الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

پریس کانفرنس

July 11, 2010

محترم صحافی بھائیو!
ملک میں جاری دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن فیضان اولیاء کے روحانی مرکز ،داتا دربار پر جس گھناونے انداز میں دہشت گردی کی گئی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور دہشت گردوں نے جس طرح لبادہ اوڑھ کر اور روپ تبدیل کرکے یہ گھناونی حرکت کی وہ بھی ملک بھر کے عوام عقیدت مندوں کے خلاف ایک سازش ہے لیکن عوام نے ایک بار پھر صبر سے کام لے کر ثابت کردیا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے آخر نبی محبوب الزماںﷺکے بتائے ہوئے راستہ پر گامزن ہیں اور یہ پہلا موقع نہیں کہ عوام اہلسنت جو کہ ملک میں 98فیصد ہیں انہوں نے صبر سے کام لیا ہو بلکہ کراچی میں 12ربیع الاول کے جلسے میں بم دھما کے کے بعد بھی عوام اہلسنت نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا لیکن اس صبر کے دامن کو کہیں ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ۔
حضرات سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں جاری اس دہشت گردی کی لہر کے دوران ملک بھر میں مزارات کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے کیا وجہ ہے کہ خیبر پختونخواہ میں جس طرح مزارات کو نقصان پہنچایا گیا اب پنجاب میں یہ سلسلہ شروع کیا جارہاہے اس سے ہمیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں زبان ،نسل،لسان،صوبائیت،مسلک،مذائب کے نام پر پوری ایک قوم کو کئی برادریوں ،مسالک اور مذاہب میں تقسیم کردیا جائے تاکہ پاکستان کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا بین الاقوامی ایجنڈا مکمل ہوسکے ،کوئی بھی ذی شعورمزارات ،مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ بیرونی ہاتھوں کی وجہ سے ہورہا ہے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام پر اعتماد کرے اور دہشت گردی کے معاملے پر عوام کو مکمل انداز میں اعتماد میں لے اور جو بھی لوگ اس میں ملوث ہیں حکومت ان کی مکمل نشاندہی کرے تاکہ عوام خودان عناصر کی شناخت کرسکیں ۔
موجود صورتحال میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک بھر میں مزارات دراصل روحانی ہیں جہاں انسان جا کر اللہ تعالی کی حقانیت ،اس کے محبوب سبحانی رسول مقبولﷺکی محبت اور صاحب مزار کے عشق کے ذریعے اپنی اصلاح کر نے کی کوشش کرتا ہے اس لیے ایسے روحانی مزارات کو نہ صرف بچانے کی ضرورت ہے بلکہ تمام بزرگارن دین کے پیغام کو عام کرنے کی پہلے سے زیادہ اشد ضرورت ہے اس لیے ہی انجمن سرفروشان اسلام اور آل فیتھ سپریچوئیل آرگنائزیشن نے کراچی سے داتا صاحب کی نگری تک کاروان امن ومحبت کے نام سے ایک لانگ مارچ کا پروگرام بنایا ہے انجمن سرفروشان اسلام ،آل فیتھ کے ہزاروں کارکنان اس لانگ مارچ میں اولیاء کرام کی تعلیمات عام کرنے کا عزم لیے سفر کریں گے اور داتا دربار پہنچ کر وہاں حاضری دے کر اپنی شرمساری کا اظہار کریں گے کہ ہم اپنے بزرگان دین کے پیغامات کو عام کرنے ہی میں سستی نہیں کررہے بلکہ ہم ان کی آرام گاہوں اور اپنے روحانی انسٹیٹیویٹ کو نقصان سے بھی نہیں بچا پا رہے ہیں ۔
ااتا صاحب کے دربار پر حملہ ،ہر مسلمان پر حملہ کے برابر ہے چاہے اس کا مسلک کوئی بھی کیوں نہ ہو اس لیے ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اس حملے میں ملوث اور ان کے سرپرستوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کرے ،انہیں گرفتار کرکے لاہور کے سب سے مصروف ترین چوک پر انہیں سرعام پھانسی دے اس سلسلے میں جتنی بھی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مثبت بیانات دیے ہم ان تمام کے مشکور ہیں کہ انہوں نے داتا دربار کی پاکستان میں اہمیت کو سمجھا ہے ساتھ ہی حکومت پنجاب کی جانب سے جو اقدامات کیے گئے ہیں ہم اس کی بھی حمایت کرتے ہیں اور مطالبات کرتے ہیں کہ نہ صرف داتا دربار بلکہ پاکستان بھر میں تمام بزرگان دین کے مزارات کی سیکوریٹی میں اضافہ کیا جائے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اس سیکوریٹی کے نام پر زائرین کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کی جائے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم ملک بھر ملک بھر میں جتنی بھی اہلسنت جماعتیں اورمدارس ہیں ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی اور بڑے سانحے سے قبل ایک ہوجائیں تاکہ دہشت گردوں کو پتہ چل سکے کے اہلسنت اس ملک میں کتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں اگرایک بار اہلسنت جماعتوں کا اتحاد سامنے آگیا تو ان کی تعداد دیکھ کر ہی مخالفین اور دہشت گردوں پر ایک ہیبت طاری ہو جائے گی۔
منجانب
شعبہ نشرواشاعت
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام پاکستان
آل فیتھ سپریچوئیل آرگنائزیشن پریذڈنٹ
شبیر احمدصاحب 03006638567
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام نائب عالمی امیر
مولانا سعید احمد قادری صاحب 03005511299
مشیر انجمن سرفروشانِ اسلام لاہور
عصمت اللہ صاحب 03004450431

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان