الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

محفل ِنعت و ذکر اللہ

December 30, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام(رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیر ِاہتمام شیخ محمد نوید قادری کی رہائش گاہ پرحاجی شیخ بشیراحمد مرحوم کے ایصال ِثواب کیلئے عظیم الشان سالانہ محفل ِنعت و ذکراللہ کا انعقاد کیا گیا جس میں صاحبزادہ حماد ریاض نے خصوصی شرکت فرما کر محفل کی رونق کو چار چاند لگا دئیے اور اپنے روحانی خطاب سے حاضرین کے سینوں اوردلوںمیں محبت ِرسول ﷺکو اجاگر فرمایا ۔اسکے علاوہ محترم شبیراحمد قادری نے خصوصی خطاب فرمایا۔انہوں نے سرکار ِدوعالم ﷺکی محبت اور عظمت و رفعت ،شان و شوکت کی بابت نہ صرف مومنین کی نظر میں بلکہ غیر مسلم رائٹرزکی نظر میں واضع کیا۔جنہوں نے نبی دوجہاں ﷺکو سب سے زیادہ عدل و انصاف والا اور قانون دان قرار دیا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ اپنے تو بات مان ہی لیتے ہیںمزہ تو واقعی اس بات میں ہے کہ غیرآپ کی تعریف و توصیف بیان کریں ۔جس کا حضور ﷺسراپا تھے۔
محفل ِپاک کا باقائدہ آغازتلاوت ِکلام ِپاک سے قاری محمد عدیل قادری نے کیا۔اسکے بعد حمد ِباری تعالیٰ پیش کی گئی۔نعت ِرسول ِمقبول ﷺکے نذرانے عبدالمنان قادری، عبدالعزیز قادری ،محمد عدیل قادری نے پیش کئے۔
معزز مہمانان ِگرامی قدر میں چیئرمین مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری ،ممبرمرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمداصغر قادری سمیت چیئر مین UC-70میاں مجیر الشریف شامل تھے۔یہ محفل ِپاک امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری کی زیر ِصدارت منعقد کی گئی ۔
صاحبزادہ حماد ریاض نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میں آپ ؑکو تمام جہانوں پر فوقیت دیتا ہوں یعنی کہ جہاں جہاں آدم ہو گا۔جہاں جہاں مخلوق ہو گی ۔جہاں جہاں کو ئی آنکھ کھولنے اور بند کرنے والا ہو گا۔جہاں جہاں کو ئی سانس لینے اور روکنے والا ہو گا۔جہاں جہاں کوئی آواز دینے اور سننے والا ہو گا۔جہاں جہاں کوئی چلنے اور چلانے والا ہو گااُن سب کو آقائے دوعالم حضرت محمد مصطفی ﷺکی عظمت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا کہ آقائے دوعالم ﷺکی ہستی ہم تک محدود نہیں ہے ۔وہ ہمارے پڑوسی ممالک تک محدودنہیں ۔وہ اس جہاں تک بھی محدودنہیں وہ تو تمام جہانوں تک محدودنہیں ۔اللہ فرماتاہے اے بندۂ ناخدا،اے مخلوق!میں نے تم پر احسان ِعظیم کیا۔تم کو اپنے محبوب ﷺسے نوازا۔آج کچھ شرپسند عناصرجو یہ کہہ دیتے ہیں اور کچھ سوچتے ،سمجھتے نہیںکہ وہ کہہ کیا رہے ہیں؟کہ ہمارے بڑے بھائی جیسے ہیں۔اُن کو پردے کے پیچھے کا علم نہیں نعوذ بااللہ من ذالک۔ارے سوچو!اللہ !اپنے پیارے حبیبﷺکے لئے اتنی بڑی بڑی دلیلیں اُتار چکااور تم سے پہاڑ کے پیچھے تک کی بات ہضم نہیں ہوتی ۔اس کا مطلب آقائے دوعالم ﷺکے چاند والے واقعے سے ظاہر ہو تا ہے ۔جب آقائے دوعالم ﷺنے چاند کے دو ٹکڑے کئے تو کیا مصر والوں کو نظر آیا؟کیا پاکستان اور ہندوستان جو ایک تھا انہوں نے دیکھا؟کیا یمن والوں نے دیکھا؟کیا امریکہ کے صحرامیں رہنے والے لوگوں نے دیکھا؟کس کو دکھایاگیا ابو جہل کو۔جو دیکھ کو پھر بھی نہ مانا۔ہو سکتا ہے اُس کو دکھا بھی نہ ہو ۔ہو سکتاہے وہ چاند دیکھ بھی نہ پایا ہو ۔ جو دیکھ کر نا ماناسمجھو اندھا ہے نا۔ جو دیکھ ہی نہیں پا رہا سمجھو اندھا ہی ہوانا۔ہم تو کہیں گے کہ اُس کو چاند ہی نظر نہیں آیا ۔اتنی چمکتی ،دھمکتی چیز نظر نہیں آرہی توآقاﷺکافرمان کیسے تسلیم کر لیتا؟آج بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے بیان کی دلیلیں رد کرتا ہے تواُس کو ابوجہل کی نسل ہی سے سمجھیں گے ۔یہ وہی چلتے پھرتے ابو جہل ہیں جو آقاﷺکی اُس دلیل کو ،عظمت کو اور آقاﷺکی اُس نماز کو پہچان نہیں پائے۔ہم سب کو چاہیے کہ اپنے آپ کوسوچنے ،کھوجنے سے پہلے اُس ذات کے حرف م کا مطلب ہی سمجھ لیں۔م سے محمدﷺاور م سے میں یعنی کہ ہر شخص،فردِواحد کا تعلق محمد ﷺسے ہے۔اگر وہ اُن کی ذات ،اُن کی میراث،اُن کی عظمت کو سمجھے تو ہر شخص کی انفرادی طور پر اُن سے نسبت جڑتی ہے ۔ اگر وہ خود کو ناجوڑے توپھر الف سے ابو جہل ہے ۔ہرشخص اللہ کے حبیب ﷺکی نسبت اور تعلق کی بات کرتاہے ۔بہت اچھی بات ہے ۔کرتے رہنا چاہیے یہ تمہاری پیدائش کے وقت بھی کام آئی تھی اور تمہارے مَر جانے کے بعد بھی کام آئے گی۔کرتے رہنا چاہیے ہم پر فرض ہے لیکن دیکھا تو جائے کہ ہمیں یہ تمام میراث ملی کس کس طرح سے؟جب ہم کسی کامل ولی کی نسبت میں آئے ۔کوئی داتا صاحب ؒکی نسبت میں آیاتو اللہ ھو ،اللہ ھو کرنے لگا۔کوئی بابا بلھے شاہؒ کی نسبت میں آیااور دھمال کی صورت میں اللہ ھو ،اللہ ھو کرنے لگا۔کوئی قلندرپاکؒ کی نسبت میں آیاتو نکارے کی صورت میں اللہ ھو ،اللہ ھو کرنے لگا۔کوئی سلطان باھوؒکی نسبت میں آیااور اُن کے کبوتروں کی مانند اللہ ھو،اللہ ھو کرنے لگ پڑا۔اس اللہ ھو،اللہ ھو سے کیا ہو گا؟آج ہمارے پاس قرآن ہے ،اُ ن کی احادیث مبارکہ ہیں۔اس اللہ ھو،اللہ ھو کرنے سے کیا ہو گا؟حضرت ابو بکر صدیق ؓفرماتے ہیں کہ جب آقائے دوعالم ﷺپر قرآن نازل نہیں ہوا تھا۔اعلان ِنبوت بھی نہیں تھاتو آپ ﷺاکثرغار ِحرامیں جایا کرتے تھے۔انہوں نے دریافت کیاکہ یارسول اللہﷺ!آپؑ غار ِحرا میں کرتے کیا ہیں ؟آقائے دوعالم ﷺفرماتے ہیں کہ میں غارِحرامیں لاالہ الااللہ کا ورد کرتاہوں کیونکہ یہ کلمہ ازل سے ہے ۔جب ابوبکرؓکے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے مزید صحابہ ٔ اکرام ؓسے اس کی بابت تذکرہ کیاتو انہوں نے کہا کہ کیوں نہ اس کا حلقہ کی صورت میں ورد کیاجائے تو پہلا حلقہ آقائے دوعالم ﷺکی محفل میں ہوا۔دوسراحلقہ صحابہ ؓکی محفل میں ہوا۔تیسراحلقہ امت ِمحمدیﷺکی محفل میں ہوا۔چوتھا حلقہ امت میں موجود اولیاء اکرام کی محفلوں میں ہوا ۔پانچواں حلقہ اولیاء اکرام کے مریدوں کی محفلوں میں ہو نا شروع ہو گیااور آج تک جاری و ساری ہے ۔اگر مجھے صدرسے ملنا ہو تو علاقے کے SHOکے پاس نہیں جائوں گا بلکہ صدرکے آفس میں جاکر عرضی لکھوں گا کہ مجھے آپ سے ملنا ہے ۔ اگر مجھے کسی اور جنرل سے ملنا ہوا تو اُس کے آفس میں جاکر اُس سے ملوں گا۔اسی طرح اللہ کی تسبیحات موجود ہیں ،صفات موجود ہیں یارحمن،یارزاق،یارحیم و یاغفور۔یہ اللہ کی صفات حاصل کرنے کے ذ ریعے ہیں۔اگر اللہ ہی تم سے ناراض ہو تو اللہ کی صفات تم پر کیسے عیاں ہو ں گی؟اللہ ھو ،اللہ ھو کرنے سے تم اللہ کو اُس کے ذاتی نام سے پکارتے ہو۔جب تم اُس کو اُس کے ذاتی نام سے پکارتے ہو تو وہ روٹھی ہوئی ذات اتنی شفیق اور مہربان ہے کہ ایک دفعہ پلٹ کے دیکھتی ہے کہ کو ن ہے جو اتنے عرصے سے گونگاتھا۔آج مجھے پکارنا شروع ہو گیا۔تو سب سے پہلے اُس کی نسبت دیکھی جاتی ہے کہ کس نسبت نے اُس کو میری طرف لگا دیاکیونکہ نسبت تگڑی ہو تو آگے سمری بھی تگڑی جاتی ہے ۔تو اولیاء اکرام تگڑی نسبتیں ہیں۔تمہارے پاس با با بلھے شاہؒ، سلطان صاحب ؒ،داتا صاحب ؒکی ہستیاںبہت تگڑی نسبتیں ،بہت تگڑے وسائل ہیں جو وہاں پر تمہاری عرضیاں پہنچاتے ہیں اوراُن کی عرضیاں رد نہیں ہوتیںورنہ تو شام والے بھی نمازیں پڑھ رہے ہیں نا،کلمہ پڑھ رہے ہیں نا۔کشمیر والے بھی نمازیں پڑھ رہے ہیں نا،کلمہ پڑھ رہے ہیں نا۔فلسطین والے بھی کر رہے ہیں نا۔تم پاکستانی آج امن میں کیوں ہو؟اس لئے ہو ناکہ یہاں ایک کونے پہ داتاؒبھی ہے دوسرے کونے پہ خواجہؒ بھی ہے،تیسرے کونے پہ قلندر ؒبھی ہے ۔چوتھے کونے پہ جئے شاہ نورانی ؒبھی ہے اور پانچویں کونے پہ حضرت گوھر شاھی سرکار بھی موجود ہیں۔یہ پا کستان آج اولیاء اکرام کے دم پر قائم و دائم ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔اگر کسی بزرگ نے 65کی جنگ دیکھی ہو تو وہ اُس کے راوی بھی ہوں گے اور گواہ بھی ہوں گے۔اللہ کا ذکر کرنے والے اللہ کی نسبت میں رہتے ہیں ۔اللہ سے ہمکلام رہتے ہیں ورنہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کا ذکر نہیں کر رہے ۔نمازوں میں شامل ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کچھ ذاکر بھائی جو فوج میں ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ہم نے صبح4:30بجے نعرہ ٔ تکبیراللہ اکبر کہہ کے طالبان کے کیمپ پر گولہ چلایا۔جب گولہ اُن کے کیمپ پر گراتوریڈیوکے ذریعے آوازیں آنا شروع ہوئیں۔جو گولے کی زدمیں آگئے وہ ہلاک ہو گئے اور جو ہلاک ہو رہے تھے وہ کلمہ پڑھ رہے تھے اورپھر 5بجے انہوں نے گولہ چلایا تو ہمارے فوجی کچھ شہید ہو گئے اور جو شہید ہو رہے تھے وہ بھی کلمہ پڑھ رہے تھے ۔سوال یہ اُٹھتاہے کہ دونوں طرف کلمہ گو۔دونوں طرف تسبیحات کرنے والے مسلمان،پانچ وقت کے نمازی۔دونوں طرف اہل ِقرآن۔اُدھربیچ میں کسی غیرمسلم کو کھڑا کر دیا جائے اور اُس سے پوچھا جائے کہ ان دونوں میں سے مسلم کون ہے اور مشرک کون ہے تووہ فیصلہ نہیں کر پائے گا۔وہ یہ دیکھے گاکہ ادھر بھی گولہ گراتو نعرہ ٔتکبیرکے ساتھ اور اُدھر بھی گو لہ گراتو نعرہ ٔتکبیر کے ساتھ۔ادھرشہادت ہوئی تو کلمہ طیبہ کے ساتھ اور ادھر ہلاک ہوا تو بھی کلمہ طیبہ کے ساتھ۔قرآن یہاں بھی موجود تھا اور قرآن وہاں بھی موجود تھا۔تو اُس غیر مسلم کیلئے فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔ لیکن اولیاء اکرام نے یہ گتھی اللہ کے نور سے حل کردی ۔جو علماء حق ہو تے ہیں جب وہ اپنا بیان کرتے ہیںتو سنی،شیعہ،وہابی ،دیوبندی ،چہ مسلم ،چہ کافر سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرلیتے ہیںلیکن علمائے سُوجب بیان کرتے ہیںتو وہ سنی،شیعہ،وہابی ،دیوبندی ،کافر اور مشرک میںتقسیم کردیتے ہیں۔اسی طرح سے جو حق پر ہوں گے ،امن پیدا کریں گے اور جو باطل ہوں گے وہ آپ کو فرقوںمیں،قومیت میںاور مختلف نسلوں میں تقسیم کردیں گے۔اِسی طرح فوج اگر اُن شرپسندوں کو مارتی ہے توامن پیدا کرتی ہے ،تمہارے لئے اور تمہارے خطے کیلئے۔اگر وہ شرپسند لوگ ہماری افواج کو مارتے ہیں تو نام نہاد ہوتے ہیں اور اپنا ایجنڈااور اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کیلئے ہو تے ہیں۔یہ ہلاک در ہلاک ہو تے رہے اور وہ فوجی شہید در شہید ہوتے رہے ۔تو یہ فرق تھا اُن میں اور اِن میں ۔یہی فرق ہے اولیاء اکرام میں اور باطل میں۔اس باطل کو اور حق کو سمجھنے کیلئے ایک کسوٹی ہے کہ اگر میرے پاس ایک کمپاس (compass)ہو اور مجھے سمت کا تعین کرنا ہو تو میرے لئے آسانی ہو گی کیونکہ وہاںپہاڑ ہے مقناطیس کااور کمپاس میں چھوٹا سا مقناطیس ہے ۔یہ اُس کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔یہ ہے پیمانہ اُس کو دیکھنے اور پرکھنے کا۔اگر آپ کے دل میں رب کی ذات ہے ۔اُس کا نور موجود ہے تو رب آپ کو اپنی طرف کھینچے گا۔اپنے نیک اعمال کی طرف کھینچے گااور اپنے فرمان،اراکین اور برگزیدہ لوگوں کی طرف کھینچے گا۔اپنے بھیجے ہوئے امتی اور مومن صفت جولوگ ہیں اُن کی طرف بھیجے گا۔لیکن اگر اس دل میں شیطان ہوا ۔لالچ کی صورت میں ،حسد ،بغض ،دنیاداری ،جھوٹ اورفریب کی صورت میں تو پھر آپ میں جو مقناطیس ہے آپ اُسی طرف جائیں گے۔تو پھر شیطان آپ کو اپنی طرف کھینچے گا۔آپ کا رخ بھی اُسی طرف ہو جائے گا۔
اِس لئے فرمایا گیاکہ اُمتی کی پہچان نور سے ہو گی ۔جب کفار نے کہا ہم ایمان لے آئے توآقائے دوعالمﷺ پرفورا وحی نازل ہوئی ۔ اے محمد ﷺ!ان سے کہہ دیجئے کہ انہوں نے صر ف کلمہ پڑھا ہے۔مومن تب بنیںگے جب ان کے دلوں میں اس کلمہ طیبہ کا نور داخل ہو گا۔اُسی وقت بتا دیاگیامسلم اور مومن میں فرق۔مسلم وہ ہوگا جو باطل ہوگا۔مولاعلی مشکل کشا ؓنماز پڑھ رہے تھے ۔اُن کے پیچھے قتل کرنے والاجس کی وجہ سے آپ ؓشہید ہوئے وہ بھی نمازی ہی تھا۔کلمہ گو ہی تھا۔سب کچھ تھا وہ۔تو وہاںسے پہچان ہوئی کہ کلمہ گو آپ کے پیچھے ہو ،نور سے خالی ہو تو وہ قاتل ہوگا۔بمثل ِیزیدہو گا۔اگر آپ کے دل میں نور ہے تو آپ مثل ِمولاعلی ؓہو سکتے ہیں ،مثل ِامام حسنؓ و امام حسین ؓہو سکتے ہیں۔مثل چار صحابہ ؓہو سکتے ہیں اور مثل ِاولیاء اکرام ہو سکتے ہیں۔تمام کا تعلق نور سے ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ میں تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہوں۔شہہ رگ سے نزدیک کیا ہے آپ کے دل کے علاوہ کیا نزدیک ہے ؟اللہ فرماتا ہے کہ میں کل کائنات میں نہیں سماتا صرف بندہ ٔمومن کے دل میں ۔بندہ ٔمومن کا د ل مثل ِکعبہ ہے ۔ اس کے اندر رب کی ذات ہے ۔اگر اس کے اندر رب نہیں ہے تومثل ِیزید ہی ہے اور مثل ِابو جہل ہی ہے یعنی پھر شیطان ہی ہے ۔وہ اولیاء اکرام کی پہچان ،حق کی پہچان نہیں کرتا۔اپنے دلوں کو اللہ اور اُس کے نور سے بیدار رکھیں۔آقائے دوعالم ﷺکی ذات آپ کے لئے حق اور حق کو سمجھنے کا پیمانہ ہے ۔یہی انجمن سرفروشان ِسلام کا پیغام ِخاص ہے اور یہی تعلیمات ِگوھر شاھی ہیں۔اسکے بعد صاحبزادہ حماد سائیںنے نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر ِقلب کی نایاب دولت ِعظمیٰ سے نوازا۔ درودوسلام کے بعد اختتامی دعا کی گئی ۔بعد ازاں تمام شرکائے محفل میں لنگر تقسیم کیا گیا۔

dscn9662 dscn9670 dscn9663dscn9589dscn9683 dscn9677 dscn9676 dscn9674

 

dscn9588dscn9668dscn9633

dscn9619

dscn9519 dscn9523 dscn9522dscn9548 dscn9535 dscn9533 dscn9529

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان