الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

ماہانہ محفل ِگیارھویں شریف بسلسلہ جشن ِآمد ِرسول ﷺوتقریب ِتقسیم ِانعامات

December 16, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیر ِاہتمام آستانہ عالیہ پر ماہانہ محفل ِگیارھویں شریف بسلسلہ سالانہ جشن ِآمد ِرسول ﷺنہایت عقیدت و احترام سے منعقد کی گئی جس میں نقابت کے فرائض فیض محمد فیضی نے سرانجام دئیے۔محفل ِپاک کا باقائدہ آغازمحمد فیصل سلطانی نے تلاوت ِکلام ِپاک سے کیا۔ اس کے بعد حمد ِباری تعالیٰ کا نذرانہ منصب علی قادری نے پیش کیا ۔محبوب ِدوجہاں ﷺکی بارگاہ ِاقدس میںہدیۂ نعت کا نذرانہ ننھے منھے ثناء خواںاحتشام گوھر ، ، ذیشان الٰہی ،محمد حنیف ،فیصل سلطانی اورعبدالمنا ن قادری نے پیش کیا۔منقبت ِغوثیہ ؓ اور قصیدہ ٔمرشدی کی سعادت منصب علی قادری اور عبدالعزیزقادری نے حاصل کی ۔اسکے بعد جن سرفروش کارکنان نے جشن ِمیلاد ِمصطفی ﷺکے سلسلہ میں تشہیری مہم (روڈزپر لگے پولزپر پرچم کشائی ،گاڑیوںپرربیع الاول شریف کے قلب والے سٹکروغیرہ لگانے )میں حصہ لیا اُن کی حوصلہ افزائی کے لئے اُن کو نام ِمحمد ﷺوالے لاکٹ اورسفید رومال انعام میںدئیے گئے ۔ اس تقریب ِتقسیم ِانعامات کے سلسلہ میںچیئرمین مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری ،ممبرمرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمداصغر قادری ،ماسٹر لیاقت علی قادری ،ماسٹر محمد ارشد ،شیخ محمد عظمت قادری ،نسیم احمد آرائیں،محمد نواز ،سید اطہر حسین شاہ بخاری ،حاجی احسان الٰہی اور غلام فریدقادری نے سرفروش ذاکرین کو لاکٹ پہنائے اور رومال کے انعامات تقسیم کیے۔چیئرمین مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے محمد صدیق ڈان کوتشہیری مہم کی بطریق ِاحسن نگرانی کرنے پر محمد صدیق صداقت کی طرف سے گنبدخضریٰ کا خوبصورت پورٹریٹ دیا۔ چیئر مین مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر ِقلب دی ۔حلقہ ٔ ذکر کو محمد صدیق صداقت نے ترتیب دیا۔ درودوسلام کے بعدحاجی محمد اویس قادری نے ملک ِخدادادپاکستان کی سربلندی کے لئے خصوصی دعا فرمائی اور تمام مرحومین کی مغفرت،بیماروں کی شفایابی اورجن ساتھیوںنے تشہیری مہم میں حصہ لیا اُن کیلئے دعا کی کہ سرکار اُن کی اس کاوش کو قبول فرمائیں اور آئندہ بھی بڑھ چڑھ کر اس مشن ِعظیم کی بے لوث خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں ۔اختتامِ محفل پر تمام ساتھیوں میں لنگر تقسیم کیا گیا۔
اس موقع پر حضرت علامہ مولاناعبدالرحمن باروی نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ
التجائوں میں اتنا اثر ہو جائے دل یہاں تڑپیں آقا کو خبر ہوجائے
صدق ِدل سے جو کبھی نام ِکریم پکارے خشک مٹی اگر ہو تو گوھر ہوجائے
وہ زمانے میں چمکے گا مثل ِماہتاب جس پہ میرے آقا کی نظر ہوجائے
وہی تو گوھر ہو جائے ۔آج اس روحانی مرکزپر آپ بھی اکٹھے ہیں اور ہم بھی ۔جس چیز کے آپ طالب ہیں میں بھی اُسی کا طالب ہوں ۔بھیک مانگنے کیلئے آئے ہیں ۔اس در سے دو چیزیں ملتی ہیں ۔روحانیت اور انسانیت اور جس کو یہ دو چیزیں مل گئی ہیں اللہ کی عزت کی قسم !کائنات میں کامل ہے بھی وہی ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن ِکریم کے اندر سورۃ الاحزاب ،پارہ نمبر 21میں ارشاد فرمایا
“النبی اولیٰ باالمومنین “ترجمہ :۔میرا نبی مومنوں کی جانوں سے زیادہ قریب ہے ۔
آج بات ہی قربت کی کریں گے جس کو قرب ِحضوری مل گیا تو یہ دل نوری مل گیا۔جس کو مل گیا ہے سمجھ لے وہ دنیا ئے کائنات میںانسان کامل ہو گیا ہے ۔درِمصطفی ﷺکے علاوہ قرب ِحضوری نہیں ملتا کیونکہ میرانبیﷺ اس کائنات کی اصل ہے۔اگر اصل نہ ہو تو کائنات کا وجود نہیں ہوگا۔ اگر کسی درخت کی جڑ نہیں ہے تو اس کی شاخیں بھی نہیں ہوں گی ۔جڑ نہیں ہو گی تو اُس کی شاخ پر پتے اور پھول بھی نہیں ہو ں گے۔کبھی بھی نہیں اور جڑ کو پانی دیتے ہیں ۔پانی اور کھاد نیچے ڈالتے ہیں اور اُس کااثر پتوں میں ہوتا ہے۔پھل اوپر لگا ہوتاہے۔جڑ نیچے ہوتی ہے ۔جو لوگ سائنس پڑھتے یا پڑھاتے ہیںیا سائنسی مراحل سے گزر رہے ہیں۔اُن سے پوچھیے تو وہ بتاتے ہیں کہ ٹشو ہوتے ہیں۔جن کے ذریعے سے چیزیں آگے پہنچتی جاتی ہیں۔جڑ چونکہ مضبوط ہو تی ہے پھل تک اُس کا سارے کا سارے نظام جاتاہے۔تو کہیں پہ ٹہنی کمزور یا خشک ہو جاتی ہے تو اُس کو کاٹ دیتے ہیں ۔کہتے ہیں نئی ٹہنی نکل آئے گی اِس کو کاٹ دو۔کیونکہ جڑ مضبوط ہے ۔میرا نبی ﷺاس پوری کائنات کی اصل ہے ۔پھل کو دیکھنا ہو تو مطلب یہ کہ جڑ مضبوط ہے ۔اس پوری کائنات میں وہ کمال پھل کا نہیں ہے ۔وہ کمال جڑ کا ہے ۔اصل کا ہے۔ اگر ٹہنی کے اوپر پھل لگا ہے تو سارا کمال پھولوں کا نہیں ہے ،پتیوں کا نہیں ہے ،شاخوں کا نہیں ہے ،جڑ کا ہے کیونکہ جڑ مضبوط ہے ۔اگر یہ کائنات ہے تو میرا نبی ﷺکائنات میں ہے تو یہ کائنات ہے کیونکہ اصل ہیں نا حضورﷺ۔اس کائنات کی اصل ہیں ۔اگر کمال ہو امتی میں ۔یوں کہہ دو جبرائیل ؑمیں کمال ہے ۔سیکنڈوںمیں پہنچ جاتا ہے ۔کمال ہے اسرافیل ؑ،عزرائیل ؑ میں ۔وہ کمال ہے آدم ؑ میں ،وہ کمال ہے نوح ؑ میں،ابراہیم ؑ میں ،اسماعیل ؑمیں، یعقوب ؑ میں،یوسف ؑمیں ،یحییٰ ؑمیں،ذکریا ؑمیں،عیسیٰ ؑمیں،خواہ وہ کمال کسی میں ہو ،اُس کا کریڈٹ میرے نبی ﷺکو جاتاہے۔کیونکہ میرا نبی ﷺاُس کی اصل ہے ۔وہ کمال تو ہے عزرائیل ؑکا کہ بیک وقت ایک ہی سیکنڈکے اندر کتنی روحوں کی جان نکالتا ہے ۔ابھی آدمی ادھر فوت ہوا،ابھی حادثہ ہوا۔اُس وقت کسی اور ملک میں ہوا۔کسی اور جگہ پر ہوا۔وہاں بھی پہنچ گیا۔ارے !اُمتی کے کمال کو مانا،آمنہ ؓکے لعل کے کمال کو نہیں مانا۔یہ تو امتی ہے ۔یہ امتی کا اصل کمال نہیں ہے ۔کمال میرے نبی ﷺکا ہے۔جس کے امتیوں کی یہ شان ہے اُس کے نبی ﷺکا کیا مقام ہو گا ؟جس کے امتی اتنے اعلیٰ و ارفع ہیں تو نبی ﷺکے کیا کہنے؟ایک بات بڑی غور طلب ہے ۔روٹی کس کے اوپر پکتی ہے؟آپ کہتے ہیںکہ توے پر۔میں کہتا ہوں لائو توا۔اور پکا ئوروٹی۔ایک دن ،دو دن ،سال بھر بھی رکھیں تو روٹی نہیں پکے گی ۔روٹی پکتی ہے آگ کے اوپر۔یہ بات درست ہے ۔چلو آگ جلاتے ہیں ۔بنائو پیڑا،پکائو روٹی۔آگ جلا کے رکھ دے گی ،پکائے گی نہیں۔محنت بھی گئی ،آٹابھی گیا،ساراکچھ گیا۔کیا آگ میں صلاحیت نہیں ہے ؟آگ میں ہے روٹی میں لینے کی نہیں ہے ۔اللہ کی دینے میں طاقت ہے ،وہ قوت والا ہے ، طاقت والا ہے ،اُس نے دینا تھا وہ دے سکتا ہے ،وہ قادر ِمطلق ہے ۔ اُس نے کہامیں دے سکتا ہوں ۔جس کو چاہوں جب چاہوں،جتنا چاہوں ،عطاء کرسکتاہوں مگر انکی لینے کی طاقت نہیں ہے ۔درمیان میں، میں(اللہ )نے واسطہ رکھا ہے مدینے والے کا۔ درمیان میں رکھا ہے مدینے والے کا واسطہ تاکہ یہ درمیان میں ہو گا مجھ(اللہ )سے لے گا،ان(امتیوں )کو دے گا۔مجھ سے لے گاان کو ان (امتیوں )کی صلاحیت کے مطابق دے گا۔جیسے میں نے آپ کو مثال دی ہے کہ روٹی توے کے اوپر ہی پکتی ہے مگرنیچے آگ ہوتی ہے ۔بغیر اُس کے نہیں ۔اگر بغیرآگ کے پکائی جائے تو کیا آگ میں طاقت نہیں ۔آگ پکا سکتی ہے ۔اُس کے اندرطاقت ہے مگر روٹی میں طاقت صلاحیت نہیں ہے کہ اُس کی ہیٹ(گرمی)کو برداشت کر سکے۔اس لئے ہم نے درمیان میں رکھا تواکہ یہ ہیٹ لے گااور روٹی کو دے گا۔آج یہ بات اپنے ذہنوں میں یاد کرلو۔اللہ تعالیٰ توقادرِمطلق ہے وہ بغیر وسیلے کے بھی دے سکتا ہے مگر وسیلے اُس نے ہمارے لئے بنائے ہیں اپنے لئے نہیں ۔
کسی چیز کو دیکھنا ہو تواُس کو اپنے سامنے کرو گے،ایک دوسرے کو دیکھنا ہو تو آنکھوں کے سامنے کرو گے ۔اگر اپنی ہی آنکھوں کو دیکھنا ہو توسٹول کے اوپر چڑھ جائو گے ،چھت کے اوپر ،پلازے کے اوپر،جتنا چڑھتے جائو گے آنکھیں نظر نہیں آئیں گی ۔تو پھر کیسے نظر آئیں ؟وہ تو فرماتا ہے کہ “میں تو تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں “جب وہ قریب ہے اوراپنے نبیﷺکے بارے میں فرماتا ہے کہ “میرانبی ﷺتو تمہاری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہے “۔نبی ﷺزیادہ قریب، آنکھیں بھی زیادہ قریب ،یہ چہرہ کتنا قریب ہے ؟یہ سارا حصہ کتنا قریب ہے ؟اگر اس کو دیکھنا ہو توکیا کریں گے؟اوپر کو جائیں گے ؟نہیں آئینہ استعمال کریں گے۔سامنے دیکھیں گے آئینے میں۔اپنی جھلک نظر آئے گی ۔اسی طرح رب ِکعبہ نے فرمایا”مجھے دیکھنا چاہتے ہو تو مدینے والے کا شیشہ لے کے آئو۔مجھے دیکھنا چاہتے ہو تو شہنشاہ ِبغداد کا شیشہ لے کے آئو،داتاگنج بخش علی ہجویریؒکا شیشہ لے کے آئو،معین الدین چشتی اجمیری ؒکا شیشہ لے کے آئواور مجھے دیکھنا چاہتے ہو تو گوھر شاھی کو لے کے آئو۔مجھے دیکھناچاہتے ہوتو ان ہستیوں کا آئینہ لے کے آئو،مجھے (اللہ)کو دیکھ لوگے ۔معلوم ہوا جو چیز زیادہ قریب ہوتی ہے وہ آئینے کے بغیر نظر نہیں آتی۔ تو یہ مرشد ِکامل کا وسیلہ رب نے ہمارے لئے بنایاہے۔اسی لئے کہاکہ مجھے دیکھنا چاہتے ہو اور میرا قرب لینا چاہتے ہو،میری قربت میں آنا چاہتے ہو تویہ لے لواور ان کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرلو۔عزیز ساتھیو!میرے آقاو مولانبی ِآخرالزماںﷺاس کائنات کیاصل ہیں۔جس کو جو ملا ہے درِمصطفی ﷺسے ملا ہے ۔اس میں کسی کا کوئی کمال نہیں ہے جو بھی کمال ہے میرے نبی ﷺکا ہے ۔جو بھی کمال ہے وہ جس میں بھی ہے ،اپنا ہے یا بیغانہ ہے۔جس میں بھی، جو بھی کمال ہے خواہ وہ کسی کافر میں بھی کیوں نہیں ہے کمال ۔یہ سائنس کو دیکھ لو کتنی ترقی کرلی ہے ؟یہ سارے کا ساراکریڈٹ میرے نبی ﷺکو جاتا ہے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوںتو کچھ نہ ہو
وہ جان ہیں جہان کی جان ہے تو جہان ہے
میرا نبی مومنوں کی جانوں سے زیادہ قریب ہے ۔کیسے قربت ملے گی،کیسے تم اِن کے قریب ہو گے؟فرمایا۔مجھ (اللہ)سے لے لو ،اِن(امتیوں )کو دے دو۔فرمایا رب تعالیٰ نے ۔اے میرے پیارے حبیبﷺ!میں نے تجھے دو خوبیاں دی ہیں۔ایک نورانیت کی ،دوسری ہے بشریت کی۔نور سے لے لواور بشروں کو دے دو۔حضور ﷺخود فرماتے ہیں کہـ” اللہ تعالیٰ نے مجھے قاسم بنا کے بھیجاہے “۔قاسم کہتے ہیں تقسیم کرنے والے کو۔حدیث کے الفاظ ہیں۔اللہ کی عزت کی قسم !اس کائنات میں ،مَیں آیا ہی بانٹنے کے لئے ہوں۔تقسیم کرنے آیا ہوں ،دینے آیا ہوں ۔ اب کوئی دنیا والا نالے سکے تو اُسکے لینے میں کمی ہے دینے والے میں نہیں ۔مگر آج تقسیم کا طریقۂ کار کچھ تبدیل ہو گیا ہے ۔وہ اولیاء کاملین کے ذریعے سے ہے ۔یہ ہیڈآفس مدینہ منورہ میں ہے اور وہاں سے تقسیم ہو رہا ہے ۔وہ بانٹ رہے ہیں ۔فیضا ن وہی ہے ۔
انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ ایک آدمی حضرت ِوالا(سرکار شاہ صاحب)کے داداجان کے پاس آیااور کہا کہ میں نے احمد آباد جاناہے ۔یہ بہت مشہور کرامت ہے ۔میں نے حضرت کی 1996کے اندر جھنگ میں یہ کرامت سنی اور ایک شخص کے بعد آج آپ کو دوسری مرتبہ 20سال پہلے کی سنی ہو ئی بات بتا رہاہوں۔آنے والے نے کہا کہ میں نے احمد آبادجانا ہے ،احمد آباد کدھر ہے ؟اُس نے ایک آبادی میں،محلے میں ایک جگہ پہ جاناتھا۔آپ ؒنے دریافت فرمایاکہ تم اکیلے ہو؟کہنے لگا جی نہیں تین ،چار ساتھی اور بھی ہیں ،پیچھے کھڑے ہیں۔میں نے تو یہ ڈیرہ دیکھا کہ اللہ والوں کا ہے ان کوپتہ ہوگا۔ان کو خبر ہو گی ۔اگر اللہ والوں کو خبر نہیںہے تو کن کو خبرہو گی ؟اس لئے میں آیا ہوں ۔آپ ؒنے فرمایا بلائو ساتھیوں کو ۔بلا لیا۔اس دور میں سواریاں خچر،اونٹ وغیرہ تھے۔انہوں نے اُن کو باندھااور آگئے ۔آکے کہنے لگے حضرت ہم ہی ہیں۔عرض کی ہم نے احمد آباد جاناہے ۔فرمایا۔بھیج دیتے ہیں۔مگر ایک بات سنو!عرض کی جی ۔فرمایاآنکھیں بند کروتمہیں احمدآباد پہنچادوں۔انہوں نے آنکھیں بند کیں کہا جب میں کہوں اُس وقت آنکھیں کھولنی ہیں ۔اُس سے پہلے نہیں کھولنی۔ایسے ہی ہوا۔آنکھیں بند کروا دیں ،کچھ دیر کے بعد کہا کھولو۔جب آنکھیں کھولیں تو سامنے حرم ِکعبہ ۔وہ دیکھ کر حیران ہو گئے ۔کہنے لگے یہ کونسی جگہ ہے ؟ہم نے تو ادھر نہیں آنا تھا یہ تو جگہ ہی اور ہے ۔داداجی کہنے لگے اوہو!میں بھول گیا ۔آپ نے نئے ڈیرے پہ جانا ہے ۔یہاں حضور ﷺ40سال رہ گئے ہیں ۔یہ اُن کا پرانا ڈیرہ ہے ۔آپ نے نئے پہ جانا ہے نا۔چلو آنکھیں بند کرو۔جب آنکھیں بند کروائیں ۔فرمایا اب کھولو۔وہ کہتے ہیں نا ۔آنکھیں بند کرواوراللہ کا ذکر کرو۔ایسے کرو،ویسے کرو۔یہی تو حکمت ہے ۔آپ(سرکار شاہ صاحب)کے دادا جان نے فرمایا۔آنکھیں بند کرو۔بعد میں فرمایا۔اب کھولو!جب کھولیں سبز گنبد سامنے ۔جو دیکھتا گیا۔سبز گنبد کے نظارے کرتا گیا۔جو وہاں پہنچتا گیا ،کلمہ پڑھتا گیا ،مسلمان ہو تا گیااور کہتا گیا آج مل گئی ہمیں شہنشاہی ۔جب وہاں پہنچے ،مسلمان نہیں تھے ،اپنے نہیں تھے ،غیر تھے ۔کیسے راستہ دکھایا ؟کس کو راستہ دکھایا؟یہ ہیں اللہ والے جو ایسے راستہ دکھاتے ہیں۔تو ہم یہ کہتے ہیں
اللہ ،اللہ کیے جانے سے اللہ نہ ملے اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں۔
وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے کہ ہم تجھ کو بھول کے زندہ رہیں خدانہ کرے
اللہ والے نے جو پہنچایا تو عرض کی یہ کون سا ڈیرہ ہے ؟فرمایا یہ نیا ڈیرہ ہے ۔وہ تھا پرانا یہ نیا ڈیرہ ہے ۔یہ اصل احمد آباد ہے ۔یہ اللہ والے وہاں پہنچاتے ہیں جہاں پر عام بندہ صدیوں بعد بھی نہیں پہنچ سکتا۔اللہ والے ایک لمحے میںپہنچادیتے ہیں ۔یہاں کیا لینے آتے ہیں ؟جس دن کسی مرشد ِکامل کا عرس ہو تا ہے یا کچہری لگی ہو تی ہے ۔اس پر خاص اللہ کی رحمت کا نور برس رہا ہو تا ہے ۔اس نورانیت کے اندر جو کیف اور سرور ہو تا ہے کہ بس جان نکلے تو نکلے بس اور کچھ نہ نکلے۔مرشد کی بارگاہ میں سکون ،اطمینان،قلب کے اندر وہ کیفیت ،سامنے تصویر نہ بھی ہو تویہ دل کے اندر ہو نی چاہیے۔ہر وقت اس کو دیکھتے رہا کریں انشاء اللہ آپ کو بہت زیادہ فیض ہو گااوردنیاو آخرت کی آپ کو بھلائیاں ملیں گی ۔اللہ پاک مرشد ِپاک کے درجات و فیض میں اضافہ فرمائے اور ہمیں بھی صحیح معنوں میں ان سے فیض یاب ہو کر دیدار ِرسول ﷺاور دیدارِالٰہی سے مشرف فرمائے ۔آخر میں حدیث ِمبارکہ بیان کروں گا کہ جو جس سے محبت کرے گا ،قیامت والے دن اُسی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔جو نبی ﷺنے کہہ دیا وہ حق اور سچ ہے ۔اللہ عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔

mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-14mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-15 mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-1mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-2mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-3mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-4mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-5mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-6mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-7mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-8mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-9mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-10mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-11mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-12mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-13mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-16 mahana-mehfil-e-11vein-sharif-bsilsila-taqreeb-e-taqseem-e-inaamaat-astana-asi-fsd-16-12-2016-17

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان