الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

سالانہ جشنِ ولادتِ مرشدِ پاک کے سلسلہ میں (فیصل آباد) میں خصوصی محفلِ

November 25, 2015

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ) پاکستان،فیصل آبادکے زیرِ اہتمام آستانہ عالیہ پر مرشدِ پاک حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاھی مد ظلہ العالی کے 74ویں جشنِ ولادت کے سلسلہ میںآستانہ پر 25نومبر2015 ؁ ء کو خصوصی محفلِ پاک منعقد کی گئی جس میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری اور محمد رفیق قادری نے سرانجام دئیے۔محفلِ پاک کا آغاز حمدِ باری تعالیٰ سے کیا گیاجس کی سعادت محمد رضوان اشرف نے حاصل کی ۔اسکے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺبحضورسرورِ کون و مکاں نصیر احمد قادری ،محمد سیف اور محمد ابسام نے پیش کی ۔
ممبر مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے اس پر مسرت موقع پراپنے خیالات کا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ سرکار فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جنگلوں میں اپنی مرضی سے گئے۔چلہ میں کامیابی کے بعد ہم اپنی مرضی سے دنیا میں واپس نہیں آئے ۔اللہ کی ذات نے ہم سے کہا کہ آپ واپس جائیں اور خلقِ خدا کو فیض پہنچائیں لیکن ہم دنیا میں واپس نہیں آنا چاہتے تھے ہمیں تو وہاں سے وہ کچھ مل گیا تھاکہ واپس آنے کو جی نہیں چاہتا تھالیکن ہم اللہ کے حکم سے واپس دنیا میں آئے ہیں اور آپ کو فیض پہنچا رہے ہیں وہ فیض کیا ہے ؟وہ اسمِ ذات اللہ کہ جس کیلئے سرکار فرماتے ہیں کہ اس کو حاصل کرنے کیلئے یہ شرط ہے کہ ایک دفعہ جنگل جایا جائے۔وہاں پر کامیا بی حاصل کرنے کے بعد پھر انسان دنیا میں واپس آسکتا ہے ۔اس لئے سرکار فرماتے ہیں کہ جنگل جانا شرط ہے لیکن یہ آپ (سرفروش ذاکرین) کے لئے یہ رعایت ہے کہ آپ یہ چیز دنیا میں رہ کر حاصل کر سکتے ہیں اس لئے ہمیں اس چیز کی قدر کرنی چاہیے کہ سرکا ر شاہ صاحب کی وجہ سے ہمیں یہ رعایت ملی ہے ورنہ آپ اولیا ء اکرام کے حالا تِ زندگی کا مطالعہ کر لیں تو آپ کو مختلف جگہوں پر اور مختلف حوالوں سے یہ پتہ چلے گا کہ مرشدِ حق کی تلاش کیلئے کئی کئی سال وہ دنیا میں پھرتے رہے کہ وہ مرشدِ برحق کی سنگت اور رفاقت کو حاصل کر لیں ۔ہم سب کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ہم نے شائد ہی کوشش کی ہو مرشد کو پانے کی وہ مرشدِ لجپال ہمارے پاس خود ہی آگئے تو یہ اتنی بڑی خوش قسمتی ،اتنی بڑی عنایت اور اتنی بڑی ہدایت ہے۔ ہمیں اس پر ناز ہونا چاہیے کہ ہمیں یہ گھر بیٹھے مل گئی ۔سرکار فرماتے ہیں کہ جس سے آپ کو یہ اسمِ ذات اللہ مل جائے ۔ملنے کے بعد یہ آپ لوگوں پر فرض ہو گیا جان جاتی ہے تو چلی جائے لیکن ایسے مرشد کو نہیں چھوڑناکیونکہ جو دنیا میں آیا ہے اُسے جانا تو ہے ہی ۔مرنا تو ہے لیکن ایسے لجپال اور کریم مرشد کو نہیں چھوڑنا۔اب ظاہری طور پر تو مرشد ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن اُن کا فیض اور مشن تو جاری و ساری رہے گاجس کے متعلق سرکار نے فرمایا کہ میں انجمن سے ہوں اور انجمن مجھ سے ہے۔دوسرے معنی میں انجمن کے معنی مشن کے ہیں جب مشن جاری و ساری ہے تو سرکار بھی موجود ہیں اور ہمارے قلب جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں لگے ہوئے ہیں ۔یہ اُس وقت تک نہیں جاری رہ سکتے جب تک مرشد کی ذات موجود نہ ہواور جو سرکار نے فرمایا کامیاب ہوا وہ شخص جسکی مرشد دور رہ کر بھی خبر گیری کرے وہ صرف اُس وقت کیلئے نہیں کہا گیا تھابلکہ وہ ہمہ وقت کیلئے تھا ۔ہمہ وقت خبر گیری کیسے ہو رہی ہے ؟خبر گیری وہی کرتا ہے جو موجو د ہوتا ہے تو ہمیں اس چیز کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہم سرکار کوکیا منہ دکھائیں گے؟میرے نزدیک ایسا نہیں کہنا چاہیے۔سرکار کی ذات تو ہمیں ہمہ وقت دیکھ رہی ہے ۔ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے مرشد کی ذات ہم سے ناراض ہو۔ہمیں وہی کام کرنا چاہیے جس سے مرشد کی ذات ہم سے راضی ہواور راضی کیسے ہوں گے جو سرکارنے مشن ہمیں دیا ہے اور یہ مشن ہم نے ایسے پھیلانا ہے جس طرح سرکار نے ہمیں بتا یا۔مثال کے طور پر سرکار نے فرمایا کہ اعلیٰ مشن آپ کا اخلاق ہے ۔اب ہمیں اپنے اخلاق کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے کسی سے کوئی بات کر رہے ہیں ،کسی کو مشن بتا رہے ہیں تو اپنا اخلاق پیش کریں ۔سرکار شاہ صاحب نے ارشاد فرمایا نماز اور ذکر آپ نے نہیں چھوڑنا ہم آپکو نہیں چھوڑیں گے۔ہمیں دوسروں کو نماز اور ذکر کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی سختی سے اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے کیونکہ سرکار نے ہمیں نمازِ حقیقت پڑھنے کی تاکید کی ہے ۔یہ نمازِ حقیقت تبھی پڑھی جاسکتی ہے جب دل حاضر ہو ۔یہ وہ چیزیں ہیں جو صرف مرشد کی ذات سے ہی مل سکتیں ہیں کسی اور سے نہیں مل سکتیں جیسا کہ حضرت سلطانِ حق باھو ؒ نے بھی ارشاد فرمایا۔طالب بیاں ،طالب بیاں ،طالب بیاں ۔۔۔جو سرکار کی ذاتِ مبارکہ نے ہمیں چیزیں دی ہیں ہمیں اُس کی قدر کرنی چاہیے۔ہمیں درود شریف اور ذکرِ لطائف کی محفل میں آنا چاہیے۔جہاں تک محفلِ ذکرِ لطائف کا تعلق ہے تو یہ صرف ذاکرین کو سرکار کی طرف سے ملی ہے ورنہ تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو اولیاء اکرام کو بھی ذکرِ لطائف کرنے کی اجازت نہیں ہے اور یہ نعمت قبلہ شاہ صاحب کی طرف سے ہمیں ملی ہے ۔اکٹھے ہو کر جو ذکرِ لطائف کی محفل کی جاتی ہے وہ صرف سرکار کی وجہ سے ہی ہمیں ملی ہے اور کسی کو اجازت نہیں ہے حتٰی کہ اولیاء اکرام بھی اس محفل میں شرکت نہیں کر سکتے ۔یہ مرشد کا خاص کرم ہے جو بھی پہلے دن آتا ہے وہ ذکرِ لطائف کر سکتا ہے اور یہ اتنی اہم محفل ہوتی ہے کہ زیادہ نہیں تو صرف ایک لمحے کیلئے محفلِ حضور ی ﷺنصیب ہو تی ہے۔حضور پاک ﷺکی محفل میں لے جایا جاتا ہے۔اس لئے ہم سب کو اس محفلِ پاک میں شریک ہونا چاہیے اور اس کی قدر کرنی چاہیے۔قدر کیا ہے ؟خود اُس پہ عمل کیاجائے اور دوسروں کو دعوت دی جائے ۔اللہ ھو کرو اور اللہ ھو کی دعوت دو۔سرکا نے فرمایا کہ ہمارا مشن بہت سادہ ہے لیکن ہماری نادانی کی وجہ سے ہمیں پریشانی ہوتی ہے ۔ ایک بزرگ کاواقعہ ہے کہ جب قبر میں پوچھا جائے کہ تمہارا رب کون ہے ؟تو میں فرشتوں سے کہوں گاکہ اللہ سے پوچھو !کہ میں کون ہوں ؟تو سرکار نے اپنے انداز میں فرمایا کہ جب فرشتے پوچھیں کہ تمارا رب کون ہے ؟بلکہ سرکار نے فرمایا کہ اُن کو تھوڑا ستانااور پھر اُن کوکفن ہٹا کر دکھا دینا ۔کچھ کہنا بھی نہیں ۔فرشتے چلے جائیں گے۔یہ سعادت ،خوش نصیبی صرف مرشد کی ذات سے ہمیں عطاء ہوئی ہے ۔ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے اللہ کو بڑی محنت سے پایا ہے لیکن اگر آپ کو مفت میں مل گیا تو اس کی قدر کریں ورنہ آپ چلہ گاہ چلے جائیں کہ سرکار وہاں 3سال رہے ہیں سبھی لو گ وہاں پر گئے ہیں ۔ امی جی حضور کے چالیسویں کے بعد لعل باغ میں جانے کا پروگرام بن گیا ۔وہاں سرکار کی ایک بیٹھک تھی جہاں پر قرآن شریف ،کپڑا اور روٹی کے سوکھے ہوئے ٹکڑ ے رکھے ہوئے تھے تو وہاں پر ہم بیٹھ گئے وہاں پر اتنی گرمی تھی کہ بیٹھا نہیں جارہا تھا حالانکہ درخت کاسا یہ بھی تھا لیکن اُس کے باوجو د گرمی محسوس ہو رہی تھی ۔اس وقت میں سوچ رہاتھا کہ سرکار کی ذات مبارکہ یہاں پر بیٹھے رہے ہیں اور یہاں پہ 3سال کا عرصہ گزارا ہے ۔ وہاں پر نزدیک میں ایک ہوٹل تھا اُس نے ٹھنڈے پانی کا جگ بھی رکھ دیا۔مقصد یہ ہے کہ وہاں پر شب و روز گزارنا اللہ والوں کا ہی کام ہے کوئی دنیا دار ایسا نہیں کر سکتا ۔آخر میں صرف یہی کہوں گا کہ سرکار شاہ صاحب کی کتب کا مطالعہ کریں اور آپ کے خطابات کو بار بار سنیں اور لوگوں کو دکھائیں ۔اس طرح ہم سب سرکار کی اصل تعلیمات عوام الناس تک صحیح معنوں میں بہم پہنچا سکتے ہیں ۔اللہ اور رسول ﷺ ہماری آج کی حاضری کو مرشدِ پاک کے طفیل قبول و منظور فرمائیں اور سرکار شاہ صاحب کی بارگاہ میں ہم سب کو سرخرو ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں ۔آمین۔
بعد ازاں محمد طاہر قادری نے بارگاہِ غوث الوراءؓ میں منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔مرشدِ پاک حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی کی شانِ اقدس میں محمد جمیل قادری ،محمد رضوان قادری،محمد عدیل قادری اورشبیر احمد ہیرا نے اپنے اپنے مخصوص انداز میں قصائد پیش کیے۔ممبر مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے نئے ساتھیوں کو اجاز تِ ذکرِ قلب کی نایاب دولتِ عظمیٰ سے نوازا۔امیرِ فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے حلقہء ذکر ترتیب دیا ۔مرشدِ پاک کے جشنِ ولادت کے سلسلہ میں تمام سرفروش ذاکرین نے مل کر کیک کاٹااور ٖفضا تیرا شاھی میرا شاھی گوھر شاھی گوھر شاھی کے نعروں سے گونج اُٹھی۔حاجی محمد اویس قادری نے اختتامی دعا کروائی۔

Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (1) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (2) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (3) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (4) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (5) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (6) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (7) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (8) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (9) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (10) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (11) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (12) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (13) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15 (14) Salana Jashn e Wiladat e GOHAR SHAHI(M.A) 25-11-15

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان