الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

ماہانہ محفل گیارھویں شریف بسلسلہ جشن قلندر پاکؒ اور ماہانہ پندرھویں شریف

May 20, 2016

درگاہ حضرت سخی لعل شہباز قلندرؒ،سندھ جو لوگ گئے ہیں۔اُن کو علم ہے کہ وہاں پر ایک پہاڑی ہے ۔پہاڑی پر ایک قلعہ اُلٹا ہوا ہے۔روایات کے مطابق لعل شہبازؒ کے ایک مرید بابا بودلہ بہارؒتھے۔جب آپؒ لعل باغ سہون تشریف لانے لگے اور بابا بودلہ شاہ ؒ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ سہون کی گلیوں میں جھاڑو دینے لگے۔وہ اپنی داڑھی سے یہ کام کرتے تھے ۔اپنے مرشد کے آنے کی خوشی میں وہ یہ صدا لگاتے تھے کہ میرا لعل آرہاہے میرا لعل آرہا ہے ۔اُس وقت کا جو بادشاہ تھا اُس کی بیٹی کا نام بھی لعل تھا۔ایک دن کسی نے بادشاہ سے کہا کہ آپ کی بیٹی کا نام لے لے کر کوئی پاگل ،دیوانہ گلیوں میں جھاڑو دے رہا ہے اور کہہ رہاہے۔میرا لعل آرہاہے میرا لعل آرہا ہے ۔بادشاہ نے بابا بودلہ شاہ ؒ کو بُلا کو پوچھا ۔انہوں نے اپنی مستی میں کہا کہ ہاںمیرا لعل آرہاہے میرا لعل آرہا ہے ۔بادشاہ نے اپنے اصحاب کی بات مان کر حکم دیا کہ اس کی گردن اُڑا دواور اِس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے جنگل میں پھینک دو۔جلادوں نے حضرت بابا بودلہ بہارؒکی گردن اُڑا دی اور آپ ؒ کے جسم کے ٹکڑے کرکے جنگل میں پھینک دئیے ۔
ان خیالات کا اظہار نسیم احمد آرائیں نے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب حضرت لعل شہبازؒ لعل باغ میں تشریف لائے ۔آپ ؒ نے نگاہ دوڑائی تو آپ کا چہیتامرید نظر نہیں آرہا تھا۔آپ ؒ نے آواز دی کہ بودلے شاہ ؒ کہاں ہو؟حاضر ہو جائو۔کوئی جواب نہ آیا ۔دوسری دفعہ پھر آواز دی ۔جب تیسری دفعہ جلال میں آکر کہا ۔اے بودلے شاہ جہاں بھی ہو ۔حاضر ہو جائو۔دراصل بابا بودلہ سکندرؒ کا جسم ِاطہرتو ٹکڑے ٹکڑے کر کے جنگل میں پھینک دیا گیا تھا۔جب حضرت شہباز قلندر ؒ نے صدا دی تو آپ ؒکے جسم کے ٹکڑے دوبارہ جڑ کراپنے مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔جب سخی شہبازقلندر ؒ نے آپ کی یہ حالت دیکھی تو دریافت کیا کہ اے میر ے مرید !تیرا یہ حال کس نے کیا ؟تو آپ ؒ نے جواب دیا کہ بادشاہ ِ وقت نے۔اس پر حضرت شہباز قلندر ؒ جلال میں آگئے اور قلعے کی جانب تشریف لے گئے اور اپنی دو اُنگلیوں سے قلعے کو اُٹھا کر اُلٹا دیا بالکل اسی طرح ،جس طرح ہم پیالے کو اُٹھا کر اُلٹا دیتے ہیں ۔اُس قلعے کی باقیات آج بھی موجود ہیں جو اولیاء اکرام کے تصرف اوراختیارات کی ایک چھوٹی سی نشانی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ آپؒ کا مقام و مرتبہ اس سے کہیں زیادہ ہے ۔اُن میں یہ طاقت ہے کہ وہ قلعے کو اُلٹا کردیں یا مردے کو زندہ کردیں ۔یہ تو اُمت ِمحمدی ﷺ کا ایک عام ولی بھی کر سکتا ہے لیکن آپ ؒ کا مقام ہماری اور آپ کی سوچوں سے باہر ہے ۔جہاں تک قبلہ مرشد ِپاک حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کا تعلق ہے تو آپ جب سہون شریف تشریف لے کر گئے تو حضرت سخی شہباز قلندر ؒ نے اپنا دیدار کروایا اور کہا کہ سٹیشن کے سامنے والی پہاڑی پر جا کر اسم ِذات اللہ کا ذکر کرو۔اس طرح مرشد ِپاک نے تین سال وہاںسخت عبادت و ریاضت میں گزارے جس کا تذکرہ روحانی سفر میں تفصیل سے موجود ہے اور آپ نے وہیں چلہ کشی کی جہاں حضرت شہباز قلندر ؒ نے لعل باغ میں چلہ کیا تھا۔ایک دفعہ سرکار شاہ صاحب کے ساتھ سالارِسرفروش محمد عارف میمن کہیں جارہے تھے ۔راستے میں ایک درخت کے نیچے قلندر پاک کا ایک مرید بیٹھا عبادت و ریاضت میں مصروف تھا۔قبلہ شاہ صاحب کچھ فاصلے پر عارف بھائی سے آگے آگے جارہے تھے ۔عارف بھائی نے اُس درخت کا ایک پتا توڑ لیا جس پر وہ مریدبولا کہ تمہاری جرات کیسے ہو ئی ؟تمہیں پتا نہیں کہ میں کس کا مرید ہوں ؟اس پر عارف بھائی نے درخت کو ہلایا تو کتنے ہی پتے جھڑ گئے اور اُسے کہا کہ تمہیں نہیں معلوم میں کس کا مرید ہوں ؟جب سرکار شاہ صاحب کو پتا چلا تو حضرت شہباز قلندر ؒبھی وہیں تشریف لے آئے ۔معاملہ زیر ِغور آیا تو حضرت شہباز قلندر ؒ کو تو اپنے مرید کی طرفداری کرنی چاہیے تھی لیکن آپ ؒ نے عارف بھائی کا ساتھ دیا ۔اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہماری نسبت کس عظیم ہستی سے ہے ؟اس لئے کہ ہم پر غوث ِپاک ؒکی بھی نگاہ ِکرم ہے اور باقی اولیاء اکرام بھی ۔ہمیں چاہیے کہ اسم ِذات اللہ کا فیضان ِکرم جو ہمیں مرشد ِپاک کے طفیل عطاء ہوا ہے اس کی قدرومنزلت کو سمجھیں اور مرشد ِپاک کی سچی اور تمام انسانیت کے لئے راہ ِہدایت پر مبنی روحانی تعلیمات پر خود بھی عمل پیرا ہوں اور اہل ِدنیا کوبھی اس فیض سے روشناس کروائیں ۔مرکزی مشیر محمد شفیق قادری نے اس موقع پر کہاکہ اگر حضور ِپاک ﷺ سے محبت تما م عبادات کرنے کے باوجود نہیں ہوتی تو بے کار ہے ایسی عبادت جس میں حضور ﷺ کی محبت شامل نہ ہو۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
٭محمد ﷺکی محبت دین ِحق کی شرط ِاول ہے اسی میں ہو گر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے ٭
نئے ساتھیوں کو ذکر ِقلب کی اجازت مرکزی مشیر حاجی محمد اویس قادری نے مرحمت فرمائی اور طریقہ ء ذکر ڈاکٹر محمد مشتاق قادری نے بیان کیا ۔
اس روحانی محفل ِپاک کا انعقاد آستانہ عالیہ فیصل آباد پرامیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری کی زیر ِصدارت کیا گیا جس کا آغاز تلاوت ِقرآن ِمجید سے کیا گیا ۔بعدازاں حمد ِباری تعالیٰ،نعت رسول ِمقبولﷺ،منقبت ِقلندر ِپاک ؒ،منقبت ِغوثِ پاکؒاور قصیدہ مرشد ِپاک کی سعادت باالترتیب قاری عدیل قادر ی،محمد صابر قادری ،عبدالعزیز قادری اورمحمدرفیق قادری و دیگر نے حاصل کی ۔حلقہ ء ذکر کے بعد درودوسلام پیش کیا گیا ۔اختتامی دعا مرکزی مشیر حاجی محمد اویس قادری نے کروائی ۔محفل کے اختتام پر لنگر کا وسیع انتظام تھا۔

20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (1) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (2) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (3) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (4) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (5) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (6) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (7) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (8) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (9) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (10) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (11) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (12) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd (13) 20-05-2016 Salana Jashn e Qalandar Pak. Aastana ASI Fsd.(0)

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان