الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

فیصل آباد 9محرم الحرام بروز جمعتہ المبارک محمد شکیل الرحمن خان کے یہاں روڈ پروگرام

October 25, 2015

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام (رجسٹرڈ) فیصل آباد کے زیرِ اہتما م 9محرم الحرام بروز جمعتہ المبارک بعد از نمازِ عشاء محمد شکیل الرحمن خان کے یہاں روڈ پروگرام منعقد کیا گیا جس کی صدارت امیرِ فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے کی ۔اس محفل پاک میں نقابت کے فرائض عبدالعزیز قادری نے سرانجام دئیے۔قاری عدیل قادری نے تلاوت کلامِ مجید سے محفلِ پاک کا باقاعدہ آغاز کیا ۔اسکے بعد حمدِ بار ی تعالیٰ کا نذرانہ پیش کیاگیا ۔بارگاہِ رسالت مآب ﷺاوربارگاہِ امامِ عالی مقام میں عقیدت و محبت کے نذرانے ملکِ پاکستان کے مشہورومعروف نعت خواں حضرات جناب طارق رؤف روفی،محمد رفیق چشتی،محمد آصف نقشبندی،محمد فیصل شوکت اور عبدالمنان قادری نے پیش کر کے شرکاء محفل کے دلوں میں محبتِ رسولﷺاور محبتِ اہلِ بیت کو مزید گرمایا ۔نقیبِ محفل نے اپنے خیا لات کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ اگر واقعی اپنے اندر جذبہ حسینی کو بیدار کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے وہ نورِ ایمان پیدا کرنا ہو گا جس کی وجہ سے وہ 72نفوسِ قدسیہ ہزاروں یزیدیوں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے ۔وہ نورِ ہدایت کیسے پیدا ہوتا ہے ؟اس کیلئے سب سے پہلے اپنے دلوں کو اللہ اللہ میں لگانا پڑتا ہے کیونکہ آج ہمارے دل گناہوں کی وجہ سے زنگ آلود ہو چکے ہیں اور پیارے آقا ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ہر چیز کی صفائی کا کو ئی نہ کوئی ذریعہ ہو تا ہے اور دلوں کی صفائی کا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے یعنی ہمیں دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ کرنا ہو گی ۔آج ہمیں کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھول چکی ہے ۔جب دل اللہ کے ذاتی نور سے روشن و منور ہوجائیں گے ،اس دل میں اللہ کے نور کی وجہ سے ایمانی قوت پیدا ہو جائے اور اس کی باطنی نظر بیدار ہو جائے گی جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
یہ دلِ بینادل کی دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ کرنے سے بیدار ہوتی ہے ۔جب یہ باطنی آنکھ کھل جاتی ہے تو حجابات اُٹھ جاتے ہیں یہی وجہ ہے حضرت امامِ حسین ؑ کے جان نثار ساتھیوں نے اپنی ایمانی طاقت سے حق اور باطل کی تمیز کر لی تھی ۔وہ اس حقیقت کو جان چکے تھے آج نواسہء رسولؓ کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے دینِ اسلام کی خاطر جان کی قربانی بھی دینی پڑی تو گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی سب نعمتیں حاصل ہو جائیں گی اور سب سے بڑھ کو اللہ اور اس کے پیارے حبیبﷺکی رضا اور خوشنودی حاصل ہو جائے گی ۔اس لئے انہوں نے اپنی جانیں اللہ کی راہ میں قربان کر کے حیاتِ جاودانی حاصل کرلی لیکن یزید نے دنیا اور آخرت کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا ۔
حضرت علامہ مولانا امتیاز احمد قادری نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔ “”جولوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں “” یہ شعور ان کو نہیں جو اُن کو مردہ سمجھتے ہیں بل احیاء کہہ کر قرآنِ کریم شہداء کی زندگی کا شعور دے رہا ہے۔سب سے پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شعور کسے کہتے ہیں ؟شہید کا معنی حاضر ہونے والا اور ناظر ہو نے والا ،دیکھنے والا ہے ۔قرآنِ پاک میں کئی جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے ۔جب یعقوب ؑ کی وفات کا وقت آیا تو یہ کہا گیا کہ کیا تم اس وقت حاضر تھے یعنی جب موت نے یعقوب ؑ کی بارگاہ میں حاضری دی۔اس سے پتہ چلا کہ انبیاء کو موت آتی نہیں بلکہ حاضری دیتی ہے۔یہاں شہداء کا معنی حاضر ہونے والا ۔اب قرآنِ پاک نے شہداء اور شاہد کا معنی ناظر ہونے والا بھی کیا ہے یعنی دیکھنے والا۔مکہ کے مشرک یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بیٹیاں کے طور پر پیدا کئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عقائدِ باطلہ کو رد کا اور فرمایا کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہنے والو!جب میں فرشتوں کو پیدا کر رہا تھا کیا تم دیکھ رہے تھے؟تو پتہ چل گیا کہ شہید کا معنی حاضر ہونے والا اورناظر ہونے والا ہے۔اب حاضر کہاں ہوتا ہے اور فرشتوں کے طور پر شہید کو شہید کہتے کیوں ہیں ؟حدیثِ پاک میں ہے کہ جب عام شخص وفات پاتا ہے تو اس کی روح کو نکالنے کے لئے ایک فرشتہ آتا ہے جب شہید کی وفات ہوتی ہے اور شہید کی جان نکلتی ہے توشہید کی مبارک روح کو قبض کرنے کے لئے ہزارہا ملائکہ اوپر سے تشریف لاتے ہیں ۔چونکہ شہید کی روح پر ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اس لئے ملائکہ کی حاضری کی وجہ سے اس مقتول کو شہید کہتے ہیں اور شہید کو ناظر ہو نے والایعنی دیکھنے والا اس معنی میں کہتے ہیں کہ اس کی روح کی تکریم یعنی احترام کیلئے ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور شہید کی روح اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتی ہے ۔اللہ کا صفاتی جلوہ کرتی ہے ۔دیکھتی ہے اس دیکھنے کی بنا ء پر اس کو ناظر یعنی دیکھنے والا کہتے ہیں ۔جب شہید کی روح اللہ کے پاس جاتی ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ اس سے کہو کہ سجدہ کرے ۔حضرت جابربن عبد اللہؓ جب شہید ہو گئے تو ان کے جسدِ خاکی کے ساتھ کفار نے بڑی بد سلوکی کی ۔جب ان کی نعش انکی ہمشیرہ کے پاس لائی گئی ان سے رہا نہ گیاتو اپنے بھائی کی نعش دیکھ کر رو پڑی۔تو آقاعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے فرمایا کہ بیٹی مت رو!اور حضرت جابرؓ سے فرمایاکہ اے جابرؓ !تمہیں پتہ ہے کہ تیرے والد کی روح جب اللہ کے پاس گئی تواللہ نے اس سے کیسے کلام کیا ؟فرمایا اب تک جتنے شہید ہوئے ہیں ان سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے پردے کے پیچھے سے کلام کیا ہے لیکن جب تیرے والد کی روح اوپر گئی تو اللہ تعالیٰ نے پردے ہٹا دئیے اور بلا حجاب کلام کیا کہ یہ روحِ حسین ؑ کے لئے اہتما م ہو رہا تھا ۔پہلے یہ قانون تھا جب شہید کی روح اوپر جاتی تھی تو رب تعالیٰ پردے کے پیچھے سے کلام کرتا تھا ۔لیکن جب عبداللہ بن عمروؓکی روح اوپر گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عبداللہ !اب چاہتا کیاہے تو حضرت عبداللہؓ کی روح نے عرض کیا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے پھر دنیا میں بھیج۔اللہ نے فرمایا کہ میری جنتوں میں پہنچ کر پھر دنیا مانگ رہا ہے ۔عرض کیا باری تعالیٰ! دنیا میں رہنے کیلئے نہیں ۔اس لئے دنیامانگتا ہوں کہ تیرے نام پر پھر قربان ہوجاؤں کیونکہ وہ جو وقتِ شہادت لذت و حلاوت آئی تھی اس کو دوبارہ حاصل کر سکوں۔آقاﷺنے فرمایا کہ شہید کی روح نکلتے وقت ایک چیونٹی کے کاٹنے سے بھی کم تکلیف ہوتی ہے ۔ادھر روح نکلی ادھرانواروصفاتِ الٰہیہ کے پردے اُٹھ گئے اور پتہ بھی نہیں چلتاکہ تلوار چلی ہے یا گولی چلی ہے ۔تلوار کی تکلیف ہی نہیں ہوتی ۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر! پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
یہ تو ایک شہید ہے جسکی وقتِ شہادت پر ہزارہا ملائکہ آتے ہیں اوراُس ایک شہیدِ اعظم کا مقام دیکھیے کہ جن کی قبر انور پر وقتِ صبح اور وقتِ شام70ہزار فرشتے آتے ہیں یعنی 70ہزار فرشتے صبح حاضر ہوتے ہیں اور 70ہزار فرشتے شام کو حاضر ہوتے ہیں تو آقاﷺ کی شانِ شہادت کا عالم کیا ہو گا؟آقاؑ کی شانِ شہادت اتنی بلند ہے کہ ایک شہادت ہر صبح ملتی ہے اور ایک شہادت ہر شام کو ملتی ہے ۔شہادت کا مطلب یہ نہیں کہ گردن کاٹی جائے ۔آقاﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا شہید بنایا ہے کہ اس شہادت کا صدقہ سب شہیدوں کو مل رہا ہے اور امامِ حسین ؑ کو اسی شہادت کا صدقہ ملا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب حضرت امامِ حسین ؑ کی شہادت کا وقت آیا تو آقاﷺمدینہ میں اپنی زوجہ امِ سلمہؓاور مکہ میں حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ کے خواب میں آئے اور دونوں نے پوچھا کہ آقاﷺآپ نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ؟آپ ﷺکے بال مبارک اورداڑھی مبارک گرد آلودہیں تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ میں ابھی ابھی مقتلِ حسین ؑ سے حاضر ہو کر آرہا ہوں اورآقاﷺنے حضرت امِ سلمہؓ کوایک شیشی میں کربلا کی مٹی لاکر دی تھی اور فرمایا تھا اس مٹی کو سنبھال کر رکھ لینا جس دن یہ مٹی خون میں بدل جائے تو سمجھ لیناکہ میرا بیٹاحسینؓ ؑ شہیدہو گیا ہے۔آپ بیدارہوئیں اور شیشی کو دیکھا تو اس میں موجود مٹی خون میں بدل چکی تھی تو فرمایا کہ صدقت یا رسول اللہ ﷺ!آپ ﷺنے سچ فرمایا ۔جسے شہادت کا ایک تاج ملا وہ تو مردہ نہ رہا زندہ ہو گیا اور صبح و شام جس کو دو دو شہادتیں ملتیں ہیں ان کی حیات اورزندگی کا عالم کیا ہوگا؟جب امامِ حسین ؑ کا سرانورنیزے پہ چڑھا کے لایا جا رہا تھاتو آگے آگے ایک حافظ قرآنِ مجید کی تلاوت کررہا تھاتو جب اُس نے یہ تلاوت کی کہ اصحابِ کعف کے واقعات بڑے عجیب ہیں۔اللہ پاک نے سرحسین ؑ کو زبان دے دی اور آپؓ نے اُس وقت سارے لوگ گواہ تھے آپؓ نے فرمایاسرانورنیزے پر رکھا ہے اور آپؓزبانِ حال سے ارشاد فرمارہے ہیں کہ اے اصحابِ کعف کے واقعات کو عجیب کہنے والے!نواسہ ء رسول کا قتل ہو کر نیزے کی نوک پر چلنا اُس سے بھی عجیب تر ہے ۔جب یہ قافلہ دمشق کے بازارمیں جاکر رک جاتا ہے تو لوگ چھتوں پر چڑھ کر پوچھنے لگے کہ یہ فوج کیا معرکہ مار کے آئی ہے تو یزیدیوں نے کہا کہ(نعوذ بااللہ) حکومت کے کچھ قیدی ہیں اور یہ ان کے سرَ۔اتنے میں ایک بوڑی عورت نے کچھ دوپٹے بھیجے اور کچھ کھانے پینے کا سامان بھیجا تو حضرت سیّدہ بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اس عورت کو بلاکرفرمایا کہ اے عورت تو کون ہے ؟اس لئے کہ کربلا سے لے کر دمشق تک ہمیں کسی نے پانی تک نہیں پوچھا ۔تو کون ہے اتنی عنایت اور مہربانی کرنے والی ؟اس نے کہا کہ میرا نام فضاہے اور میں حضرت فاطمہؓ کی کنیز ہوں جو مدینہ میں ہیں ۔جب میں مدینہ سے دمشق جانے لگی تو عرض کی کہ بی بیؓ !مجھے کوئی نصیحت ہی کر دیں کہ زندگی بھی میں اس کو پلے باندھ لوں ۔آپؓ نے فرمایا کہ تیرے لئے ایک ہی نصیحت ہے کہ زندگی میں کبھی قیدی نظر آجائیں تو اُن سے اچھا سلوک کرنا۔میں نے سمجھا کہ آپ قیدی ہیں اس لئے میں نے اچھا سلوک کیا کہ کھانے پینے کی کچھ چیزیں بھیج دیں اور سروں پر لینے کیلئے دوپٹے بھیج دئیے۔آپؓنے فرمایا کہ اچھا بی بی اللہ تیرا بھلا کرے ۔تیری کوئی اور خواہش؟اس نے کہا کہ میری ایک ہی خواہش ہے کہ میں زندگی بھر دعا کرتی رہی ہوں کہ بی بی فاطمہؓ کے بچے حسن ؑ تھے ،حسین ؑ تھے ،زینب تھی۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ زندگی میں ایک بار مجھے اُن کی زیارت ہوجائے توحضرت بی بی زینبؓنے فرمایا کہ بی بی تیری دعا قبول ہو گئی میں زینبؓ ہوں اور جس کا سر کٹا ہو انیزے پہ ہے وہ حسینؓ ہے ۔اللہ پاک ہمارے دلوں کو اہلِ بیت اطہار کی محبت سے روشن فرمائے ۔آمین۔
ممبر مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد اویس قرنی نے نئے ساتھیوں کو اجازتِ ذکرِ قلب دی ۔درودوسلام کے بعد ختم شریف پڑھا گیا اور ممبر مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد اویس قرنی نے دعائے مغفرت فرمائی ۔اختتامِ محفل پر شرکاء کی لنگر سے تواضع کی گئی ۔

Tilawat Qari Adil Qadri 9 Muharram 2015 Abdul Aziz Qadri 9 Muharram 2015 Abdul manan qadri 9 Muharram 2015 Drood o Slam 1. 9 Muharram 2015 Drood o Slam Street # 1 fateh abad Sharqi Dua Muhammad Afzaal Qadri 9 Muharram 2015 Faisal Shaukat 9 Muharram 2015 Guests on Stage 9 Muharram 2015 Haji M.Awais Qarni Zikr e Qalb 9 Muharram 2015 Hmd Bashir Ahmad Qadri 9 Muharram 2015 Khitab 9 Muharram 2015 Khitab Molana imtiaz ahmad Qadri 9 Muharram 2015 M.Rafique Chishti 9 Muharram 2015 Naat 9 Muharram 2015 Tariq Rauf Roofi 9 Muharram 2015 (2) Tariq Rauf Roofi 9 Muharram 2015M.Asif Naqshbandi. 9 Muharram 2015

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان