الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

ماہانہ رو ح پرور محفل ِگیارھویں شریف بسلسلہ محرم الحرام ماہ اکتوبر2016

October 14, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)پاکستان ،فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ عالیہ پر ماہانہ روح پرور محفل ِگیارھویں شریف بسلسلہ شہادت ِامام حسین علیہ السلام نہایت تذک و احتشام سے منعقد کی گئی ۔جس میں نقابت کے فرائض نسیم احمدآرائیں اور محمد افضال قادری نے سرانجام دئیے۔محفل ِپاک کا باقائدہ آغازقاری طارق محمود قادری نے تلاوت کلام ِمجید سے کیا ۔محمد جمیل قادری نے ہدیۂ حمد پیش کی ۔اسکے بعد نعت ِرسول ِمقبول ﷺذیشان الٰہی ،عبدالعزیز قادری اورننھے منھے ثناء خواں محمد احتشام نے پڑھی۔ منقبت ِامام ِعالی مقام بحضور امام الشہداء ؑ کی سعادت منصب علی قادری نے حاصل کی۔منقبت ِغوثیہ ؓ قاری طارق محمود قادری نے پڑھی۔بعدازاںقصیدہ ٔمرشدی عبدالعزیزقادری نے پڑھا۔ممبر مرکزی مجلس ِشوری ٰحاجی محمد اویس قادری نے نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر ِقلب کی نایاب دولت سے نوازا۔اسکے بعد حلقۂ ذکر ِالٰہی منعقد کیا گیا ۔درودوسلام کے بعد دعائے مغفرت اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی ،امن و امان کے قیام اور عدل و انصاف کی حکومت کے قیام کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔
آ ج آپ ایک روحانی مرکز پر جمع ہیں ۔نور کی بارش برستی ہے ۔جب آستانوں پر جایا کریں تو اُنکے ادب و احترام کو ملحوظ ِخاطر رکھا کریں ۔آستانے پر جاکر مرشد کی نگاہ آپ کی طرف ہوتی ہے۔سارا فیض آپ کی طرف آرہا ہوتا ہے ۔مثلاًبجلی،اس کا پاور ہائوس سے تعلق ہے کہ نہیں؟ ۔یہ گرڈاسٹیشن سے آرہی ہے کہ نہیں ؟آپ کو روشنی دے رہی ہے ۔مطلب یہ کہ اس کا واپڈا سے کنکشن ہے۔یہ دنیاوی چیزیں ہیں ۔یہ روشنی جگمگا رہی ہے۔دِل کا تعلق کسی عام آدمی سے نہیں ہے ۔اس کا تعلق روحانیت کے ساتھ ہے ۔جس کا کنکشن اس کے ساتھ ہے ۔دل جگمگائے گا۔روشنی کی وجہ سے دنیا جگمگا رہی ہے اور روحانیت کی وجہ سے وہ دل جگمگائے گا۔ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ مولاناعبدالرحمن باروی نے کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آقائے دوجہاں ﷺ،حسنین ِکریمین کے نانا جان کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟”تمہارے جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے ۔وہ گوشت کا ہے ۔فرمایا تمہارا قلب ہے “۔اس قلب کو اتنا منور کر لو ۔آنکھیں چلی جائیں گی اس کی روشنی نہیں جائے گی۔میرے آقاو مولا ﷺتشریف فرما ہیں ۔ایک صحابی ؓآئے ۔درمیان میں انہیں جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گئے۔اجتماع بڑھتا گیا،بڑھتا گیا۔اللہ کے نبی ﷺنے دریافت فرمایامہک آرہی ہے ۔خوشبو کس نے لگائی ہے؟ ۔صحابیؓعرض کرنے لگے ۔یارسول اللہﷺ!اِدھر سے آرہی ہے۔فرمایا ۔سونگھوذرا۔سونگھی تو اسکے کپڑوں سے نہیںبلکہ اُس کے قلب سے آرہی ہے۔ صحابہ ؓنے عرض کیا۔یارسول اللہﷺ!یہ ہے کیا؟یہ خوشبو کیسی ہے ؟فرمایا۔اس سے پوچھو یہ کہاں سے آرہا ہے ؟یہ اللہ کے ذکر کی محفل سے آرہاہے۔اللہ اللہ کرنے کی وجہ سے اس کے دل سے یہ خوشبو آرہی ہے ۔سبحان اللہ۔تو پھر مجھے کہنے دیجئے۔حسین ؑہر طرف تیری ہی خوشبو ہے۔تیرے ہی گلشن کی خوشبو مہک رہی ہے مگر وہ رنگ الگ الگ ہے ۔کبھی تو وہ ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کے رنگ میں آجائے۔خوشبو وہی ہے مگر رنگ ہی تو بدلہ ہے ۔کبھی وہی خوشبو جو حسنین ؑکے نانا جان نے بانٹی ہے ۔وہ صدیق ِاکبر ؓمیں آجائے ،فاروق ِاعظم ؓمیں آجائے یا مولائے کائنات ؑمیں آجائے۔اگر آئے تو شہنشاہ ِبغداد میں آجائے ۔اس موقع پر میں آپ کے ذوق کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں
کتنا اونچا نام ہے گوھر شاھی کا۔لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تو بخشاگیا۔
تو تو ُگنہگار تھا۔میں نے کہا یہ صدقہ ہے گوھر شاھی کا۔
تو پھر نور کے چھینٹے آپ کے اوپر بھی پڑنے چاہییں۔آپ کے چہرے پر مسکراہٹ ہو نی چاہیے کیونکہ ہر طرف نور کی بارش ہو رہی ہے اور نور چھم چھم کے برس رہاہے ۔جب آپ کہتے ہیں ۔گوھر شاھی تو میں کہتا ہوں کفرکی یعنی یزیدیت کی ہو تی ہے تباہی۔تو ہمیں ملتی ہے بادشاھی ۔
حضرت علامہ مولاناعبدالرحمن باروی نے مزید کہا کہ دل کس طرح روشن ہو تے ہیں ؟اور اولیاء اللہ نے کس کس طریقے سے کفرکو مٹاکر لوگوں کے دلوں میںاللہ اللہ کروائی ہے ؟۔ایک بزرگ جو تاریخ میںپیر عبدالحکیم ؒکے نامِ نامی اسم ِگرامی سے مشہور ہیں ۔وہ کپڑے دھویاکرتے تھے یعنی دھوبی کا کام کرتے ہیں ۔ایک دن آپکے پاس ایک غیرمسلم بڑھیاآئی ۔(ابھی آپ کے نقیب ِمحفل کہہ رہے تھے کہ ہمارے مرشد کے پاس جو بھی آتا ہے ۔چہ مسلم ،چہ کافر!اُس کے قلب کو ذکر ِاللہ سے جاری کردیتے تھے۔مرشد حقیقت میں وہی ہوتے ہیں جو نوٹ کو نہ دیکھے ،ووٹ کو نہ دیکھے بلکہ اندر کی یعنی دل کی چوٹ کو دیکھے ۔اس لئے کہ دل کے اوپرجو چوٹ یا زخم لگا ہواہے ۔اللہ کے ولی نے اُسے ہی ٹھیک کرنا ہوتا ہے )۔باباجی! کچھ دنوں بعد بچی کی شادی ہے ۔یہ کپڑے دھونے بھی ہیں اور ان کو سات (7)رنگوں میں رنگنابھی ہے ۔آپ کپڑے دھو لیتے ہو یا رنگ بھی لیتے ہو؟آپ ؒنے فرمایا ۔دھوبھی لیتے ہیں اور رنگ بھی لیتے ہیں ۔آپؒ نے بڑھیا سے کہا کہ فلاں دن آکر اپنے کپڑے لے جانا۔جس جس کا دل مرشد ِکامل کے رنگ سے رنگا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک رنگا رہے گا۔ روز ِقیامت جب یہ رنگ چمکے گا تو پھر آپ کو پتہ چلے گاکہ یہ نسبت کیا ہے ؟اب جو عہد تھا ،وعدہ کیا تھا وہ بڑھیا اُس وقت آگئی۔حضرت نے ہاتھ بھی نہ لگایا۔گٹھڑی وہیں پڑی ہے۔وہ کہنے لگی ۔بابا جی !کام ہو گیا؟فرمایا ۔اوہ ہو ۔کام تو نہیں ہوا۔کام بھی نہیں ہوا اور آرام بھی نہیں ہوا یعنی کام نہیں کیا تو آرام بھی نہیں کیا ۔بابا جی یہ کیا ہوا ؟کیا بنے گا ؟صبح توبارات آرہی ہے ۔فرمایا ۔گھبرائو نہ ۔عام کے پاس نہیں آئی خاص کے پاس آئی ہے ۔بڑھیا رونے لگ پڑی ۔ آپؒ نے فرمایا رونے کی ضرورت نہیں ہے ۔پریشان نہ ہو ۔کیا مسئلہ ہے ؟بتائو۔کہنے لگی ان کو دھونا بھی ہے ،رنگنا بھی ہے ۔انہوں نے خشک ہو نا ہے ۔میں نے تہہ لگانی ہے ۔گھر لے جا کر جانا ہے ۔جو جہیز کا سامان بنا کے رکھتے ہیں اُس میں رکھنے ہیں اور مہمانوں کو دکھانے بھی ہیں ۔یہ میرے لئے بڑا مشکل کا م ہے ۔اتنا وقت میرے پاس نہیں ہے ۔آپؒ نے فرمایا ۔بیٹھ جا۔آپ ؒنے سارے کپڑے اُٹھائے اور نیل کے مٹکے میں ڈال دئیے۔بڑھیا اور رونے لگی ۔اب کیوں روتی ہو؟بابا جی !کپڑے نیلے نہیں کروانے ۔اس کو نیلا رنگ نہیں کروانا۔مجھ کو تو یہ رنگ چاہیے ہی نہیں ۔مجھے تو سبز،سرخ اور فلاں ،فلاں رنگ چاہیے تھا۔فرمایا ۔مانگ کون سا رنگ مانگتی ہے ۔اُس نے سبز رنگ مانگا ۔آپ ؒ نے مٹکے میں ہاتھ ڈال کر سبز رنگ کا کپڑانکا ل دیا۔وہ مانگتی گئی ۔جب سات (7)رنگ پورے ہو گئے تو پوچھتی ہے ۔بابا جی !کپڑے رنگ لیتے ہو یا دل بھی رنگ لیتے ہو ؟ آپ نعرہ لگا رہے تھے ۔دم دم دما دم یا گوھر ۔میں کہتا ہو ں ۔یا گو ھر ،نہ آشیطان تو اِدھر۔اب شیطان نہیں آئے گا اِدھر۔حدیث ِنبویﷺہے ۔اللہ تعالیٰ نے دو آدمیوں کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا ہے ۔ 1۔وہ جو سود خور ہے ۔2۔وہ جو ولیوںکا گستاخ ہے ۔ترجمہ:۔میرا اُس سے جنگ کا چیلنج ہے جو میرے ولیوںسے بغض رکھتاہے (حدیث ِقدسی)
جب رنگ نکال کر دے دئیے۔سات رنگ پو رے ہو گئے ۔وہ خوش ہو گئی اور خو ش ہو کرکہنے لگی ۔باباجی !آپ کپڑے رنگ لیتے ہو یا دل بھی ؟آپ نے فرمایا ۔کپڑوں کا تو بہانہ ہے ۔اصل تو دکان دل رنگنے کی ہے کہ لو گ آئیں ۔تو میں نے کہا تھا کہ مرشد نہ تو نوٹ کو دیکھتے ہیں ،نہ ووٹ کو دیکھتے ہیں بلکہ دل کی چوٹ کودیکھتے ہیں ۔اب دیکھا کیسے؟مرشد کی نگاہ جو پڑی تو دل رنگا گیا۔جب بے رنگا دل رنگا گیاتو وہ رنگ چمکا کیسے ؟اب دل کی چمک سنیے۔ایمان تازہ ہو جائے گا۔
کہنے لگی ۔بابا جی !میرے گھر صبح آرہی ہے بارات۔وہ بارات ہے ہندوئوں کی ۔غیروں کی ۔تومیرا دل تو رنگا گیا اور بارات کا ؟سبحان اللہ۔بارات آئے مسلمانوں کے گھر میں اور کفر کو نہ لے کر جائے بلکہ ایمان لے کے جائے۔زنگ آلودہ لے کر آئے اور صاف کروا کر لے جائے۔مثلاًجب آپ اپنی گاڑی کے دروازے کو پینٹ کرواتے ہیں تو دیکھنے والے اس کی چمک کو دیکھ کر خوش ہو تے ہیں کہ دروازہ نیا ہو گیا ہے ۔اگر دروازہ پینٹ کرنے سے چمک سکتا ہے تو دل صاف ہو کر کیوں نہیں چمکے گا؟حضرت نے فرمایا ۔آپ نے کل اپنی بیٹی کو ایک شرط پر رخصت کرنا ہے ۔بڑھیا نے کہا وہ کیا ہے ؟جب بارات آپ کے گھر پہنچ جائے تو کہنا کہ میں نے اپنی بیٹی تب ہی دینی ہے جب آپ راستہ تبدیل کر کے واپس جائیں ۔جس راستے سے آئے ہیں اُس راستے سے واپس نہیں جانا۔بڑھیا نے کہا اگر وہ نہ مانے تو فرمایااپنی بیٹی کو نہ بھیجنا۔نہ مانے تو اُن کو کہنا کہ میں اپنی بیٹی نہیں بھیجتی ۔پھر وہ مجبور ہو جائیں گے ۔کہا باباجی !پھر راستہ کون سا بتائوں؟فرمایااِدھر میرے پاس لے آنا۔کہا یہاں تو پُل ہی نہیں ہے ۔انہوں نے جانوروں کے ساتھ پل کے پار جانا ہے ۔فرمایا ۔پار ہی جانا ہے نا۔ہم پار لگانے کیلئے ہی تو بیٹھے ہیں ۔ہم نے یہاں ڈیرہ کس لئے لگا یاہے؟ہم دنیا کے پل پار لگوا رہے ہیں ۔کیا یہ آخرت میں ہمارا ساتھ نہیں دیں گے ؟
حضرت علامہ مولاناعبدالرحمن باروی کہتے ہیں کہ سُنیے!میرے نبی ﷺکی بارگاہ میں ایک صحابی عرض کرتا ہے ۔قیامت کب قائم ہو گی؟اللہ کے رسو لﷺنے دریافت فرمایا ۔کیا تیاری کی ہے ؟عرض کی آپ ﷺسے محبت کرتے ہیں ۔فرمایا۔جو جس سے محبت کرتا ہے قیامت کے رو زاُسی کے ساتھ اُٹھا یا جائے گا۔اب باباجی نے یہ شرط تو دے دی۔اب بڑھیا نے گٹھڑی اُٹھائی ۔کپڑے بھی رنگوالئے اور دل بھی ۔گھر جاکر بیٹی کو صورتحال بتائی اور کہا کہ بیٹی آپ نے میرا ساتھ دینا ہے۔ کہا میں آپ کا ساتھ دوں گی ۔بھلا دل تو نہیں رنگوا آئی ؟کہا میرا تو رنگا گیا ۔کہا تو نے اُدھر رنگوالیا اور میرا اِدھر رنگا گیا۔
مدینے سے صدادیتے ہیں دنیا کے امام اکثر بدل دیتے ہیں تقدیریں محمد ﷺکے غلام اکثر
نگاہ ِولی میں وہ تاثیر دیکھی بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی ۔
ایسی نگاہ کرتے ہیں اللہ والے ۔صبح بارات آگئی ۔شیڈول کے مطابق بیٹھی ۔کھانا کھایا۔شرط طے ہو گئی ۔وہ کہنے لگے ہم مان تو گئے ہیں۔ہاں اب پار بھی آپ نے لگا نا ہے ۔کہا کیوں نہیں ۔اب بارات آئی ۔جہاں پر اُن کے ساتھ عہد تھا ۔وعدہ کیا تھا ۔بابا جی کپڑوں کو نچوڑ رہے ہیں ۔پانی نکال رہے ہیں اور ساتھ ساتھ کہہ رہے ہیں ۔اللہ اللہ ۔ایک قطرہ زمین پر گرتاہے اور اللہ کا ذکر ہو تا ہے ۔ذکر ہو رہا ہے ۔ذکر جاری ہے ۔ذکر ِقلبی ہے ۔قلب پاک ہو گیا ہے تو سمجھ لیجئے پورا وجود پاک ہو گیا ہے ۔
میرے غوث الوراء محبو بِ سبحانی ،قطب ِربانیؓ فرماتے ہیںجس کا اندر صحیح طرح سے پاک ہو گیا ہے ۔باہر پلیتی نہیں آسکتی کیونکہ اندر جو پاک ہے۔حضرت عیسیٰ ؑایک دفعہ راستے میں جارہے تھے ۔کسی بدبخت نے آپ ؑکو گالی دی۔آپ ؑخاموش رہے اور اُس کو دعا دے کرچلے گئے ۔لوگوں نے پوچھا حضور !وہ گالی دے رہا ہے اور آپ ؑدعا دے رہے ہیں ۔آپ ؑنے ارشاد فرمایا ۔جو کچھ اندر ہو تا ہے ۔باہر بھی وہی کچھ ہو تا ہیں ۔
پیر عبدالحکیم ؒ کے پاس جب لو گ آئے تو پوچھا ۔باباجی !اِدھر پل ہے ؟فرما یا ۔بنا لیتے ہیں کون سا مشکل ہے ؟آج تو ماشا ء اللہ !پل سالہا سال نہیں بنتے۔حضرت نے کپڑے کا تھا ن دریا کے اوپر بچھایا ۔کہا گزر جائو ۔وہ کہتے ہیں ۔حضرت !لکڑی کے پل سے گزرتے ہو ئے ڈرلگتا ہے حالا نکہ لکڑی ا س سے مضبوط ہے لیکن یہ تو کپڑاہے ۔ہماری سواریاں تو گھوڑے ہیں ،خچر ہیں ،اونٹ ہیں ۔جب وہ پائو ں رکھیں گے تو سارے نیچے غرق ہو جائیں گے ۔ہم غرق ہونے نہیں آئے ۔فرمایا۔ہم غرق کرنے بھی نہیں آئے۔آپ ؒکے پاس ایک سواری تھی بیل ۔اُس کو حکم دیا اور اُس کے اوپر ڈھیر سارے کپڑے رکھ دئیے۔وہ کپڑوں کی گٹھ لے کر چلا گیا ۔پھر اُس کو اشارہ کیا آجائو۔واپس آگیا ۔یہ لوگ مطمئن ہو گئے ۔بعض لو گ ہو تے ہیں ۔شاہ جی !کوئی کرامت ہو تو پھر مانیں گے۔امام حسین ؑکی بھی لوگ پوچھتے ہیں کو ئی کرامت کربلا کی ۔صبر و استقامت سب سے بڑی کرامت ہے ۔ہزاروں کے دلوںکو دل والا،اللہ والا،بنا دیا ۔یہ کرامت نہیں تو اور کیا ہے ؟
دل دریا سمندروں ڈھو نگے تے کو ن دلاں دیا ں جانے ھو
ایک ایک سوار ی اوپر چل دی۔کسی کا پائوں بھی نیچے نہیں ہوا ۔کپڑا پھٹابھی نہیں ،پل ٹوٹا بھی نہیں ۔چلتے گئے ،چلتے گئے ،چلتے گئے ۔جب کافی لوگ پل کے اوپر پہنچ گئے تو کلمہ شروع ہو گیا۔تو قلب جاری ہو گئے۔اب حضور ﷺکا کرم ہو گیا ۔اب نعرہ لگائو دم دم دما دم یاگوھر
جب آیا گوھر تو کیسے بھاگا کفر۔خوشبو ملنے کے بعد بھی کہا ۔کہاں سے آئی ،کہاں سے آئی ۔۔۔تیرے دل میں آئی تو سب نے کلمہ پڑھااور مسلمان ہو گئے ۔باباجی نے کہا جب تمہاری باراتیں آئیں گی ،ہندوئوں کی ہوں گی ،جب جائیں گی تو مسلمانوں کی ہوں گی۔یہ ہیں اللہ والے ۔ آئیں اس رنگ سے اپنے دل رنگوالو۔دل تمہارا رنگا گیا توسمجھ لیں کہ ہر چیز رنگی گئی۔مکان کچاہو تو گزارا ہو سکتا ہے لیکن دل کچا نہیں ہو نا چاہیے۔اگر کار نہیں ہے تو گزارہ ہو جائے گا۔پیر کا دل میں پیار ہونا چاہیے۔نگاہ جب تک نہیں ہو گی ۔فیض نہیں ہو گا۔فیض نگاہوں سے ملتا ہے ۔نگاہوں میں نگاہ ڈال کر۔یہ تو مرشدوں کا کام ہے ۔یہ اتنے کامل ہیں تو امام حسین ؑکا مقام کیا ہو گا؟امام ِحسین ؑکے جان نثار ساتھیوں کو یہ فیض مل چکا تھا۔انکی نگاہوں سے ہوتا ہوا یہ فیض ان کے دلوں میں رچ بس چکا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے حق اور باطل میں تمیز کی اور دین ِاسلام کی اپنے مقدس سے آبیاری کی اور حق کی ظاطر اپنی جانوں کے نذرانے بارگاہ ِرب العزت میں پیش کر دئیے لیکن وہ جودنیا میں بھی رسو ا ہوئے اور جن کی نسل تک ختم ہو گئی ۔اہل دانش کے لئے یہ بات قابل ِغوروخوض ہے کہ جن کے لئے پانی بند کیا گیا اُن کی شان و شوکت ،عظمت و رفعت اور سربلندی ،سرخروئی کی آج بھی دنیا معترف ہے اور جنہوں نے پانی کو بندکیا وہ آج ذلت ورسوائی سے دوچار ہیں اور قیامت تک دنیا ان پر لعن ،طعن کرتی رہے گی ۔ان بد بختوں نے نہ صرف اپنی دنیا تباہ کی بلکہ آخرت بھی برباد کرلی ۔کسی سے پوچھا گیا کہ “دولفظوں میں شہادت ِعظمیٰ پر روشنی ڈالیں تو بزرگ نے جواب دیا کہ یزید تھا اور حسین ؑہے ۔یزیدیت بدی ہے اور حسینیت نیکی ہے ۔بدی ختم ہو گئی اور نیکی آج بھی قائم و دائم ہے اور اس کا فیض بڑھتا ہی جارہا ہے اور قیامت تک اس میں اضافہ ہو تا ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت عطاء فرمائے (آمین)۔
یہ جذبے ،یہ عشق آل ِمحمد ﷺکاکام ہے جل جائیں پَر فرشتوں کے یہ وہ مقام ہے ۔

14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-13 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-14 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-15 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-16 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-17 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-18 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-1 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-2 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-3 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-4 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-5 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-6 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-7 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-8 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-9 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-10 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-11 14-10-2016-pix-mahana-mehfil-e-11veinsharif-aastana-asi-fsd-12

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان