الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

محفل ِپاک بسلسلہ سالانہ ختم شریف والدہ محترمہ اور روانگی ادائیگی عمرہ شکیل الرحمن قادری

May 19, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ) پاکستان ، فیصل آباد کے زیر ِاہتما م شکیل الرحمن قادری کی رہائش گاہ پر محفل ِ نعت و ذکر اللہ بسلسلہ سالانہ ختم ِشریف والدہ محترمہ اور روانگی ادائیگی عمرہ منعقد کی گئی جس میں حضرت علامہ مولاناعبدالرحمان نے مدینہ منورہ کی پاک سرزمین کی عظمت وشان وشوکت بیان کرتے ہوئے کہاکہ
٭تیری نسل ِپاک میں ہے بچہ بچہ نور کا تو ہے عین ِنور تیرا سب گھرانہ نور کا٭
صرف شہر کو نور نہیں کہا ۔شہر کی ہر چیز کو نور کہا ہے ۔اہل ِبیت ،آل ِاطہار ہیں نور ،جبل ِنور (نور والا پہاڑ)،قرآن ہے نور ،آنکھوں میں ہے نور ،زمین میں نورالغرض جس شہر کی ساری چیزیں نور ہیں ،اُس شہر کا عالم کیا ہو گا ؟مدینہ منورہ کا پہلا نام یثرب تھا یعنی بیماریوں کاشہرلیکن جب حضور مکہ سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے تو اس کا نام مدینہ منورہ رکھ دیا گیا یعنی نور والا شہر،رحمتوں اور برکتوں والا شہر۔صحابہء اکرام مدینہ کی حدود میں داخل ہو ئے ۔جب اپنی سواریوں سے اُترے تو چہروں پر راستے کی دھول ،مٹی پڑی ہو ئی تھی ۔صاف کرنے لگے توآقا ﷺ نے پوچھا ۔کیا کرنے لگے ہو ؟عرض کی ۔یارسول اللہ ﷺ!چہروں پر لگی مٹی صاف کرنے لگے ہیں ۔فرمایا نہ کرو ۔مدینہ کی مٹی شفاہے یعنی مدینہ شریف کی مٹی میں بھی شفاہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک دفعہ ایک شخص حضو رِپاک ﷺ کے پا س آیا ۔بیماری کی وجہ سے پریشان تھا ۔آپ ﷺ نے پوچھا۔کیا ہوا ؟عرض کی جسم دکھا نہیں سکتا۔اُس شخص کو کوڑھ کامرض تھا۔اللہ کے محبوب ﷺنے فرمایا دکھائو ۔کیا ہوا ہے ؟تو اُس کے جسم پر کوڑھ کے داغ تھے ۔پوچھا اس بیماری میں تو مبتلا ہے ۔زندگی کیسے گزار رہے ہو ؟فرمایا ۔اپنی قمیض اُتارواور مٹی کے ساتھ لوٹ پوٹ ہو جائو جس طرح بچے مٹی کے ساتھ کھیلتے ہیں اور اِس مٹی کو اپنے جسم پر ملو۔اُس شخص نے ایسا ہی کیا ۔پھر آقاﷺنے فرمایا ۔جائو اُسے لے کر آئودیکھا تو بیماری تو بیماری ،بیماری کا داغ تک نہیں تھا ۔سبحان اللہ۔اس قدر شفا ہے اس شہر ِمقدس کی مٹی میں ۔پھر مدینہ امن والا شہر ہے ۔حضور ﷺنے فرمایا یہ بھٹی کی مانند ہے ۔بھٹی کیا کرتی ہے ۔اُس میں لوہا وغیرہ کوئی چیز بھی ڈال دو۔وہ لوہے کے ہر قسم کے زنگ کو ختم کردیتی ہے اور دیکھنے والا کہتا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز ہے پرانی نہیں ۔مدینہ ایسا پاک شہر ہے جس میں بندہ جاتا تو گنہگار ہے لیکن جب واپس آتا ہے تو پاک و صاف ہو جاتا ہے ۔اور نیکوکار ہو جاتا ہے ۔یہ وہ مقدس شہر ہے جس کو پیارے آقاﷺنے فرمایا ۔”یہ حرم ِنبی ﷺہے ”اور اس شہر کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اگر حر م میں ایک نماز پڑھو تو ایک لاکھ نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ۔یہاں ایک لاکھ نماز پڑھنے سے وہاں کی ایک نماز کے برابر ثواب ملتا ہے ۔اُدھر کی ایک نماز اِدھر کی ایک لاکھ نماز پھر اُس کے برابر ہو گی ۔مگر حرم ِنبیﷺکی بات کی جائے تو حضورﷺنے ارشاد فرمایا۔اے اللہ !جو حرم میں نماز پڑھے اُسے ایک لاکھ کا اور جو میری مسجد میں نماز پڑھے ۔حرم سے دُگنی فضیلت عطافرما۔یہ ہے فضیلت مدینہ منورہ کی۔قابل ِغور بات ہے کہ اس مسجد کو مسجد ِنبوی ﷺ کیوں کہتے ہیں ؟کیونکہ اس کی بنیاد اور بیس(Base)میرے آقاﷺنے اپنے دست ِمبارک سے رکھی ۔پوری دنیا میں کوئی مسجد ایسی نہیں جس کو مسجد ِنبوی کہیں ۔اللہ کے ولیوں سے اس مسجد کا تقدس پو چھیں تو فرماتے ہیں ہم حرم نبوی ﷺمیں آئے ہیں ۔۔تم تو چلنے کی بات کرتے ہو ہم اونچا دیکھ بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ حرم ِنبویﷺ ہے ۔آج بھی وہاں جائیں تو آپ کو آپ کے نا م سے نہیں بلکہ محمد اور احمد کی نسبت سے پکارا جائے گا۔حرم ِکعبہ بھی موجو دہے اور حرم ِنبوی بھی موجود ہے ۔۔اُدھر چلے جائیں تو فضا اور ہے اور اِدھر آجائیں تو فضا اور ہے ۔یہاں کا انداز اور وہاں کا انداز اور ۔اِدھر مدینہ میں بلانے کا انداز میٹھا ہے اور اُدھر کعبہ میں بلانے کا انداز بھی نرالہ ہے ۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ شکیل الرحمان قادری کی والدہ کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلندفرمائے ۔اللہ رب العزت شکیل الرحمان قادری کی مدینہ شریف اور خانہ کعبہ میں حاضری کو قبول فرمائے اور ہم سب کو بھی اُس درِاقدس کی حاضری نصیب فرمائے۔آمین۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔
دنیا دیاں سفراں تو ں بندہ اَک وی تے جاندا اے پَر سفر مدینے دا ہر وار بڑا سوہنا
بات کر مدینے کی ذکر کر مدینے کا سو حج برابر ہے ایک سفر مدینے کا ۔
مزید برآںنقیب ِمحفل محمد افضال قادری نے کہا کہ ہمارے پیرو مرشد حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی نے ارشاد فرمایا کہ “محروم کر دیا جاتا ہے راہ ِفقر سے وہ شخص جس کا دل محبت رسول ﷺ سے خالی ہو “انہوں نے مزید کہا کہ محبت ِرسول ﷺاور عشق ِرسول ﷺایمان کا خاصہ ہے ۔صحابہء اکرام ؓ حضور پاک ﷺ کے وضو کے پانی کے قطروں کو بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے ۔اُن قطروں کو بھی پی لیا کرتے تھے ۔اپنے چہروں اور جسموں پر مل لیتے تھے ۔اگر پانی کم پڑ جاتا تو دوسرے صحابی ؓکے چہرے پر ہاتھ مَل کر اپنے چہرے سے مَس کر لیتے تھے۔اور ادب یہاں تک کہ جب حضور ﷺوعظ فرماتے یا کچھ ارشاد فرماتے تو صحابی ؓاونچا سانس تک نہ لیتے تھے ۔اُن کے سروںپر پرندے تک بیٹھ جاتے لیکن وہ جسم کو اپنی جگہ پر ساقط کرلیا کرتے تھے ۔ایک دفعہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیٹھ جائو تو صحابی جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے اور ایک صحابی کا ایک پائوں مسجد کے اندر تھا اور دوسرا باہر ،وہ ادب ِرسول ﷺمیں وہیں بیٹھ گئے۔انہوں نے حضور پاک ﷺکی نظر ِنور سے اپنے ظاہروباطن کو روشن و منور کرلیا تھا ۔قبلہ مرشدی ارشاد فرماتے ہیںکہ تمام اولیاء اکرام کے مراتب اکٹھے ہو کر بھی ایک صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ اُن کی تربیت حضور ﷺکی صحبت میں ہوئی تھی ۔آج اگر کوئی بھی شخص اپنا ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کو پاک و صاف کرنا چاہتا ہے تو اُسے اسم ِذات اللہ کا ذکر اپنی زبان کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکنوں سے کرنا پڑے گا۔جب وہ دل کی دھڑکنوں میں اللہ اللہ بسائے گا تو اُس کا باطن منور ہونا شروع ہوجائے گا ۔”ہر چیز کی صفائی کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ہے اور دلوں کی صفائی کا آلہ اللہ کا ذکر ہے “(الحدیث)اس لئے آج عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام بھی یہی پیغام دے رہی ہے کہ آئو ایک دفعہ اجازت ِذکر ِقلب حاصل کرکے خود دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ اللہ اللہ کرکے دیکھو۔اگر اللہ نے چاہا تو کچھ ہی عرصے میں آپ کو اپنے اندر روحانی تبدیلی محسوس ہوگی اور آپ کے دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ میں لگ جائیں گی۔
محفل ِپاک کا باقائدہ آغاز قاری محمد عدیل قادری نے تلاوت ِکلام ِپاک سے کیا ۔حمد و نعت و مناقب در ِشان قلند رپاک ؒ،غوث ِپاک ؓ اور قصیدہء مرشد پیش کیا گیا جس کی سعادت منصب علی قادری ،قاری عدیل ،عبدالعزیز قادری ،عبدالمنان قادری اور محمد رفیق چشتی (گولڈ میڈ لسٹ ) نے حاصل کی اور عوام الناس کی کثیر تعداد کے دلوں میں ذکر ِاللہ اور عشق ِرسول ﷺ کو مزید فروزاں کیا ۔اس محفل ِپاک میں امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے حلقہء ذکر ترتیب دیا اور نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر ِقلب ممبر مرکزی مجلس ِشوری ٰ حاجی محمد اویس قادری نے دی اور درودوسلام کے بعد دعا بھی کی ۔اختتام محفل پر لنگر کا خصوصی انتظا م تھا۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان