہ ان سے بھی بد تر۔جس کے سینے میں قلب موجو د ہے نیکی اور بدی کی سمجھ نہیں ۔اچھائی او ربرائی کو جانتا ،پہچانتا نہیں ۔یہ غافل لوگوں کی نشانیاں ہیں ۔یہ اللہ کی مخلوق میں افضل ہو کر جانوروں سے بد تر کیوں ہو جاتا ہے ؟سینے میں قلب ہے سمجھ نہیں ہے۔ہماری خوشی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ آج اُس ہستی کا جشنِ ولادت ہے جس نے ہمارے قلوب کو سمجھ عطاء فرمائی ۔جنہوں نے اللہ کے نام پر ہمارے سینوں کو منور کیا ہے ۔جس کی وجہ سے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنی جوانیا ں مرشدِ پاک کے نام کر چکا ہے۔
آخر میں ،میں یہ سمجھتا ہو ں کہ آج ہماری محفل کی زینت،لاہور داتاکی نگری سے تشریف لائے ہوئے ہمارے معزز مہمان حاجی سعید احمد قادری ہیں جو مرشد کے اس پیغام کو داتا ؒ دربار کے صحن میں بیٹھ کرجمعتہ المبارک کو جمعہ کے بعد اور جمعرات کو رات 10بجے مرشدِ پاک کی اجازت سے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔یہ آپ کو اجازتِ ذکرِ قلب عطاء کریں گے۔یہ دلوں کے ذریعے اللہ کو یاد کرنے کا طریقہ ہے جو آپ کو بتا یا جائے گا۔اُس کے اوپر عمل کرنا آپ کا کام ہے ۔اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے اللہ کا نام آپ کے دل میں آجائے ۔آپ کا غافل قلب زندہ وبیدار ہو جائے ۔آپ کے لئے بہت مبارک ہے ۔آپ نے دل کی ایک دھڑکن کے ساتھ اللہ اور دوسری کے ساتھ ھو کرنا ہے اور ساتھ میں اسمِ ذات اللہ ھو کو اپنے دل پر لکھا تصور کرنا ہے ۔اسکے بعدحاجی سعید احمد قادری نے نئے لوگوں کوذکرِ قلب کی اجازت دی۔درودوسلام کے بعدمرکزی عالمی امیرعلامہ مولانا سعیداحمد قادری نے دعاکی اور حاضرین محفل میں لنگر تقسیم کیاگیا۔

Tilawat; Qari Tariq  Mehmood Qadri

1 Abad Ali Abad 1 Abad Ali Abad cake cake-1 croud 3 croud-2. croud-damal damal2 Dua 3 Dua Dua-Croud flower Guests 1 Guests Guests; Pir Syed Nasir Ali Mahboobi and Pir Syed Zafar Hussain Shah Guests-3 Haji M.Saeed-Qadri Sb Haji Saeed Ahmad sb Hmd; M.Umar Istiqbaal Khitab Haji M.Saeed-Qadri Sb Naat; Abid ali abid Naat; Qari Adeel Ahmad Naqabat Ch.M.Ijaz Gujjar Naqabat M.Shafiq qadri salam salam-2 salam-croud stage-2 stage3

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان