الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

محفل ِچہلم شریف شبیر احمد ہیرا مرحوم و مغفور

March 18, 2016

18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (1) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (2) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (3) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (4) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (5) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (6) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (7) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (8) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (9) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (10) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (11) 18-03-2016 Mehfil e Chehlam Shabbir Ahmad Heera(Late) in ALLAMA IQBAL COLONY FSD (12)

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام(رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیر ِاہتمام علامہ اقبال کالونی میں شبیر احمد ہیرامرحوم و مغفور کے ختم ِچہلم کے سلسلہ میں محفل ِپاک کا انعقاد 18مارچ2016 ؁ء بروز جمعتہ المبارک بعد از نماز ِجمعہ کیا گیا جس میں نقابت کے فرائض عبدالعزیز قادری نے سرانجام دئیے۔حمد ِباری تعالیٰ کی سعادت منصب علی قادری نے حاصل کی۔قاری محمد عدیل قادری اور افسر علی رضوی نے بارگاہ ِرسالت ِمآب ﷺ میں نذرانہء نعت پیش کیا۔عبدالمنا ن قادری نے غوث ِپاک ؓ اور مرشد ِپاک کے حضوراپنی عقیدت و محبت کا اظہا ر کیا ۔ممبر مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے نئے لوگوں کو اجازت ِذکر ِقلب کی نایاب دولت ِعظمیٰ سے نوازا۔سابقہ ناظم محمد خالد قادری نے حلقہء ذکر کو ترتیب دیا ۔درودوسلام اور ختم شریف کے بعد خصوصی دعا مرکزی مشیرمحمد شفیق قادری نے کروائی ۔محفل ِپاک کے اختتام پر لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے ۔کلمہ میں توحید اور رسالت دونوںکے 12,12حروف ہیں ۔توحید کوبھی مانواور سالت کو بھی مانو۔صرف توحید ،توحید کہنے سے کلمہ پورا ادانہیں ہوتا۔کلمہ تب ہے جب اللہ کی بھی مانو اور رسول ﷺکی بھی مانو۔تب تمہیں کلمہ کی حقیقت نصیب ہو گی۔اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنی لگن کو مضبوط کرو۔جب اللہ سے آپ کی لگن سچی ہو گئی توپھر حضور ﷺکے قدموں میں پہنچ جائو گے ۔حضرت امام جعفر صادق ؓسے کسی نے کہاکہ مجھے اللہ کا دیدار کروائیں ۔آپ نے اُس کو ٹالنے کی کوشش کی ۔فرمایا ۔اللہ نے موسی ؑکو فرمایا تم نہیں دیکھ سکتے ۔کہنے لگا میں اُمت محمد یﷺ ہوں ۔آپ ؓنے اپنے مریدوں سے کہا کہ اسے دریائے دجلہ میں پھینک دو۔دریا کو حکم دیا کہ اس کو اچھی طرح اوپر نیچے کرو۔اتنا آگے پیچھے کیا کہ جب وہ مرنے کے قریب ہو گیا ۔آپؓ کے حکم سے اس شخص کو دریا سے نکالا گیا ۔پوچھا! ہو گیا رب کا دیدار؟کہنے لگا میں نے لوگوں کو آوازیں دیں مجھے بچائو ،مجھے بچائو۔کسی نے نہیں بچایا۔اتنے میں میرے دل میں سوراخ ہو گیا۔جب سوراخ ہوا تو میں نے اللہ کو پکارا۔مولا !تو ہی ہے مجھے بچاسکتاتو اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا۔امام جعفر صادق ؓفرمانے لگے اب جو سوراخ اندر ہوا ہے نااس سوراخ کی حفاظت کرنا۔اس لئے کہ جب تک زبان سے کہتا رہا کہ مجھے بچائو ،مجھے بچائوتو کسی نے نہیں بچایااور جب دل میں سوراخ ہو ایعنی جب دل بیدار ہوا ۔جب دل نے اللہ کو پکاراتو اللہ تعالیٰ نے مدد کی ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ،
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پَر نہیں طاقت ِپرواز مگر رکھتی ہے
مرکزی مشیرمحمد شفیق قادری نے مزید کہا کہ یہ دل کیا ہے ؟حدیث ِپاک میں ہے کہ “مومن کا قلب اللہ کا عرش ہے اور مومن کا قلب اللہ کا گھر ہے “۔اس قلب کی پرواز اللہ کی بارگاہ تک ہے ،حضور پاک ﷺکے قدموں تک ہے اوراس قلب کی پروازغوثِ پاک ؓکے دربار شریف تک ہے ۔جب قلب بیدار ہو تا ہے کبھی غوث ِپاک ؓکے قدموں میں چلا جاتا ہے ۔کبھی حضور ِپاک ،صاحب ِلولاک ﷺکے دربار شریف پر حاضری کیلئے چلا جاتا ہے اور جب کسی درویش کی نظر ِرحمت مزید ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے قرب میں بھی چلا جا تا ہے۔ قلب بنیاد ہے اور اس بنیاد کو مضبوط کرنے کیلئے رب تعالیٰ نے ہمیں کلمہ طیبہ” لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ” دیا اور کلمے کا مغز کیا ہے ؟لاالہ الااللہ ۔لاالہ الااللہ کا مغز کیا ہے ؟الااللہ۔الااللہ کا مغز کیا ہے ؟اللہ۔اللہ کا مغز کیا ہے ؟ھو۔
اللہ اللہ کرتے کرتے ھو نظر آیا مجھے ھو میں جب میں گم ہوا تو ،تو نظر آیا مجھے۔
غوث ِپاک ؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے انسان !تیرا زُہد ،تیرا تقویٰ،تیرے لباس میں نہیں بلکہ تیرے قلب میں پو شیدہ ہے ۔اگر تیرا لباس عالمانہ ،درویشانہ ،صوفیانہ ہے اور تیرا دل ذکر ِالٰہی سے غافل ہے اور فسق و فجور میں ہے توخدا کے ہاں تیراشمار فاسقوں ،فاجروں میں ہوگااور اگر تیرا دل اللہ کے ذکر سے منور ہے تو لباس خواہ کیسا ہی پہن لے ۔اللہ کی بارگاہ میں تیرا شمار مومنوں میں ہے ۔صد افسوس!تیری زبان توعالم ِہے لیکن تیرا قلب عالم ِ نہیں ۔تیرادل جاہل ہے ۔حضور ِپاک ﷺنے ارشاد فرمایا ۔”جاہل عالم ِسے ڈرواور بچو”۔فرمایا” جسکی زبان عالم ِہو اور دل جاہل ہو” ۔رب کا تعلق دل کے ساتھ ہے
مسجد ڈھا دے ،مندر ڈھادے ،ڈھادے جو کجھ ڈینداں اک بندے دا دل نہ ڈھانویں رب دلا ں وچ رہندا
پھراللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔حدیث ِقدسی میں ہے کہ “نہ میں زمیں میں سماتا ہوں ،نہ آسمان کی وسعتوں میں ۔میں اگر سماتا ہوں تو بندہ ء مومن کے دل میں “رب کا گھر ہے دل اور دل ہمارا گناہوں سے آلودہ ہو چکاہے۔جس کا دَر گنداہو۔ کیا اس کے ہاں مہمان آئے گا؟کبھی نہیں آئے گا۔حضورﷺ نے فرمایا “جب بندہ ایک گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اور گناہوں کی کثرت کی وجہ سے اُس کا دل سیاہ ہو جاتاہے”پوچھا یا رسول اللہ ﷺ!کیا دل کو صاف کرنے کا بھی کوئی طریقہ ہے ؟فرمایا ۔”ہر چیز کی صفائی کے لئے کوئی نہ کوئی آلہ ہو تا ہے اور دلوں کی صفائی کا آلہ اللہ کا ذکر ہے ” مجھے بتائیں کہ برتن آپ نے اندر سے صاف کرنا ہو اور پانی اُس کے باہر ڈالتے رہیں تو کیا اندر سے برتن صاف ہو جائے گا؟باہر سے صاف ،شفاف ہو جائے گا۔چمکے گا ۔صاف نظر آئے گالیکن وہ قابل ِاستعما ل نہیں ہے ۔دودھ نور ہے ۔دودھ نہیں ملے گا،سالن نہیں ملے گا ،پانی نہیں ملے گا۔اس لئے کہ گندگی اندر لگ گئی ہے ۔زبانی طور پہ تو ہم بہت کچھ کرتے ہیں لیکن گندگی تو اندر ہے ۔وہ (اللہ )تو دل کے اندر ہے ۔ذکر زبان سے کر رہے ہیں ۔دل صاف ہی نہیں ہو رہا۔زبانی ذکر کریں گے ،زبان پاک ہو گی ۔ثواب ملے گا۔دل کیسے صاف ہو گا ؟جب تک ذکر اندر نہیں پہنچے گا دل کبھی صاف نہیں ہو گا ۔جب تک آپ کا ہا تھ برتن کے پیندے تک نہیں پہنچتا برتن صاف نہیں ہو تا ۔دل کو صاف کرنا ہے تو اس کی دھڑکنوں میں ،ٹک ٹک میں اسم ِذات اللہ بسانا ہو گا۔جب دل کی دھڑکنیں ٹک ٹک کی بجائے اللہ اللہ کرنے لگ جائیں گی۔ارشاد ِباری تعالیٰ ہے” ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر واسطے بندگی کےاللہ نے جس مقصد کے لئے ہمیں پیدا کیا اُس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے دلو ں میں اللہ بسائیں ۔اس طرح دنیاداری بھی چلتی رہے گی۔دنیا کا نظام بھی رواں دواں رہے گا ۔اللہ نے جس مقصد کیلئے دنیا میں بھیجاہے وہ مقصد بھی پورا ہو جائے گا ۔
مرکزی مشیر نے شبیر احمد ہیراکے با رے میں کہا کہ اُس کی مرشد سے لگن سچی تھی اور جب وہ قصیدہ پڑھتا تھا تو مرشد کی محبت میں کھو جا تا تھا۔مرشد سے بڑی محبت تھی۔اللہ کے نیک بندوں کا ذکر گناہوں کا کفارہ ہے ۔جس جگہ اللہ کے ولیوں کا ذکر کیا جائے وہاں اُس کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔ مجھے اُس کی جوانی پہ رشک آرہا ہے ۔ہم دیکھتے رہ گئے وہ مرشد کا عشق لے کر اس دنیا سے چلا گیا ۔اللہ کے ولیوں کے ساتھ نسبت قائم کرو۔ولیوں سے دنیا کی دولت نہ مانگو کیونکہ دنیا کی دولت یہیں رہ جانی ہے ۔اللہ کے ولیوں سے اگر کچھ مانگنا ہے تو وہ دولت مانگو جو تمہارے ساتھ جائے گی اور وہ دولت دل کی دولت ہے ۔جب دل کی ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ہو نے لگ جائے تو سمجھ لو مقصود ِزندگی نصیب ہو گیا ۔یہی انجمن سرفروشان ِاسلام کا مشن ہے کہ آئیں اپنے دل کو اللہ کے نور سے اپنے دل کو چراغ بنا لیں ۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان