الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

محفل ِچہلم شریف حاجی رئیس احمد قادری مرحوم

February 18, 2016

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)پاکستان کے مرکزی امیر حضرت علامہ مولانا حاجی سعید احمد قادری نے اس خصوصی موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ،نبی کریم ﷺکی بارگاہ ِبے کس پناہ میں درودوسلام کے بعد۔ اللہ تعالیٰ حاجی رئیس احمد قادری مرحوم و مغفورکو جوار ِرحمت میں جگہ عطاء فرمائے ۔درجات میں بلندی عطاء فرمائے ۔پسماندگان کو ،اولاد کو ،عزیزو اقارب کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔اللہ پاک نے قرآن ِکریم میں ارشاد فرمایا کہ “”جس شخص نے نیک عمل کیے،اچھے عمل کیے ،وہ مَردوں میں سے ہو یا عورتوں میں سے ۔شرط یہ ہے کہ اس کے سینے میں ایمان کا نور موجود ہو۔ہم اُسے پاکیزہ وطیب زندگی عطاء کریں گے ۔
حضرات محترم !عمل ِصالح کا طریقہ اگر ہمیں پتہ چلا ہے تو انجمن سرفروشان ِاسلام کے ذریعے ،مرشد ِکریم حضرت سیّدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی نے ہمیں بتایا ہے ۔اُس سے پہلے عمل کا تو پتہ تھا لیکن عمل صالح کا پتہ نہیں تھا ۔جس پیغام ،جس مشن کی ترویج کے لئے فیصل آباد میں حاجی رئیس احمد قادری نے بنیاد رکھی ،وہ پیغام سمجھ میں آجائے تو ہر آدمی کو پتہ چل سکتا ہے کہ عمل ِصالح کیا ہے ؟زندگی میں جو کام ہم کرتے ہیں ،وہ ہمارے اعمال ہیں اور ہر بندہ اپنی طرف سے اپنے گمان میں خیال کرتا ہے کہ میں نے جو کام یعنی عمل کیا ہے وہ نیک عمل کیا ہے ،اچھا کیا ہے لیکن قرآن اور احادیث کی روشنی میں جب اعمال کو رکھتے ہیں تو سارے اعمال صالح نہیں ہوتے ۔نماز اچھا عمل ہے ،نیک عمل ہے لیکن کچھ نمازیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔فویل المصلین ۔۔اُن نمازیوں کے لئے نماز تباہی ہے ۔نمازی بھی ہیں، نماز بھی ادا کررہے ہیں اور نماز سے غافل بھی ہیں ۔معلوم یہ ہوا کہ صرف اپنا گمان کر لینا عمل ِصالح کے لئے کافی نہیں ۔آئو امام الانبیاء ﷺ،سرکار ِکائنات کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ یارسول اللہ ﷺ!عمل ِصالح کیا ہے ؟میرے آقاﷺنے ارشاد فرمایا ۔(الناس کلھم اموات)۔سارے لوگ بے کار ہیں ان العالمون سوائے عالمین کے ۔یہ میں آپ کو عمل ِصالح کی تعریف بتانا چاہتا ہوں کہ عمل ِصالح کیا ہے ؟اور یہ جو حدیث ہے اسکو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے تصوف کی بنیاد قرار دیا ہے ۔جن کو عرف عام میں ہم علم ِتصوف کہتے ہیں ۔میرے آقاﷺ نے ارشاد فرمایا ان العالمون کلھم اموات ان العابدون (دنیا کے سارے علم والے بھی بے کار ہیں سوائے اہل ِعمل کے )علم تو ہم سب کے پاس ہے ۔ہم سب جانتے ہیں کہ ارکان ِاسلام کی پابندی کرنی ہے لیکن کرتے نہیں ۔علم ہے لیکن عمل نہیں ۔بغیر عمل کے علم بھی بے کارہے۔
شیطان کے پاس بڑا علم تھا ۔بڑاعلم والا تھا اور عمل والا بھی تھا ۔علم اور عمل دونوں بے کار گئے ۔اس لئے کہ کملی والے نے ارشاد فرمایا کہ سارے عمل والے بھی بے کار ہیں ۔پہلے ارشاد فرمایا کہ “سارے لوگ بے کار ہیں سوائے اہل ِعلم کے” ۔پھر ارشاد فرمایا کہ “سارے علم والے بھی بے کار ہیںسوائے اہل عمل کے “تم میں بہتر وہی ہے جو علم کے مطابق عمل بھی کرے ۔پھر ارشاد فرمایا ( العالمون کلھم اموات ان المخلصون )ترجمہ :۔سارے عمل والے بھی بے کار ہیں عمل ان لوگوں کے کار آمد ہیں جن کے اعمال کے ساتھ خلوص بھی شامل ہو ۔سارے عمل بھی صالح نہیں ہوتے ۔(من عمل صالحا)پروردگار نے فرمایا ۔پاکیزہ زندگی انہیں ملتی ہے جن کے اعمال صالح ہوں اور عمل صالح کے لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا “خلوص شرط ہے اور خلوص کا تعلق دل سے ہے “خلوص اس وقت دل میں آتا ہے جب یہ دل پاک و صاٖ ف ہو ۔آئیں اس دل کو پاک وصاف کرنے کا طریقہ عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام کے بانی و سرپرست اعلیٰ ہمارے پیارے مرشد ِکریم نے ہمیں بتایا ہے ۔فرمایا کہ اسم ِذات اللہ جب دل میں آتا ہے تو سوائے اللہ کے دل میں کوئی بھی ناپاکی نہیں رہتی ۔دل خالص ہو جاتا ہے ۔اللہ کے لئے خالص ہو جاتا ہے ۔خالص دل کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ اللہ کی بارگاہ میں قبول بھی ہو جاتا ہے اور اُسے عمل ِصالح کہتے ہیں ۔حضرت معاذ بن جبلؓ ؓنے ارشاد فرمایا کہ “جس بندے کا عمل صالح ہو جائے ،خالص ہو جائے ،اللہ کے لئے ہو جائے ،اُس بندے سے اللہ محبت کرتا ہے” اور یہ فرمان امام الانبیاء ﷺکا ہے ۔فرمایا میں نے اپنے کانوں سے نبی کریم ﷺکی بارگاہ میں یہ بات سنی ۔ امام الانبیاء ﷺنے ارشاد فرمایا کہ “جس بندے کا عمل اللہ کے لئے ہو جائے ،وہ کسی کے ساتھ ملے تو اللہ کیلئے ۔کسی سے محبت کرے تو اللہ کے لئے ۔کسی سے دشمنی کرے تو اللہ کیلئے ۔کسی کو کھانا کھلائے تو اللہ کیلئے ۔کسی کی خدمت کرے تو اللہ کیلئے “۔جب اللہ کیلئے ہر عمل ہو جاتا ہے تو کملی والے نے فرمایا” ایسے شخص سے اللہ محبت کرتا ہے “۔
ویسے تو ساری زندگی ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اللہ سے محبت کریں ۔جس کا دل اللہ کیلئے خالص ہو جاتا ہے اللہ اُس سے محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ محبت کرے پھر اللہ اُس کی رضائیں بھی چاہتا ہے ۔ساری کائنات اللہ کی رضا چاہتی ہے اور اللہ اپنے محبوبوں کی رضا چاہتا ہے ۔پھر انسان کے دل میں جب اللہ کا نام آجاتاہے ۔غافل قلب بیدار ہوتا ہے ۔اللہ کا ذکر شروع کردیتا ہے ۔ذکر ِالٰہی کے نور سے سینہ منور ہو جاتا ہے اور جب اللہ کے نام کانور قلب کے ذریعے نس نس میں پہنچ جاتا ہے تو اُس نور کے ذریعے انسان کا نفس پاک ہو نا شروع ہو جاتا ہے ۔امارہ سے مطمعنہ جب ہو جاتا ہے تو ایسے شخص کیلئے پروردگار ِعالم ارشاد فرماتے ہیں ترجمہ:۔ اے نفس مطمعنہ !اپنے رب کی بارگاہ میں آ(القرآن)۔ہم ساری زندگی ،دعائیں اورالتجائیں کرتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ تک رسائی نصیب ہو جائے اور جو لوگ اپنے اندر کو پاک وصاف کرلیتے ہیں ۔تصفیحہء قلب،تذکیہء نفس کرلیتے ہیں ۔ایسے لوگو ں کو اللہ خود ارشاد فرماتا ہے کہ ــ” اے نفس مطمعنہ !اپنے رب کی بارگاہ میں آ”(القرآن)اس حالت میں کہ راضیہ مرضیہ یعنی کہ تو مجھ سے راضی اور میں تجھ سے راضی ہوں۔اس آیت کی ترجمانی حکیم الامت نے اپنے الفاظ میں بیان فرمائی ہے ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ۔
خودی کیا ہے ؟خودی کا سرِنہاں لاالہ الااللہ خودی کا پوشیدہ راز کلمے کے اندر موجود ہے ۔اللہ کے ذکر ،اللہ کے نام میں موجود ہے ۔اتنا ذکر کَر ،اتنا ذکر کَر کہ تیرا اندر نور علی نور ہو جائے اور جب تجھے ایسا مقام مل جائے گا تو پھر تجھے التجا نہیں کرنی پڑے گی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیغام ِخاص ہے اللہ کے ذکر کاا وریہ ہر شخص کیلئے نہیں ،ہر ایک کامقدر نہیں ۔پروردگار ِعالم نے ارشاد فرمایا
ترجمہ:۔اے ایمان والو!اللہ کا ذکر کثرت سے کرو ۔یا اللہ !ایمان والوں کے علاوہ جتنے انسان ہیں ۔کیا یہ تیرے بندے نہیں ؟تیری مخلوق نہیں ؟تیرا رزق نہیں کھاتے ؟تیری نعمتیں استعمال نہیں کرتے ؟کیا ساری نعمتیں اِن کیلئے نہیں ؟پھر ذکر ایمان والوں کیلئے کیوں ؟ذکر ِکثیر کی پابندی صرف ایمان والوں کیلئے کیوں ؟جب سارے اللہ کی نعمتیں استعمال کرتے ہیں ۔اُس کا رزق کھاتے ہیں تو سب کو اپنے خالق و مالک کا ،رازق کا ذکر کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے واضع کردیا کہ ذکر ِکثیر صرف ایمان والوں کیلئے ہے ۔اس لئے کہ ذکر کا قاعدہ یہ ہے کہ مَن اَحَبَّ۔۔۔۔جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہی کثرت کے ساتھ اُس کا ذکر کرتاہے ۔ایمان والوں کو کثرت ِذکر کا حکم دیا گیا تو اہل ِایمان کو محبت بھی ہونی چاہیے۔پروردگار ِعالم نے ارشاد فرمایا کہ ایمان والوں کی نشانی یہی ہے ۔اہل ِایمان کی نشانی یہی ہے ۔اَلذین امنوااشد حب للہ(القرآن )ترجمہ:۔جن کے سینوں میں ایمان ہو تا ہے وہ اپنے اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں اور جتنی محبت ہو گی اتنی کثرت کے ساتھ ذکر کیا جائے گا۔اس لئے امام الانبیاء ﷺ کی امت کی یہ نشانی ہے کہ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے “اے میرے حبیب کی امت !جب نماز سے فارغ ہو جائو تو پھر اللہ کا ذکر کرو ۔کیسے ؟طریقہ بھی بتا دیا ۔باتیں تو اللہ نے کھول کھول کر بتا دیں ہیں ۔اب عمل کرناباقی ہے اور وہ ہم لوگ نہیں کرتے۔اس کے اوپر عمل کون کرے گا؟
۔فرمایاکہ جب نماز سے فارغ ہوجائو تو کہیں یہ خیال نہ آجائے کہ نماز پڑھ لی ہے اوراللہ کاذکر ہو گیا۔نماز ادا کرلی ۔ذکر ِالٰہی ہو گیا ہے ۔ نماز کے بعد اللہ کا ذکر کرو ۔یااللہ !نماز کے بعد کیسے ذکر کریں ؟فرمایا ۔کھڑے بھی ،بیٹھے بھی اور کروٹوں کے بل لیٹے ہوئے بھی(القرآن)۔یہ تین حالتیں اللہ نے اپنے ذکر کے لئے بیان فرمائی ہیں ۔اس لئے کہ ساری زندگی میں بندہ ان تین( 3) ہی حالتوں میں ہو تا ہے یا کھڑا ہوتا ہے یا بیٹھا ہوتا ہے یا لیٹا۔یعنی ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا ہے ۔اس با رے میں سلطا ن العارفین ،برھان الواصلین ،مقتدائولکاملین ،فنافی عین ذات ِیاھوحضرت سخی سلطان ِحق باھوؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ
جو دَم غافل سو دَم کافر سانوں مرشد اے پڑھایا ھو
سنیاں سخن گھیاں کھل اکھیاں اَساں دل مولا وَل لا یا ھو
فرمایا جو لمحہ اللہ کی یاد سے غفلت میں چلاجائے ۔اللہ والے اپنے آپ کو اس لمحے مسلما ن ہی نہیں سمجھتے ۔یہ دِل سینے میں ایسی چیز ہے کہ یہ ایک مَرتبہ اللہ کے ذکر میں جاری ہو جائے تو اس کی فطرت ہے کہ یہ ہمہ وقت اللہ کا ذکر کرتارہتا ہے ۔بندہ کھڑا ہو ،بیٹھا ہو یا سو رہا ہو ،کسی بھی حالت میں ہو ۔ایک توذکر ہے کہ ہم نماز پڑھ لیتے ہیں ،قرآن ِمجید کی تلاوت کرلیتے ہیں ۔یہ بھی ذکر ہے لیکن یہ ذکر ِکثیر نہیں ہے ۔حکم کیا ہے ؟ارشاد ِباری تعالیٰ ہے کہ “جو میرے بندے ہیں وہ خریدوفروخت میں بھی میرے ذکر سے غافل نہیں ہو تے “اور یہ صرف اُس وقت ممکن ہے جب دلوں کی دھڑکنوں میں اسم ِذات اللہ کو بسا لیا جائے گا۔اس کے لئے کسی کامل کی اجازت کی ضرورت ہو تی ہے کیونکہ دل انسان کے اختیار میں نہیں ہے ۔اگر کو ئی چاہے کہ ایک منٹ کے لئے اس کی دھڑکن روک لے تو ایسا ناممکن ہے ۔تو پھر دل کن لوگوں کے اختیار میں ہوا کرتا ہے ؟انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دوست(ولی اللہ)فرمایا ہے ۔ان کی نظر ِرحمت جب کسی مُردہ قلب پر پڑتی ہے تو وہ دِل اللہ اللہ کرنا شروع کردیتا ہے اور قیامت تک وہ اللہ اللہ کرتا رہے گااور اسکی روح کو اس کا ثواب ملتا رہے گا۔یہی انجمن سرفروشان ِاسلام کا پیغامِ روحانیت ہے اور اسی میں ہمارے محترم حاجی رئیس احمد قادری نے اپنی زندگی کے شب و روز گزارے ۔فیصل آباد میں یہ انہی کا لگایا ہوا پوداہے جو آج تناور درخت بن چکا ہے ۔حاجی صاحب پر سرکا ر شاہ صاحب کی خصوصی نظر ِرحمت تھی جس کی بدولت انہوں نے ہر مشکل گھڑی میں اس روحانی پیغام کو قبلہ مرشد ِگرامی کی تعلیمات کے عین مطابق سسکتی ہو ئی روحوں تک پہنچایا اور اب یہ ہمارا فرض ہے کہ اُن کے بعد ہم اپنی اپنی سطح پر اس انجمن کے پلیٹ فارم سے اللہ ھو اللہ ھو کی صدائیں بلند کرتے رہیں اور لوگوں کے دلوں میں حقیقی ایمان کو پیدا کرتے رہیں اور اُن کے سینوں میں محافل نعت و ذکر ِالٰہی کے ذریعے شمع محبت ِرسول ﷺکو جلاتے رہیں ۔دعاہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ حاجی صاحب کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے اور اُن کے درجات کو مزید بلند فرمائے ۔(آمین)بعد میں تمام حاضرین ِمحفل کو اجازت ِذکر ِقلب سے نوازا۔
نقابت کے فرائض مرکزی مشیر محمد شفیق قادری اور محمد افضال قادری نے سرانجام دئیے ۔اس محفل ِپاک کا باقائدہ آغاز تلاوت ِکلام ِپاک سے قاری محمد عدیل قادری نے کیا۔اسکے بعد حمد ِباری تعالیٰ کا نذرانہ محمد رفیق قادری نے پیش کیا۔بارگاہ ِرسالت ِمآب ﷺمیں گلہائے عقیدت و محبت کے نذرانے قاری محمدعدیل قادری،عبدالعزیز قادری،عبدالمنان قادری کے علاوہ سید نویدالحق قادری نے خصوصی کلام پیش کرکے حاضرین ِمحفل کے دلوں کو محبت ِرسولﷺ،محبت ِغوثیہ ؓاورمحبت ِآل ِاطہار سے فروزاں کیا۔مرکزی مشیر محمد شفیق قادری نے حلقہء ذکر کو ترتیب دیا۔اختتامی دعامرکزی امیر حضرت علامہ مولانا حاجی سعید احمد قادری نے کروائی اور حاجی رئیس احمد قادری مرحوم ومغفور کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اس محفل ِپاک میں حاجی محمدسلیم قادری (امیر ِفیصل آباد)اور حاجی محمد اصغر قادری کے علاوہ سرفروش ذاکرین کی کثیر تعدادنے شرکت فرمائی ۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان