الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

ماہانہ محفل ِگیارھویں شریف بسلسلہ یو م ِوصال ابوبکر صدیق ؓاورماہانہ پندرھویں شریف

March 25, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام(رجسٹرڈ) پاکستان ،فیصل آباد کے زیر ِاہتمام آستانہ عالیہ پر ماہانہ روح پرور محفل ِگیارھویں شریف بسلسلہ یوم ِوصال خلیفہء اول ،جانشین ِمصطفیﷺ،یار ِغار ِمصطفی ﷺحضرت ابو بکر صدیقؓاور 15ویںشریف، نہایت تذک و احتشام سے منعقد کی گئی ۔جس میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری اور محمد نسیم آرائیں نے سرانجام دئیے ۔اس محفل ِپاک میں حمد ِباری تعالیٰ محمد صابر قادری،نعت ِرسول ِمقبول ﷺمحمد ندیم چشتی،عبدالعزیز قادری اور عبدالمنان قادری ،منقبت ِغوث ِپاکؓمنصب علی قادری اور قصیدہ مرشدی قاری محمد عدیل قادری اورعبدالعزیز قادری نے پیش کیا ۔
مرکزی مشیر محمد شفیق قادری نے اس موقع پر کہا کہ آج ہم گیارھویں شریف کے علاوہ محفل ِپندرھویں شریف اور یو م ِصدیق ِاکبر ؓ بھی منا رہے ہیں ۔آپ سب جانتے ہیں اس محفل ِپاک میں نبی اکرم ﷺ،صحابہء اکرام،اولیاء عظام خصوصاًغوث ِپاکؓکی شان والا صفات سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو ہو تی رہتی ہے۔ہم پندرھویں شریف کیوں مناتے ہیں ؟اس لئے کہ حضور قبلہء عالم حضرت سیًدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی انواروتجلیا ت کی کرم نوازی ہوئی ہے ان سب کا تعلق 15رمضان المبارک سے ہے ۔اسی لئے اس نسبت سے ماہانہ محفل ِپندرھویں شریف منعقد کی جاتی ہے ۔اس ماہ میں یار ِغار خلیفہ ء اول حضرت ابوبکر صدیق ؓکاوصال بھی ہوا ہے ۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
میں اس یقین سے جیتا ہوں کہ آپ ﷺمیرے ہیں
میری حیات کا دارومدار آپ ﷺسے ہے ۔
سیًدنا صدیق اکبرؓخواہش بیان کرتے ہیں کہ “میری آنکھیں ہوں ،حضور پاک ﷺکا چہرہ مبارک ہو ۔میری خواہش ہے کہ میں اُن کو دیکھتا ہی رہوں “۔آپؓ سے کسی نے پوچھا کہ “آپ ؓ کو اللہ سے زیادہ محبت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے ؟ـ”تو آپ ؓ نے ارشاد فرمایا “مجھے اُس سے زیادہ محبت ہے کہ جس نے بتایا کہ اللہ ایک ہے۔حضورسیّدنا صدیق ِاکبرؓکا مقام و مرتبہ دیکھیے کہ حضرت سیّدناعمر ِفاروق ؓ جیسے صحابی کی ساری زندگی یہ خواہش رہی کہ اے ابوبکرؓاس عمر کی ساری عمر کی نیکیا ں لے لو اور مجھے صرف وہ غار والی نیکی دے دو۔
حافظ مظہر سیالوی صاحب بتا رہے تھے کہ آپ ؓ کے والد ِگرامی نے قبول ِاسلام سے پہلے ایک دفعہ نبی مکرم ﷺکی شان میں گستاخی کی تو آپ ؓ نے پورے زور سے اپنے والد کے منہ پر مکا رسید کر دیا جس کی وجہ سے زمین پر گھر کر بری طرح زخمی ہو گئے ۔بعد میں آقائے نامدار ﷺکے حضور حاضر ہو کر تمام ماجرا ء بیان کر دیا جس پر پوچھا گیا کہ کیا واقعی آپؓنے ایساہی کیا ہے؟ تو عرض کی یارسول اللہ ﷺ!جی ہاں ۔میں نے واقعی ہی ایسا کیا ہے تو ارشاد ہواکہ وہ تمہارے والد ہیں ۔آج تو ایسا کر لیا لیکن آئندہ کبھی ایسا نہ کرنا ۔تم پر اُن کاادب و احترام لازم ہے کہ وہ تمہارے والد ہیں۔اس پر رب کائنات نے اُسی وقت جبریل ِامیں کو حضور ﷺکی بارگاہ ِاقدس میں یہ حکم دے کر بھیجا کہ میرے پیارے محبوب ﷺ سے فرما دیجیے کہ ایمان والوں کی یہی نشانی ہوا کرتی ہے اگر اُن کے سامنے آپ ﷺکی شان میں کو ئی بے ادبی کرے تو اُسے اُسی وقت اُس کا جواب دیں جیسا کہ صدیق ِاکبر ؓ نے کیا ۔اس کے علاوہ یہ بھی تاریخ میںملتا ہے کہ آپ ؓ کے بیٹے جب مسلمان ہو گئے توایک دفعہ کہنے لگے ایک جنگ میں آپ میرے مقابل آئے تھے یعنی میری تلوار کے نیچے آئے تھے لیکن محبت ِپدری غالب آگئی اور میں نے آپ ؓکو چھوڑ دیا جس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ارشاد فرمایا کہ “اللہ کی قسم !اگر اُس وقت تم میری تلوار کے نیچے آجاتے تو اُس وقت تم دشمن ِرسول ﷺتھے ۔میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا۔آپؓ کے والد ِگرامی ،بیٹے اور پوتے سب حضور ﷺکے غلاموں میں آگئے یعنی سب دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور یہ سعادت آپ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نصیب نہیں ہو ئی ۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ شریعت میں سب سے بلند مقام رکھتے ہیں اور صحابہء اکرام ؓ کے متعلق نبی آخرالزماں ﷺنے ارشاد فرمایا کہ” میر ے صحابہ ستاروں کی مانندہیں ۔ان میں سے تم جس کی بھی پیروی کرو گے ۔ہدایت پا جائو گے” ۔حضور ﷺکی صحبت کو ئی معمولی بات نہیں ۔ایک ولی کی صحبت میں بیٹھنے والوں کا مقام یہ ہے کہ
یک زمانہ صحبت ِبا اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت ِبے ریا
ولی کی صحبت کا ایک لمحہ صد سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے ۔سوسال کی ایسی عبادت جو ریا کاری سے پاک ہے ۔اُس سے بہتر اللہ کے ولی کی صحبت کا ایک لمحہ ہے جو حضور ﷺکی صحبت میں رہ کر بغیر چلوں ،وظیفوں کے صحابی بن گئے ۔اُن کا مقام کیا ہو گا ؟حضور ﷺکی صحبت کا کما ل یہ ہے کہ سارے جہاں کے ولی ،غوث،قطب ،ابدال اکٹھے ہو جائیں تو کسی ایک صحابی کے مقام کوبھی نہیں پہنچ سکتے۔اس لئے کہ اُن کو صحبت ِرسول ﷺحاصل تھی کہ اُن پر ہر وقت بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو تا رہتا تھا ۔ولی کون ہو تا ہے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ولی وہ ہو تا ہے جس کو دیکھ کر خدا یاد آجائے ۔کچھ نے کہا جس کو دیکھ کر خدا یاد رہ جائے اور میر ے مرشد نے فرما یا ۔ولی وہ ہے جس کی صحبت میں بیٹھنے سے دل اللہ اللہ کرنا شروع کر دے ۔اب جو کوئی اپنے آپ کو ولی سمجھتا ہے اُسے اس کسوٹی پر پرکھیے۔ولی اللہ ۔اللہ کا دوست۔دوست وہ ہو تا ہے جس کو دیکھا ہو یا اُس سے بات چیت ہو تی ہو ۔نا بات چیت ہوتی ہے نا اللہ کو دیکھا ہے ۔یہ کیسا ولی اللہ ہے ؟دوستی میںیہ شرط ہے اگر ایسا نہیں ہے تو وہ نمازی ،تہجد گزار،شب بیداراور پرہیز گا ر تو ہو سکتا ہے ۔زاہد و پارسا بھی ہو سکتا ہے لیکن اللہ کا دوست ہر گز نہیں ہو سکتا ۔جس پر اللہ اور اُس کے پیارے حبیب ﷺکا کرم ہو جائے تو اُسکو ولایت ملتی ہے اور پھر ولایت کا تعلق دل سے ہے ۔جب کسی ولی کی صحبت میں آپ بیٹھے ہیں اور اُس کے چہرے کو تکتے جارہے ہیں ۔مزہ اُس وقت آتاہے ۔دل کہے کہ یا اللہ !اسی طرح شب بیت جائے ۔اللہ کا ولی بیٹھارہے ۔میں اس کی صحبت میں بیٹھا رہوں یعنی چہرے کی زیارت کرتا رہوں ۔
انہوں نے مزید کہاکہ ولی کی صحبت میں خوشبو آتی ہے جس کو دل محسوس کرتا ہے اور دل نہیں چاہتا کہ اُس وقت اُس ولی کو چھوڑ کر چلا جائے ۔اللہ کے ولی پر ایک دن میں 360سے لے کر 500مرتبہ اللہ کی نظر ِرحمت پڑتی ہے اور ایک نظر ِرحمت 40کبیرہ گناہوں کو جلا دیتی ہے ۔نبی معصوم ہیں اوراللہ کے ولی محفوظ ہیںاور جب وہ محفوظ ہیں تو جب اُن پر نظر ِرحمت پڑتی ہے تو اُن کی صحبت میں بیٹھنے والوںکے گناہ جل جا تے ہیں ۔ایک ظاہری صحبت ہوتی ہے اور ایک باطنی صحبت ہوتی ہے ۔جو اللہ کے ولی کی طرف سے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں ۔وہ دنیاکے کسی کو نے میں ہوں ،کسی بھی ملک میںہوں۔چونکہ وہ ولی کی نظر میںہوتے ہیں ۔اللہ کی نظر اللہ کے ولی پر پڑتی ہے اورولی کی نظر اُن لوگوں پر پڑتی ہے جو اللہ کے ولی کی ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔مرشد کریم کی صحبت میں بیٹھنے والوں کے متعلق سرکار شاہ صاحب سے پو چھا گیاکہ یہ تو آپ کی صحبت سے فیض یاب ہو رہے ہوں گے تو فرمایا کہ یہ تو ہماری نظر میں ہیں ہی کہ یہ ہماری ظاہر ی صحبت میں ہیں لیکن ہماری نظر زیادہ تر اُن لوگوں پہ ہوتی ہے جو ہم سے دور اللہ اور اُس کے رسولﷺکے ذکر کا پیغام دے رہے ہیں ۔ہمارا دیا ہوا مشن پھیلا رہے ہیں ۔اُن کوہماری باطنی رہنمائی اور صحبت ہمیشہ میسر رہتی ہے۔
سابقہ امیر کوٹری محمدنسیم آرائیں نے پندرھویں شریف کی نسبت کے حوالے سے کہا کہ گیارھویں شریف کے ساتھ ساتھ آج پندرھویں شریف کا بھی دن ہے۔ آج کادن غوث ِپاک ؓ کی عظمت کے ساتھ ساتھ مرشد ِپاک کی عظمت کا بھی دن ہے ۔جیسا کہ مرشد ِپاک کی تعلیمات کا مین جزو یہ ہے کہ اسم ِذات اللہ کو دل میں بسا لو ۔آپ کے دل کی دھڑکنیں بھی اسم ِذات اللہ سے گو نج اُٹھیں گی۔
میر پور خاص کے رہنے والے ایک سرفروش ذاکر لطیف ابڑوکی وفات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اُن کا انتقال 2012میں ہوا۔جب اُن کو غسل دینے کا وقت آیاتو وہاں کے مفتی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں ابڑو بھائی کی میت کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ اُن کا دل دھڑک رہا ہے ۔یہ دیکھ کر میں نے اُس کے چھوٹے بھائی کو کہا کہ جلدی جائو اور ڈاکٹر کو چیک کروائو۔دیکھو کہیں زندہ تو نہیں ہے۔مفتی صاحب اخبار میں بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہاں پر کوئی اللہ کا ولی بھی رہتا ہے ۔ ابڑو بھائی تو سرکار سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کے ادنیٰ ترین غلام ہیں جن کے بارے میں مفتی صاحب نے یہ بیان دیا کہ جب میں نے اپناکان اس کے سینے سے لگایایعنی دل کے قریب کیا تو دل سے اللہ ھو اللہ ھو کی صداآرہی تھی۔یہ بات قابل ِغور ہے کہ آج کے دور کا ایک عالم ایک سرفروش ذاکر کے مرنے کے بعد اُسے دیکھ کو یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہاں پر ایک اللہ کا ولی رہتا ہے ۔یہ مرشد ِپاک کی شان ہے کہ انہوں نے ہم جیسے گنہگاروں کو اسم ِذات اللہ جیسی عظیم دولت ِعظمٰی سے نوازا۔اسی لئے قبلہ مرشد ِگرامی ارشاد فرماتے ہیںکہ ہم تمہیں مرید نہیں بلکہ پیر بنانے آئے ہیں ۔مرکزی مشیرمحمد شفیق قادری صاحب نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بیان کیا ہے کہ مرید کیسے بنا جاتا ہے اور پیر کون ہوتا ہے ؟جیسا کہ سلطا ن باھو ؒ نے فرمایا کہ
الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے مَن وچ مرشد لائی ھو
سرکار شاہ صاحب نے ہمارے قلوب کے اندر وہ چنبے کی بوٹی لگا دی ہے اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو اللہ کے ذکر سے روشن و منور کریں ۔جیسے ہی کسی کو ذکر ِقلب عطاء ہو تا ہے ۔اگر اُس کا قلب چلانا ہو تو اسم ِمحمد ﷺاُس کے سینے پر نقش کر دیا جاتاہے ۔یہ مرشد کی طرف سے نقش کیا جاتا ہے کیونکہ اسم ِذات اللہ کی جلالیت بہت زیادہ ہے ۔آپ نے بچپن میں سنا ہو گاجو اللہ ھو کرتا تھا ،پاگل ہو جاتا تھا۔ پہلے دور میں لوگ کہتے تھے اللہ اللہ مت کرنا ورنہ پاگل ہو جائو گے۔میرے اباجی کہتے تھے اللہ ھو نہ کرنے جایا کر ۔یہ پاگل کر دے گا۔اب وہ کہتے ہیں کہ پتہ نہیں آپ کیسے اسم ِذات اللہ کا ذکر کر لیتے ہیں ؟کہ آپ کو کچھ ہوتا ہی نہیں ہے ۔سرفروش ذاکرین پر سرکار قبلہ صاحب کا یہ خاص کرم ہے کہ وہ کثرت سے اسم ِذات اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے باطن کو نور ِایمان سے روشن و منورکرتے ہیں ۔
بعد ازاں ممبر مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر قلب سے سرفراز کیا۔امیر ِحلقہ کے فرائض امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے سرانجام دئیے۔درودوسلام کے بعداختتامی دعا حاجی محمد اویس قادری نے کروائی۔بعد ازاں حاضرین ِمحفل میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (17)

11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (1) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (2) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (3) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (4) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (5) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (6) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (7) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (8) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (9) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (10) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (11) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (12) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (13) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (14) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (15) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (16) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (18) 11vein Sharif aastana A.S.I Fsd. 25-03-2016 (19)

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان