الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

ماہانہ روح پرور محفل ِگیارھویں شریف وجشن ِجیلانی ؒ

January 20, 2017

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ) فیصل آبا د کے زیر ِاہتما م آستانہ عالیہ پر جشن ِجیلانی ؒکے سلسلہ میں خصوصی محفل ِپاک کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے فرمائی۔محفل پاک کا آغاز حمد ِباری تعالیٰ سے قاری طارق محمود قادری نے کیا۔نعت ِرسول ِمقبول ﷺ،منقبت ِغوث الوراء ؓاور قصیدہ ٔ مرشدی کی سعادت محمد رفیق قا دری ،افسر علی رضوی،عبدالعزیز قادری اور عبدالمنان قادری نے حاصل کی ۔چیئرمین مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر ِقلب سے نوازا۔اس محفل ِپاک میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری اور ڈاکٹر محمد مشتاق قادری نے سرانجام دئیے۔حلقۂ ذکر امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے ترتیب دیا۔درودوسلام کے بعد ملک خداداد پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور امن و امان کے قیام کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔اختتام ِمحفل پر تمام حاضرین میں لنگر ِغوثیہ تقسیم کیا گیا ۔
اس موقع پر محمد اسماعیل سہروردی اور حضرت علامہ مولانا نا صر علی شاہ Phd. (سمندری )نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ
ربّ ِکائنات نے قرآن ِمجید میں ارشاد فرمایا:۔
اللہ پاک جسے چاہتا ہے ،جب چاہتا ہے اپنے قرب کے لئے چن لیتا ہے اور جو چنائو میں نہیں آتا۔وہ عبادت و ریاضت کی وجہ سے اللہ کے قریب ہو جاتا ہے ۔یہ چنائو اللہ کا ہے ۔کسی غیر کا نہیں ۔ہم کسی اللہ کے ولی پر اگر اعتراض کریں گے تو یہ اُس اللہ کے ولی پر اعتراض نہیں ہے بلکہ اُس مالک ِکائنات پر اعتراض ہے کیونکہ اللہ کریم نے یہ چنائو خود کیا ہے ۔پھر رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے محبوبﷺ!یہ صبح بھی اللہ اللہ کرتے ہیں اور شام کو بھی اللہ اللہ کرتے ہیں ۔محبوبﷺ!تم ان کے ساتھ بیٹھا کرو ۔ان کے ساتھ بیٹھ کر اللہ اللہ کیا کرو۔عرض کی باری تعالیٰ ۔کرتے یہ اللہ اللہ ہیں ۔بیٹھوں میں ۔اس کی وجہ ؟فرمایا۔میراجسم نہیں ہے ۔اگر میرا جسم ہوتا تو میں تیری مثل بن کر ان کے پاس بیٹھتا۔اس لئے ان کے پاس بیٹھنا اور اپنے چہرے کو بھی ان کی طرف سے نہ ہٹانا کیونکہ یہ اہل ِطریقت ہیں ۔اللہ اللہ کرنے والوں کی جماعت ہے۔سورۃ جن ،پارہ 19 میں مذکور ہے کہ ایک جن نبی ِرحمت ﷺ کی بارگاہ ِاقدس میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ ہم جنوں میں سے کچھ صالح جن ہیں،نیک ہیں اور کچھ گنہگار ہیں اورکچھ اہل ِطریقت ہیں ۔ابھی جن عرض کرہی رہا تھاکہ جبریل ِامین ؑحاضر ہو گئے اور کہا کہ جو اہل ِطریقت ہیں ہم انہیں قیامت والے دن سیراب کردیں گے ۔اہل ِشریعت کے متعلق ارشاد ِباری تعالیٰ ہے ۔فرمایا کہ ہم ا نکی پیاس بجھادیںگے اور اہل ِطریقت والوں کو سیراب کیا جائے گا۔یہ مقام و مرتبہ ہے اہل ِطریقت کا اللہ اللہ کرنے والوں کا۔تو جو لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ہم گیارھویں شریف کی محفل سجاتے ہیں، اللہ اللہ کرتے ہیں ۔خود بھی کرتے ہیں اوروں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ تم بھی ہمارے ساتھ مل کر بیٹھواور اللہ اللہ کرو ناصرف زبان کے ساتھ بلکہ اپنے دل کے ساتھ۔کیونکہ جس گیارھویں والے کی ہم محفل سجائے بیٹھے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میرا مرید بے خوف ہو جائے کہ میںنے اللہ سے ستر دفعہ وعدہ لیا ہے کہ میرا مرید بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گا اور میرا مرید وہ ہوگا جس کی زبان کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی اللہ اللہ کرے گا۔یہی گوھر شاھی کا پیغام ِخاص ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کو ایک واقعہ عرض کرتا ہوں کہاایک ہندو کے گھر کے سامنے ایک امیرمسلمان کا گھر تھا ۔ہندوکی بیوی پر مسلمان کا دل آگیا۔اُس ہندونے اس میں خیریت جانی کہ میں اپنی بیوی کو کہیں چھوڑ آئوں۔جب وہ ہندو اپنی بیوی کو لے جانے لگاتومسلمان کو بھی خبر ہو گئی ۔اس نے اپنا گھوڑا نکالااور اُس کے پیچھے چلا گیا۔اُس ہندو کو روک کر پوچھتا ہے کہ کہاں جارہے ہو ؟اپنی بیوی کو میرے پیچھے گھوڑے پر بٹھادو۔میں چھوڑ آتا ہوں ۔پہلے تو اُس نے ٹال مٹول کی لیکن جب دیکھاکہ یہ نہیں مانے گا تو اُس مسلمان سے کہا کہ اسے لے جا لیکن کوئی ضامن دے جا۔اُس نے کہا کس کی ضمانت دوں ؟ ہندو نے کہا کہ میں نے سنا ہے تمہارا کو ئی گیارھویں والا پیر ہے۔وہ ضامن دے جا اسے لے جا۔اب وہ مسلمان دوسرے گروپ کا تھا اُس نے کہا کہ نعوذبااللہ!وہ تو مر گیا ہے اسے ضامن کیسے مانوں ؟ نعوذبااللہ!اس ہندو نے جواب دیا اوہ غافل انسان !سن اوہ مسلی !تیرے لئے مَر گیا ہے ،میر ے لئے نہیں ۔مومن کبھی مرتا ہے و ہ تو قبر میںبھی زندہ ہو تا ہے ۔خیر اِن دونوں میں لڑائی جھگڑا ہو گیا۔مسلمان نے کہا اس کو ہی ختم کردیتا ہوں ۔نا رہے گا بانس ،نا بجے گی بانسری ۔اُس نے تلوار نکالی اور ہندوکو قتل کر دیا اور اس کے بعد ہندوانی سے کہا کہ اب تو میرے پیچھے گھو ڑے پر بیٹھ۔وہ بیٹھ گئی ۔ابھی اگلے چو ک میں پہنچے تھے کہ ایک گھوڑے پر سوار سفیدریش والا بزرگ چہرے کو ڈھانپے ہوئے سامنے آگیا اور پوچھا اے مسلمان !اس کو لے کر کہاں جا رہاہے ؟اُس مسلمان نے کہاکہ اس کو اس کے گھر چھوڑنے جا رہاہوں ۔اُس بزرگ نے کہا کہ تو جھوٹ بول رہا ہے ۔غلط کہہ رہاہے ۔دھوکا دے رہا ہے ۔اُس بزرگ نے تلوار نکالی ۔مسلمان نے کہا ۔واللہ !اس ہندوانی کو گھر چھوڑنے جارہا ہوں۔آپ نے کہا ایسی مسلمانی کا کیا فائدہ؟آپ نے تلوار سے اُس مسلمان کا سر قلم کردیا۔اسی لئے تو علامہ اقبال ؒنے فرمایا تھاکہ
خِرد نے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔
پھر بابا جی نے کہا کہ اب میرے گھوڑے کے پیچھے بیٹھ ۔اُس ہندوانی نے کہا کہ اے اللہ کے بندے !مجھ پر کرم کرنے والے ،مجھے اس سے بچانے والے ،مجھے یہ تو بتا کہ تو کون ہے ؟باباجی نے کہا کہ خود ہی ضامن بھی مانتی ہو اور خود ہی پوچھتی ہو کہ میں کون ہوں؟ارے پگلی !جس کو ضامن بناتی ہومیں وہی تمہارا غوث ہوں۔عرض کی باباجی ضرور جائوں گی لیکن ایک دفعہ پچھلے چوک تک جانا ہے ۔اس واقعہ کو راوی کرنے والے کو ئی عام لوگ نہیں ہیں ۔پیر ِطریقت ،رہبر ِشریعت محدث ِاعظم پاکستان ،حضرت مولانا سردار احمد صاحب (جامعہ رضویہ غوثیہ ،جھنگ بازار فیصل آباد)آپ کے خلیفۂ اول ،شاگر دِخاص پیر ِطریقت ،رہبر ِشریعت حضرت پیر فیض احمد اویسی صاحب جنہوں نے روح البیاں کی شرح لکھی ہے ۔انہوں نے اپنی کتاب میں اس واقعہ کو تحریرکیا ہے۔پچھلے چوک میں آکر مائی نے کہا کہ اس کو بھی ساتھ لے کے جانا ہے ۔آپ ؒنے فرمایا مائی سن!زبان سے نکلی ہو ئی بات ،کمان سے نکلا ہو ا تیراورجسم سے نکلی ہو ئی روح کبھی واپس نہیں آتی ۔اُس مائی نے عرض کی باباجی ٹھیک ہے لیکن میں نے سنا ہے کہ ایک کشتی میں سوار ستر افراد پانی میں ڈوب کر مر گئے تھے ۔تو آپ ؒنے اللہ سے دعاکرکے اُن سب کو زندہ کر دیا تھا۔میں تو صرف ایک بندے کے لئے عرض کررہی ہوں ۔آپ نے ٹھوکر ماری اور کہا کہ اللہ کے حکم سے اُٹھ۔وہ زندہ ہو گیا ۔زندہ ہو کر وہ ہندو آپ کے قدموں میں گر جاتا ہے اور اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ان کے قدموں میں گر جا اور کلمہ پڑھ لے ۔وہ ہندوانی کہتی ہے کہ میں تیری بیوی ہوں ۔تو مجھے اپنا مذہب تبدیل کرنے کا کہہ رہا ہے ۔تجھے کیا ہو گیا ہے ؟اُس ہندو نے کہا کہ میں نے مَر کر اس راز کو پا یا ہے ۔اس گیارھویںوالے پیر کی عزت و توقیر و شان زمین سے کہیں زیادہ آسمان پر ہے ۔انہوں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے ۔اب تم کہتے ہو کہ اگر وہ گیارھویں والے پیر ہیں تو دکھائو۔تو علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ
آنکھ والاتیرے جوبن کا تماشا دیکھے دیدۂ کور کو کیا آئے نظر وہ کیا دیکھے ؟
آج گوھر شاھی سرکار فرماتے ہیں کہ وہ آنکھ لے کے آئو ،نظر ِبینا لے کے آئوتو تمہیں سب کچھ نظر آئے گا ۔وہ باطن میں ہے وہ بھی نظر آئے گا ۔ان ظاہری آنکھوں سے آئے گا ۔آئو پہلے اللہ اللہ کرکے اس دل کی آنکھ کو روشن و منور کرو ۔وہ تو خود فرماتے ہیں کہ ہر دل پہ لکھوالواللہ ھو۔ارے !وہ تو لکھ رہے ہیں تم لکھوا نہیں رہے ۔آئو ان سے اکتساب ِفیض حاصل کرو اور اپنے دل کی خالی دھڑکنوں کو اسم ِذات اللہ سے جاری و ساری کرو پھر تمہیں حق و باطل کی تمیز بھی ہو جائے گی اور تمہار ا باطن بھی روشن و منور ہو جائے گا۔پھر تم خود جوہری بن جائو گے ۔پھر جہاں بھی جائو گے خود شیشے اور ہیرے کی پہچان کر سکو گے ۔ارے !آج کے دو ر میں یہ فیض کہاں ملتا ہے ؟در ِگوھر شاھی سے ملتا ہے ۔آئو اور اپنے حصے کا فیض حاصل کرو ۔یہی انجمن سرفروشان اسلام کاپیغام ہے اور یہی مشن ہے ۔اللہ تعالیٰ ہماری آج کی اس حاضری کو قبول و منظور فرمائے۔

20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (1) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (2) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (3) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (4) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (5) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (6) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (7) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (8) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (9) 20-01-2017 Pix. of 11vein Sharif Aastana ASI Fsd (10)

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان