الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

عشقِ محمدی ﷺانقلابی تبدیلی اور فلاحِ دارین کی ضمانت ہے۔حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی

January 13, 2014

امام مساجد،صحافیوں اور پولیس اہلکاروں کو معاشی استحکام دیا جائے۔یہ تینوں طبقات معاشرے میں اہم حیثیت رکھتے ہیں اگر یہ مثبت کردار اد اکریں تو بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے ۔اہم سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ذمہ دار افراد کی عمر 40سال ہونی چاہیے کیونکہ اس عمر میں ہی شعورواحساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ) پاکستان کے بانی و سرپرست اعلیٰ اور عالمی روحانی شخصیت حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی نے 1990 ؁ء میں استقبالِ ربیع الاول پر اپنے خصوصی پیغام میں فرمایا کہ عشقِ مصطفیﷺانقلابی تبدیلی و فلاح دارین کا ضامن ہے ۔تمام اہلِ اسلام عید میلاد النبیﷺکی خوشیاں بھر پور طریقے سے منائیں ۔علاوہ ازیں 1997 ؁ء میں مختلف اخبارات کے صحافیوں اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے طالبانِ حق سے المر کز روحانی کوٹری شریف میں گفتگو کرتے ہوئے حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی نے فرمایا کہ ہمارے معاشرے کے تین (3)طبقات بہت اہم ہیں ۔ ایک مساجد کے پیش امام ،دوسرے پولیس کے اہلکاراور تیسرے اخبارات کے صحافی۔اگر یہ تینوں طبقات صحیح طریقے اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں تو معاشرے میں بہت اچھی تبدیلی آسکتی ہے اور ملک کا نظام بہتر ہو سکتا ہے اس سلسلہ میں حکومت کا فرض ہے کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ وہ رشوت سے محفوظ ہو کر منصفانہ طریقے سے خدمات سرانجام دیں اسی طرح اخباری صحافیوں کا مشاہرہ بھی بہت کم ہوتاہے لہٰذا صحافی خبروں کو سنسنی خیز بنا کر اپنے فائدے کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر انہیں کچھ آسرا مل جائے تو جن کے خلاف خبریں دیتے رہے ہیں ان کے حق میں بھی لکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ بلا تصدیق مواد شائع کیا جاتا ہے جس سے بہت سی شخصیات کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے صحافیوں کے لئے ضا بطہ اخلاق اور تربیت کا اہتمام ہو نا چاہیے اور صحافیوں کی کم از کم عمر 30سال ہونی چاہیے تاکہ وہ باشعور اندازسے اپنی ذمہ داریوں کو اد اکریں اور صحافیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اس طرح وہ آزادانہ طریقے سے اپنے فرائض اد اکر سکیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مساجد کے پیش امام کی تنخواہ بھی معمولی ہو تی ہے جس کی وجہ سے وہ مالی فائدے حاصل کرنے لئے ایسی سرگرمیوں میں شامل ہو جاتے ہیں جس سے ملک میں مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کو تقویت ملتی ہے ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ان تینوں طبقات کے معاشی مسائل میں بہتری پیدا کریں اس طرح بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہو ں گی۔اس کے علاوہ ریاست کے اہم اداروں میں کام کرنے والے ذمہ دار لوگوں کی عمر 40سا ل ہونی چاہیے کیونکہ اس ہی عمر میں آدمی باشعور اور ذمہ دار ہوتا ہے ۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان