الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

محفل ِشب ِمعراج النبیﷺ فیصل آباد

May 5, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام(رجسٹرڈ)پاکستان،فیصل آبادآستانہ پر سالانہ محفل شب بیداری بسلسلہ معراج شریف نہایت تذک و احتشام سے منعقد کی گئی ۔اس سے پہلے قبلہ مرشد پاک حضرت سیًد نا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کے خطاب کی ویڈیوپروجیکٹر(بڑی سکرین ) پر دکھائی گئی۔جس کو نئے آنیوالے ساتھیوں نے بہت پسند کیا اورمرشد ِپاک کی زبانِ اطہر سے نکلے ہوئے گوھر ِنایاب سے فیضیاب ہوئے اور اس کو سراہا۔اسکے بعد محفل ِپاک کا آغاز حمد ِباری تعالیٰ سے کیا گیا جس کی سعادت محمد صدیق ڈان نے حاصل کی ۔بعد ازاں نعت شریف اور مناقب کے نذرانے عبدالعزیز قادری اور محمد رمضان قادری نے پیش کئے گئے ۔قصیدہ ء مرشدی ذوالفقار قادری نے پیش کیا ۔اس محفل میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری نے سرانجام دئیے۔اسکے بعد حلقہء ذکر ِلطائف منعقد کیاگیا ۔درودوسلام کےبعد ملک خدادادپاکستان کی سلامتی وامن و امان کے قیام کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اختتام ِمحفل پر تما م حاضرین میں لنگر بھی تقسیم کیا ۔
اس رحمتوں بھری رات کی اہمیت اور اس میںپیش آنیوالے تاریخی واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی مشیر محمد شفیق قادری نے کہاکہ یہ رات اپنے اندر بے پناہ رحمتیں اور برکتیں سمیٹے ہو ئے ہے لیکن اس سے صحیح معنوں میں فیضیاب صرف اہل ِاللہ (مومنین)ہی ہوتے ہیں ویسے تو یہ مقدس رات روئے زمین ہی نہیں بلکہ کائنات کی ہر چیز کے لئے باعث ِرحمت و سعادت ہے کہ جو اسکی نعمتوں اور انواروتجلیات سے مستفیض ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت جبریل ِامیں ؑکوتما م فرشتوں کا سردار بنایا اور جبریل ِامیں ؑ کوکافوری ہونٹ عطاء کئے۔ اصل میں یہ عزت بخشنی تھی جبریل امیں ؑ کو اللہ تعالیٰ نے کہ اُن کے کافوری ہونٹ حضور ﷺ کے قدموں سے مَس ہو جائیں اور جبریل امیں ؑ کے درجات بھی بلند ہو جائیں ۔جب آپﷺ کو اُٹھایا تو حضورﷺنے آنکھیں کھولیں توجبریل امیں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ!اللہ تعالیٰ آپﷺ کی دید کا مشتاق ہے ۔اب کسی کو بھیجا جاتا ہے مثلاًاولاد کو بلانا ہو توتمہار ا باپ بلا رہا ہے لیکن یہاں پر ایسا نہیں کہ کوئی مالک اپنے غلام کو بلا رہا ہے بلکہ عشق کیا ہے کہ دوست ،دوست کو بُلا رہاہے تو سفر کیلئے ایک بُراق بھیجا ۔بُراق برق کی مانند یعنی بجلی کی مانند ہے ۔جہاں اُسکی نظر جاتی وہاں اُس کا قدم جاتا ۔اس لئے حضور ﷺ کی سیر کو قرآن ِپاک میں یو ں فرمایا گیا ۔
ترجمہ :۔پاکی ہے اُس ذات کو جو راتوں رات لے گیا اپنے خاص بندے کو مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک ۔جسکے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھیں ہیں تاکہ دکھائیں اپنی نشانیاں جو سنتا اور جانتاہے ۔یہ بات حضور ِپاک ﷺاور اللہ تعالیٰ دونوں کی طرف جاتی ہے ۔اللہ بھی سمیع و علیم ہے اور حضور ِپاک ﷺ بھی ۔تین (3)قسم کی معراج ہیں ۔ایک معراج مسجد ِحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک ہے ۔مسجد ِاقصیٰ سے لے کر سدرۃ المُنتہی تک یہ ملکوتی معراج ہے اور سدرۃ المُنتہی سے لے کر قاب قو سین تک یہ حضور ﷺکی ذاتی معراج ہے ۔6درجوں میں حضور ِپاک ﷺمقام ِقاب قوسین تک تشریف لے گئے ۔مسجد ِحرام سے لے کر مسجد ِاقصیٰ تک براق پر سفر کیا گیا ۔ مسجد ِاقصیٰ سے لے کر پہلے آسمان تک نورانی سیڑھی پر آپﷺ نے سفر اختیار کیا ۔پہلے آسمان سے لے کرساتویں آسمان تک فرشتوں کے پروں پر ،ساتویں آسمان سے لے کر سدرۃ المنتہیٰ تک جبریل ِامیں کے پروں پر ،سدرۃ المنتہیٰ سے لے کر قاب قوسین مقام ِاوادنیٰ تک حضور غوث ِپاک ؓکی معشوقی صورت کے کندھوں پر آپﷺ نے سفر کیااور اس طرح حضور پاک ﷺ اللہ کی بارگاہ میں پہنچے ۔
پاک ہے وہ ذات جو اپنے خاص بندے کو لے گئی ۔معراج کس نے کروائی ؟اللہ تعالیٰ نے ۔اگر کسی کو معراج پر اعتراض ہے تو اللہ پر کرے نا ۔وہ لے گیا اپنے خاص بندے کو ۔بندہ کسے کہتے ہیں ؟بندہ وہ ہوتا ہے جس میں روح بھی ہو اور جسم بھی ہو ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خواب میں ہوا۔خواب میں معراج 33مرتبہ ہوئی اورایک مرتبہ روح اور جسم دونوں سمیت حضور ِپاک ﷺکو معراج نصیب ہوئی ۔اگر خواب میں کسی کو کچھ نظر آجائے مثلاً میں خواب میں مکہ شریف میں گیا ہوں یا مدینہ شریف کی زیارت ہو ئی ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہے ،خواب میں جا سکتا ہے تو خواب میں ہو تا تو مشرکین ِمکہ اعتراض کیوں کرتے؟یا حضور فرماتے کہ میں خواب میں گیا ہوں تو حضور ﷺظاہری جسم سمیت تشریف لے کر گئے ہیں اسلئے انہوں نے اعتراض کیا ہے ۔
سب سے پہلے اپنی چچی زاد حضرت ام ہانی ؓکو بتا یا کہ آپ لوگوں کو نہ بتائیے گا کہ لوگ مذاق اُڑائیں گے ۔آپ ؓ نے کہا ۔انہوں نے حضور ﷺ کا دامن پکڑا تو حضور ﷺ نے جھٹکے سے چھڑایا تو وہ فرماتی ہیں کہ جب حضور ﷺ نے دامن چھڑایا تو ایک نور ظاہر ہوا جو آسمان کی طرف چلا گیا تو میں سجدے میں گر پڑی اور جب سجدے سے سَر اُٹھایا تو حضور ﷺجا چکے تھے ۔فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی لونڈی صبیہا کو بھیجا کہ جائو دیکھوکیا معاملہ ہو تا ہے ؟تو حضورﷺنے اُن کو فرمایا کہ اس طرح میں نے رات کے تھوڑے حصے میں زمین سے لے کر آسمان تک 44میل کی پرواز کی ۔اُ س سے آگے تو پھر کتنا ہی سفر ہے ؟وہ کہنے لگیں ۔یہ کیسے ممکن ہے ؟اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ ﷺگئے ہیں تو پھر ہمیں بتائیں ۔حضور پاک ﷺنے آنکھیں بند کی اور مسجد ِاقصیٰ سامنے آگئی تو آپ ﷺ نے مسجد ِاقصیٰ کے بارے میں ایک ایک چیز بتائی ۔کسی نے کہا کہ حضور ﷺ خود تشریف نہیں لے گئے ۔مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک جانا تھوڑا سفر تو نہیں ہے ۔اُس وقت گاڑیاں اور جہاز وغیرہ تو تھے نہیں ۔اونٹ اور گھوڑے تھے ۔سفر میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے آپ ﷺ نے کسی سے یہ معلومات منگوا لی ہوں ۔پھر پوچھا کہ یہ بتائیں کہ ہمارے قافلے کب تک آئیں گے ؟اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا فلاں قافلہ فلاں مقام پرمجھے ملا ۔فلاں شخص کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا ۔جب قافلہ یہاں پہنچے تو اُس سے پوچھنا کہ تمہارا اونٹ گم ہوا تھا کہ نہیں۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک اور قافلہ ملا تو وہاں ایک اونٹ بدک گیا تھااور بدکنے سے اُس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی ۔وہ قافلہ جب یہاں پہنچے تو پوچھنا کہ اُس کی ٹانگ ٹوٹی تھی کہ نہیں۔ایک اور قافلہ جو مکے کے قریب ہے اور وہ سورج غروب ہوتے ہی مکے میں پہنچ جائے گا فرمایا وہ بھی تمہارا قافلہ آرہا ہے ۔تو جب انہوں نے حضور ﷺسے اتنی نشانیاں سنیں تو انہوں نے کہا کہ پتا نہیں یہ کیسا ہے ؟لیکن یہ جو قریب آرہا ہے اگر واقعی ہی ایسا ہے تو یہ جہاں ہے وہیں اس کو روک دیتے ہیں ۔چنانچہ ایک گھڑ سوار کو کہا کہ جائو اور یہ قافلہ جہاں ہے وہیں اس کو روک دو ۔مقصد کیا تھاکہ اسکو روک دیا جائے اورثابت نہ ہو یعنی حضور ﷺکا کہا پورا نہ ہو ْچنانچہ گھڑ سوار کو بھیج دیا گیا ۔جب صحابہء اکرام کو پتہ چلا تو انہوں نے بارگاہ ِرسالت ِمآب ﷺمیں عرض کی ۔حضورﷺنے سورج کی طرف دیکھا ۔اُدھر قافلہ رُک گیا ۔اِدھر سورج رُ ک گیا۔اُدھر قافلہ رُک گیا کہ ابھی نہیں جا نا ۔جب تک قافلہ رُکا رہا ادھر حضور ﷺکی نگاہ ِپاک سے سورج رکا رہا۔جب قافلہ چلا تو سورج چلا اور مغرب کے بعد وہ قافلہ پہنچ گیا ۔لیکن جنہوں نے نہیں ماننا تھا نہ مانے ۔
آج بھی بہت سے لوگ واقعہ معراج کو نہیں مانتے۔انکار کرتے ہیں ۔مسجد ِحرام سے لے کر مسجد ِاقصیٰ تک تو قرآن کی رو سے ثابت ہے اورباقی کا حدیثوں سے ثابت ہے ۔اگر معاملہ خواب کا ہو تا تو جھگڑا ہی کیوں ہو تا ۔سیًدنا ابو بکر صدیق ؓسے تصدیق کیوں کرواتے؟جب معراج میں پہلے آسمان پر حضرت آدم ؑ سے ملاقات ہو ئی تو دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔دروازے پر دربان نے پوچھا کون ؟کہا جبریل !پوچھا گیا کہ آپ ؑ کے ساتھ کون ؟عرض کی ۔محمدﷺ۔پوچھابلائے گئے ہیں ۔کہا۔ہاں بلائے گئے ہیں تو آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے ۔حضرت آدم ؑ سے ملاقات ہو ئی ۔تو آپ ﷺ نے جواب دیاوعلیکم السلام ۔۔۔۔۔
دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ ؑ،تیسرے آسمان پر حضرت یوسف ؑ ،چوتھے آسمان پر حضرت ادریس ؑ،پانچویں آسمان پر حضرت ہارون ؑ،چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم ؑسے ملاقات ہوئی ۔پھر آگے کے سفر کا سلسلہ چلتا رہا۔حضور ﷺکی معراج آپ ﷺ کا عظیم الشا ن معجزہ ہے ۔قرآن معجزہ ہے تو حضور ﷺکی معراج بھی معجزہ ہے ۔بستر گرم رہا،کُنڈی ہلتی رہی ۔سارا نظام ِکائنات رُک گیا ۔یہ سب کیسے ممکن ہے ؟جب جسم سے جان نکل جائے تو جسم بے جان ہو جاتاہے کہ نہیں ؟جسم وہیں رُک جاتا ہے ،ساقط ہو جا تاہے ۔حضور ِپاک ﷺ کائنات کی جان ہیں ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ؟
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہے وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے۔
توحضور علیہ السلام جانِ کائنات ہیں ۔جب جان نکل گئی تو جسم ساقط ہو گیا۔جب جان دوبارہ داخل ہوگئی تو جسم دوبارہ حرکت کرنے لگ پڑا۔تو حضور ﷺکی معراج کا واقعہ عظیم الشان واقعہ ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ ِاقدس میں دعا ہے کہ اس رات کی نعمتوں ،رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان