الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

ہالینڈ کی جامع مسجد میں خطاب

December 18, 2010

عزیز ساتھیو! السلام علیکم!
آپ کے شہر میں پہلی دفعہ آنا ہوا۔ آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے، کسی فرقے کی دل آزاری نہیں ہے۔ہر ملک میں، ہر شہر میں، ہر گھر میں کچھ دل والے ہوتے ہیں۔ ان دل والوں کو نکالنا مقصد ہے اور دل کی آواز ان کے دلوں تک پہنچانا مقصود۔ حضور پاک ﷺ کے زمانے میں دو طرح کے علم تھے ایک زبان والوں کے لیے اور ایک دل والوں کے لئے۔ زبانی علم کو شریعت بولتے ہیں اور اس دل والے علم کو طریقت بولتے ہیں۔ آپ ﷺ کے زمانے میں جن لوگوں نے صرف زبانی علم سیکھا انہی میں سے کوئی خوارج ہوا اور کوئی منافق۔ آج وہی لوگ جو صرف ظاہری علم کے ہیں بہتر فرقوں میں تقسیم ہیں اور جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تھے صحابی یا رسول اللہؐ اور ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کر گئے۔ اب زبانی علم کی تشریح ضروری نہیں ہے۔ اس کو بچہ بچہ بھی جانتا ہے۔ ہمارے علماء آتے ہیں،اس کی تشریح کر جاتے ہیں۔ اس کی جتنی بھی کھوج میں نکلیں گے ایک نیا فرقہ بن جائے گا اور کچھ نہیں ہو گا فرقہ بن جائے گا۔ لیکن وہ دل والا علم، جس کو مسلمان بھول گئے ہیں ،اس کی تشریح ضروری ہے۔ دل والا علم، اس کیلئے کچھ اشارے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور پاکﷺ سے دو علم حاصل ہوئے۔ ایک تمھیں بتا دیا اگر دوسرا بتاؤں تم مجھے قتل کر دو۔ حضور پاک ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ سے تین علم حاصل ہوئے۔ایک عام لوگوں کے لئے زبان والوں کے لئے۔ ایک دل والوں کے لئے اور ایک صرف میرے لیے۔ اب وہ دل والا علم کیا ہے؟ اس کو طریقت بولتے ہیں۔ حضور پاکﷺ کے زمانے میں یہ دونوں اکٹھے چلتے تھے، صحابہ تک اکٹھے چلے۔ پھر امام آئے ان تک اکٹھے چلے۔ اس کے بعد یہ منتشر ہو گئے۔ زبانی علم علماء کے پاس اور دل والا علم درویشوں کے پاس۔پھر ایک عرصہ آیا جیسے غوث پاکؓ آئے انہوں نے دونوں کواکٹھا کیا۔غوث پاکؓ کے بعد پھر یہ منتشر ہو گئے۔ پھر مجدد صاحب آئے انہوں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا، اس کے بعد پھر منتشر ہو گئے۔ اب جب منتشر ہوگئے تو آپ جب عالم کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ جو کچھ ہے شریعت میں ہے ۔ یہی کہتاہے نا؟ پھر جب آپ درویش کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ جو کچھ ہے دل میں ہے۔ آپ کدھر جائیں؟ وہ اس کی نفی کرتا ہے، کاٹ کرتا ہے۔ وہ اس کی کاٹ کرتا ہے۔ آپ کو زبانی علم بھی چاہیے اور دل والا علم بھی چاہیے۔ زبانی علم جا کے علماء سے سیکھیں اور وہ دل والا علم جا کے درویشوں سے سیکھیں۔کئی ایسے عالم ربانی بھی ہیں جن کے پاس دل والا علم بھی ہے اور زبان والا علم بھی ہے۔ اگر وہ مل جائیں تو وہ ایک، دونوں سے بہتر ہے۔ ایسے عالم بھی ہیں پاکستان میں، لاڑکانہ میں محمد شریف صاحب، ملتان میں کاظمی صاحب۔ ایسے عالم بھی ہیں اور باقی بھی ہیں۔ لیکن وہ روپوش ہیں۔ اب وہ دل والا علم کیا ہے؟ جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اسی طرح وہ دل، گوشت کا لوتھڑا، وہ بھی اللہ اللہ کر سکتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے گوشت کا لوتھڑا ہے اسکی زبان ہی نہیں ہے وہ کیسے اللہ اللہ کرے گا۔ یہی کہتے ہو نا؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ زبان بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے نا، یہ اللہ اللہ کیسے کرتی ہے؟ گوشت کا لوتھڑا ہے نا، یہ دو جبڑوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے اور وہ دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔دونوں کو مشکل ہو گی۔ اگر یہ( گوشت کا لوتھڑا زبان) بول سکتا ہے تو وہ( گوشت کا لوتھڑا دل) بھی بول سکتا ہے۔ اسی طرح یہ زبان بھی ایک گوشت کا لوتھڑا ہے نا۔ یہ اللہ اللہ کرتی ہے۔ اگر یہ بول سکتا ہے تو وہ بھی بول سکتا ہے۔ لیکن یہ گوشت کا لوتھڑا زبان کیسے بولتا ہے؟ لیکن یہ گوشت کا لوتھڑا زبان کیسے بولتا ہے؟ یہ جو ڈھانچہ انسانی جسم ہے جس میں وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے، اس میں کچھ مخلوقیں ڈالی گئیں۔ جن کو جُسے بولتے ہیں۔ سولہ مخلوقیں اس ڈھانچہ میں ڈال دی گئیں۔ جس طرح جن اور فرشتے ہیں،یہ مخلوقیں ہیں اس طرح وہ مخلوقیں ہیں کوئی دماغ میں بیٹھ کر سوچنے کے لئے،کوئی دیکھنے کیلئے کوئی سننے کیلئے ،کوئی سونگھنے کے لیے۔ کوئی چلنے کے لئے، کوئی بولنے کے لئے۔ اگر وہ مخلوقیں نکل جائیں پھر یہ گر جائے گا۔ اگر اس کی زندگی ہے تو ان مخلوقوں سے ہے۔ ایک مخلوق جس کا نام ہے اخفیٰ ،وہ سینے کے درمیان ہے، وہ مخلوق بولتی ہے اس گوشت کے لوتھڑے زبان کیلئے۔ اگر وہ مخلوق ختم ہو جائے یا کسی کی نہ آئے اس کو گونگا کہتے ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو صحیح ہے یہ بولتا کیوں نہیں ہے؟ تو وہ مخلوق ہے نا۔ انسانوں اور جانوروں میں ان مخلوقوں کا فرق ہے اگر یہ مخلوقیں جانوروں میں بھی ہوتی تو وہ بھی کچھ نہ کچھ بولتے نا۔ زبانیں تو ان کی بھی ہیں۔ طوطے ہی بول لیتے۔جس طرح اس زبان کوبلوانے کے لئے وہ مخلوق ہے اسی طرح وہ جو گوشت کا لوتھڑا دل ہے اس کو بھی بلوانے کے لیے بھی ایک مخلوق ہے۔ عربی میں گوشت کے لوتھڑے دل کو فواد کہتے ہیں اور وہ جو مخلوق اس کو بلواتی ہے اس کو قلب کہتے ہیں۔فرق یہ ہے یہ جو مخلوق زبان کو بلوانے والی آزاد ہے اور وہ قلب ایک لاکھ اسی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی شخص اس کو بھی آزاد کرالے تو جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اسی طرح وہ گوشت کا لوتھڑا بھی اللہ اللہ کرے گا۔ لیکن وہ آزاد کیسے ہو؟ وہ تو ایک لاکھ اسی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی شخص انڈے کی خاصیت سے بے خبر ہو اسے کہا جائے یہ ہوا میں اُڑے گا،یہ چوں چوں کرے گا وہ کہے گا یہ غلط ہے نہ اس کی ٹانگیں ہیں نہ زبان ہے نہ پر ہیں روز توڑ کے دیکھتا ہوں اس میں کچھ بھی نہیں ہے تو کہتا ہے ہوا میں اُڑے گا۔ اس انڈے کا نام بیضہ ہے، تمہارے اندر بیضۂ ناسوتی ہے۔ وہ تمہاری نقل ہے۔ اس بیضہ کے اندر ایک مرغ بند ہے، اور اس بیضہ ناسوتی کے اندر ایک مرغ لا ہوتی بند ہے۔ وہ مرغ نکلے گا تو کہاں تک جائے گا؟ آسمانوں کی سیر کرے گا۔ جب یہ مرغ لاہوتی نکلا تو یہ اللہ کی ذات تک پہنچے گا۔ اس بیضہ کو مرغی کی ضرورت ہے ورنہ بیکار ہوجائے گا اور اس بیضہ ناسوتی کو مرشد کی ضرورت ہے۔ مرغی اس بیضہ کو اس کے حساب سے گرمی پہنچائے گی اور مرشد اس کے سینے کے حساب سے اس میں اللہ کا نور پہنچائے گا۔ جب بیضہ پھٹے گا چوزہ نکلے گا کوئی اس کو سکھائے گا نہیں وہ بغیر سیکھے سکھائے چوں چوں کرے گا۔کیوں؟ کیونکہ چوں چوں اس کی فطرت ہے اور جب یہ بیضہ ناسوتی پھٹے گا بغیر سیکھے سکھائے اللہ اللہ کرے گا۔ کیونکہ یہ اللہ اللہ اس کی فطرت ہے۔ اب تو نے دیکھا کہ میں تو اللہ اللہ نہیں کر رہا میرے اندر سے کوئی چیز بیدار ہو گئی۔
یہاں دو طرح کی تسبیح چلتی ہے۔ ایک زبان والوں کی تسبیح اور ایک دل والوں کی تسبیح۔ سنا ہو گا کہ دل کی بھی تسبیح ہوتی ہے۔ زبان کی تسبیح؟ زبان کرتی ہے اللہ، وہ کرتی ہے ٹک۔اب زبان بھی باہر، ٹک ٹک بھی باہر، تسبیح بھی باہر۔ وہ ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ کرتے ہیں۔ بغیر ٹک ٹک کے بھی اللہ اللہ ہو سکتی ہے ۔یہ بزرگوں نے کیوں بتایا؟ جسطرح بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو بجلی بنتی ہے۔ اسی طرح جب اللہ اللہ آپس میں ٹکراتا ہے تو نور بنتا ہے۔ ہم بھی باہر ہیں نور بھی باہر ہے اللہ اللہ بھی باہر ہے۔۔۔۔یہ عبادت ہے روحانیت نہیں ہے۔ نور ضرور ہے، لیکن یہ نور یہاں کام نہیں آئے گا، اگر کام آیا تو آگے کام آئے گا، یوم محشر میں کام آئے گا۔یہاں تو کام نہیں آئے گا۔ ایسے ہی لوگوں نے کہہ دیا کہ روحانیت ہوتی تو ہم میں ہوتی۔ یہاں بھی اتنی تسبیحاں ہو گئیں، نور بھی بنا ہم نے دیکھا بھی لیکن اگر روحانیت ہوتی تو ہم میں ہوتی۔ لیکن روحانیت کچھ اور ہے۔ انہی لوگوں نے کہا کہ اس سے آگے ہمیں کچھ نہیں ملا۔ بس طریقت بھی شریعت میں ہے حقیقت بھی شریعت میں ہے۔ معرفت بھی شریعت میں ہے دیدار بھی شریعت میں ہے۔ بھئی اگر دیدار شریعت میں ہے توتم کو کیوں نہیں ہوتا؟ وہ لوگ جو چیز اندر جاگ اُٹھی، یہ زبان اس کی تسبیح یہ پتھر والی تسبیح ہے وہ جو چیز جاگ اُٹھی اندر اس کی تسبیح اندر ہے۔یہ تسبیح ٹک ٹک کر رہی ہے تو تمہارے اندر بھی ٹک ٹک ہو رہی ہے۔ وہ جو اندر کی ٹک ٹک ہے وہ اس مخلوق کی تسبیح ہے۔ اب تم اس مخلوق کے استاد ہو گئے کہ تیری تسبیح یہ ہے۔ اب تم نے اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ملایا، کبھی ملا کبھی ہٹا ،کبھی ملا کبھی ہٹااور تین سال کے بعد اتنا پختہ ہو گیا کہ تم سوتے رہے اللہ اللہ ہوتی رہی۔
اس وقت سخی سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔

کوئی جاگدیاں سُتے ھُو
کوئی سُتیاں جاگدے ھُو

کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر عبادت کرتے ہیں ساری رات لیکن سوئے ہوؤں میں شامل اور کچھ لوگ بستر پر سو رہے ہیں اور ان کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں۔ حضور پاکﷺ فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہمارا دل نہیں سوتا۔ اب وہ ٹک ٹک ،ان کا کیا کام ہے؟ وہ خون کو آگے دھکیلتی ہیں، نس نس میں پہنچاتی ہیں پھر وہ خون دل میں آتا ہے۔ اب اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ مل گیا۔ اب وہ اللہ اللہ اس ٹک ٹک کے ذریعے نس نس میں چلا گیا۔ جب اللہ اللہ پورے خون میں چلا جاتا ہے۔ اس وقت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں تو ایک دفعہ اللہ کہے گا تجھے ساڑھے تین کروڑ اللہ اللہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ کیسے ملے گا؟ کہ تیرے اندر ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں۔دل نے ایک دفعہ اللہ کری ساڑھے تین کروڑ نسیں گونج اُٹھیں۔سخی سلطان باہو نے فرمایابہتر ہزار اور ثواب مل جائے گا۔ یہ جو مسام ہیں جن سے پسینہ آتا ہے یہ بہتر ہزار ہوتے ہیں۔ دل نے ایک دفعہ اللہ کری بہتر ہزار آوازیں یہاں مساموں سے گونجیں۔ پھر علامہ اقبال نے فرمایا کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔ فرمایا خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔۔اور خودی کا مطلب سمجھایا کہ خودی کاسرِنہاں لا الہ الا اللہ۔تو لا الہ الا اللہ کا اتنا ذکر کر کہ لوگ کہیں مجنوں ہیں منافق ہیں ریا کار ہیں۔ پھر ایک اور شاعر، وہ پکار اُٹھا
گناہ گار پہنچے درپاک پر
زاہد و پارسا دیکھتے رہ گئے
یہ زاہد وپارسا کیسے دیکھتے رہ گئے اور گناہگار کیسے پہنچ گئے؟ جب کوئی زاہد وپارسا نیکی کرتا ہے کراماً کاتبین اس کی فائل پہ لکھ لیتے ہیں۔ نماز پڑھی فوراً لکھ لی۔ نیکیاں لکھتے رہتے ہیں۔ نیکیاں فائل پہ لکھی جا رہی ہیں ادھر دل میں تکبر آجاتا ہے۔تکبر کو نکالنے کے لئے علم باطن ہے، علم طریقت ہے۔ اس نے علم طریقت نہیں سیکھی۔ اب کیا ہوا؟ اس کی فائل نیکیوں سے بھر گئی۔ ادھر اس کا دل تکبر سے سیاہ ہو گیا۔ جب تکبر سے دل سیاہ ہو گیا تو تکبر کے اور دوست بھی ہیں۔ جس طرح آپ اپنے دوستوں کو گھروں میں لے آتے ہو اسی طرح بخل ہے حسد ہے حرص ہے وہ بھی اسی میں جمع ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنی مخلوق کو دیکھتا ہے وہ داڑھیوں کو نہیں دیکھتا وہ فائلوں کو نہیں دیکھتا وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ جب زاہد کا دل دیکھا تو تکبر سے بھرا پایا۔ اللہ تعالیٰ اس سے بیزار ہو گیا۔ اُدھر ایک شخص گناہ گار تھا۔ اس نے گناہ کیا۔ اس کی بھی فائل لکھی گئی۔ جب فائل پہ لکھا گیا تو پھر دل پہ کیوں دھبہ لگایا گیا؟ دل پہ تب دھبہ لگاتے ہیں اگر نبی ولی کو ضرورت پڑی تو فائل دیکھیں گے اگر اللہ کو ضرورت پڑی تو دل دیکھے گا کہ کتنا گناہ گار ہے۔ اس گناہ گار نے کیا کیا، فائل گناہوں سے بھر گئی دل بھی گناہوں سے کالا ہو گیا۔ جب دل گناہوں سے کالا ہو گیا تو وہ کسی ولی کی چوکھٹ پہ جا پہنچا۔عابد زاہد تو خود ہی ولی بن جاتے ہیں ۔ تکبر ان کو خود ہی ولی بنا دیتا ہے۔ اگر چلے بھی گئے تو جھکیں گے تو نہیں نا؟ مسئلے مسائل میں ولیوں کو الجھائیں گے نا بیٹھ کے۔ وہ گناہ گار عاجز تھا، وہ ناکارہ تھا وہ جا کے جھکا۔ اب درباروں پہ جا کے دیکھو وہی سب زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ جھکا تو ولی نے اس کو سب سکھا دیا جس سے دل صاف ہوتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے
کہ ہر چیز کو صاف کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے دل کو صاف کرنے کیلیے ذکر اللہ ہے۔
اس ولی نے اسے (گناہ گار کو) قلبی ذکر سکھا دیا۔ اب اللہ اللہ وہ کرتا رہا۔ اللہ اللہ کرنے سے اس فائل کو نہیں مٹا سکا لیکن اللہ اللہ کرنے سے اس نے اپنے دل کو چمکا لیا۔ جب اس کا دل چمک اُٹھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نہیں دیکھا ،فائل کو نہیں دیکھا چمکتا ہوا دل دیکھا۔ جب دل دیکھا تو اس کے اوپر مہربان ہو گیا۔جب اس پہ مہربان ہو گیا تو ہو فائل لکھی کی لکھی رہ گئی۔
اللہ اللہ کرنے والوں میں ایک اور خاصیت پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑا سخی ہے اور جو شخص اللہ اللہ کرتا ہے وہ بھی سخی ہو جاتا ہے۔ ایک دن عیسیٰ علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ بتا تیرا بہترین دوست کون ہے۔ اس نے کہا کنجوس عابدکہ وہ کیسے؟ کہا کہ اس کی عبادت کو اس کی کنجوسی رائیگاں کر دیتی ہے۔ کہا تیرا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ شیطان نے کہا کہ گناہ گار سخی۔وہ کیسے؟ کہ اس کی سخاوت اس کے گناہوں کو جلا دیتی ہے۔
اب جب کسی کی نس نس میں نور چلا جاتا ہے تو وہ نور بن جاتا ہے۔ بہت سے لوگ حضور پاکﷺ کو بھی نور ماننے سے قاصر ہیں۔ لیکن جس کے نس نس میں نور چلا گیا وہ بھی نور ہو گیا۔ اگر وہ عالم ہے تو پھر وہ نور علیٰ نور ہو گیا۔ یہ حدیث ہے کہ میری امت کے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہونگے۔ پھر کافروں کو مسلمان بنایا وہ بھی عالموں نے بنایا نا۔ انہی کو عالم ربانی کہتے ہیں۔ اور جو عالم اس علم طریقت کے بغیر ہیں انہی کو عالم سوء کہتے ہیں۔ وہ عالم کہتے ہیں کہ ہم بھی نمازیں پڑھتے ہیں ہم کو بے عمل کیوں کہتے ہو؟ حضور پاکﷺ نے فرمایا جاہل عالم سے ڈرنا اور بچنا۔ صحابہ کرام نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی؟ فرمایا جس کی زبان عالم اور دل سیاہ یعنی جاہل ہو۔ وہ عالم ربانی کافروں کو مسلمان بناتے تھے یہ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔بہتر ۷۲ فرقے بنا دیے نا۔ وہ جو پہلا فرقہ تھا تسبیح والا وہ مسلمانوں کا ہے۔ ایک دوسرے کو کافر منافق کہتے ہیں۔ لیکن آپ دن رات تسبیح پڑھتے رہیں آپ مسلمان ہیں آپ مومن نہیں ہو سکتے۔ مومن کی تشریح سورۃ الحجرات میں ہے کہ

اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے کہا نہیں ان سے کہو صرف اسلام لے آئے ہو مومن تب بنو گے جب نور تمہارے دل میں آئے گا۔
جب دل میں نور اُترتا ہے پھر وہ نہیں کہتا میں سنی ہوں میں شیعہ ہوں میں وہابی ہوں۔ پھر کہتا ہے بس امتی ہوں تمہارا یا رسول اللہﷺ۔فرقہ ورایت ختم ہو گئی نا۔
مسلمان کی نماز اور ہے مومن کی نماز اور ہے۔ اور ولی کی نماز اور ہے۔ یہ سب کچھ تمہارے اندر ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ولی پتہ نہیں کہاں سے آجاتے ہیں۔ ولائت تو تمہارے اندر ہے۔ جو بھی بچہ اس دنیا میں آیا ولائت کا راز لے کر آیا، خواہ کافر کا ہوا، ہندو کا ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کافر کے بچے مسلمان ہوئے ولائت کا راز سیکھا اور بڑے بڑے ولی بنے۔ جب کافر کے بچے وہ راز لے کے آئے تو مسلمان کے بچے میں وہ راز نہیں ہوگا؟
ولائت کا راز کیا ہے۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ رات کویہاں سوتے ہو اور دوسرے شہروں میں گھومتے ہو تم تو نہیں ہوتے لیکن وہ تمہارے اندر کی وہ مخلوق ہوتی ہے نا۔ تمہاری ہی چیز ہوتی ہے نا۔ وہ تمہارا نفس ہے وہ شیطانی چیز ہے۔ وہ آزاد ہے۔ اس کو نفسانی غذا ملتی ہے۔ اسی طرح کی وہ تمہارے اندر اور روحیں ہیں۔ وہ نسوں میں پیوست ہیں۔ کوئی کس نس میں کوئی کس نس میں ،کوئی اِدھر کوئی اُدھر۔اُن کو گوشت روٹی نہیں چاہیے اُن کو اللہ کا نور چاہیے۔ وہ نور روحوں تک پہنچے۔جب تمہاری نس نس میں اللہ اللہ گیا، وہ اللہ اللہ ان تک پہنچا۔ جب ان تک اللہ کا نور پہنچا تو بیدار ہو گئیں۔ جب بیدار ہوگئیں تو انہوں نے اندر اللہ اللہ کرنا شروع کر دیا۔ تین سال تک باشعور ہو گئیں۔ اب تم نے خواب میں دیکھا کہ حضور پاکﷺ کے روضے میں ہوںِ ، خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں۔ بارہ سال لگتے ہیں اللہ کے نور کی غذا سے یہ بالکل بالغ ہو جاتی ہیں۔ جب بالغ ہو جاتی ہیں تو اب سونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تم نے سوچا دیکھیں حضور پاکﷺ کیا کر رہے ہیں۔ تم نے سوچا اور کوئی چیز ادھر سینے سے نکلی اور حضور پاک کے قدموں میں۔ اس وقت بلھے شاہؒ نے فرمایا۔

لوکی پنج ویلے عاشق ہر ویلے
لوکی مسیتی عاشق قدماں

جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں انکی انتہا مسجد ہے۔ باجماعت ہو جائیں گے۔ لیکن جو لوگ اس کے ساتھ ساتھ اللہ اللہ بھی کرتے ہیں وہ تو حضور پاکﷺ کے قدموں میں ہونگے۔ قدموں میں پہنچ کے نوازے تو گئے نا۔اب تم نے سوچا دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے۔ تم نے سوچا وہ سینے سے نکلیں اوپر پرواز کر گئیں۔ فرشتوں نے روکا، نہیں رکیں۔ کہنے لگے جو کچھ بھی ہے بیت المعمور سے آگے جل جائے گی۔ یہ بیت المعمور سے بھی آگے چلی گئیں، وہاں پہنچ گئیں جہاں رب کی ذات ہے۔ ظاہری جسم سے حضور پاکﷺ وہاں پہنچے اور ان مخلوقوں سے ولی وہاں پہنچتے ہیں۔ جب کوئی وہاں پہنچ جاتا ہے تو اس وقت اس کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے۔ ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں۔ دوستی اس وقت ہو گی جب پاس پہنچ گیا۔ یہاں کہتے ہیں ولی اللہ۔ ولی اللہ، اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ دوست اس کو کہتے ہیں جو دوست سے ملاقات کرے بات چیت کرے، دیکھے۔وہ ولی اللہ ہوتا ہے نا۔ ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب نیچے چلا جا۔اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے۔ اب فرشتوں کو یہ بات پتہ چلتی ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بڑے مشتاق ہیں۔ وہ ولی جب اللہ کو دیکھتا ہے تو اللہ کا نقشہ اس کی آنکھوں میں آتا ہے اور پھر آنکھوں سے دل میں آتا ہے۔ پھر وہ فرشتے اس کو دیکھنے اس کے پاس آتے ہیں۔ پھر کیا ہوتا ہے کہ وہاں وہ سو رہا ہے اور فرشتوں کی قطار در قطار آسمان تک لگی ہوئی ہے۔ اس نقشے کو دیکھنے کیلئے جو اس کے اندر اللہ کا نقشہ ہے۔ یہ جو انالحق کے نعرے لوگوں نے لگائے وہ اسی سٹیج پر لگائے۔اس کو فنا فی اللہ کہتے ہیں۔ اسی کے لئے اگر ایسا مرشد کسی کو مل جائے جو سلطان صاحبؒ نے فرمایا۔

اساں مرشد پھڑیا آپے لاسی سارا ہو
اور اس کے لئے فرمایا ہے۔
مرشد دا دیدار ہے باہو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ہو

وہاں کعبے پر وہ نقشہ نہیں ہے۔ اللہ کا نقشہ کعبے میں تو نہیں ہے نا۔ اللہ کا نقشہ دل میں ہے۔ جب رابعہ بصری کے دل پہ وہ نقش آیا تو کعبے کو حکم ہوا کہ جا اس کا طواف کر۔ یہاں تک انسان پہنچ سکتا ہے۔ اب یہ جو چیزیں ملنی تھیں کہاں سے ملیں؟ ہم تو ساری عمر نمازیں پڑھتے رہے ہیں۔ نماز اس طرح ہے جس طرح فوجی پہ پریڈ لازم ہو گئی۔ جب سپاہی بھرتی ہو جائے پریڈ تو کرتا ہے۔ جب تک توکورس نہیں کرے گا سپاہی ہی رہے گاساری عمر۔ اسی طرح مسلمان ہو گئے تو نماز فرض ہے۔ جب تک تو دوسرے سبق نہیں سیکھے گا تو نمازی ہے نا اور تو کچھ نہیں بنا۔ دوسرے سبق ہیں، قلب کا ، روح کا، سری کا، خفی کا، نفس ، انا وہ سب عبادتیں کرتی ہیں۔ جتنی مخلوقیں ہیں ان کو اندر سے نکال کر عبادتیں سکھانی ہیں۔ وہ طریقت ہے۔ غوث پاکؓ نے ایک وقت میں نو آدمیوں کی دعوت کھائی۔ نو آدمیوں کے گھر جا کے کھانا کھایا۔ آپؓ کا جسم مبارک مسجد میں مؤذن کے پاس، اور وہ جسم کے اندر کی مخلوقیں وہ جا کے کھانا کھا رہی ہیں۔ اگر کھانا کھایا ہو گا تو باتیں بھی کری ہوں گی۔ بیٹھی بھی ہونگی اُٹھی بھی ہونگی اور جن میں اُٹھنے بیٹھنے اور باتوں کی طاقت ہے نماز بھی پڑھیں گی اور ہو سکتا ہے ان کی نماز خانہ کعبہ میں ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز عرش معلیٰ پر ہوتی ہے لوگ کہتے ہیں کیسے ہوتی ہے۔یہ جسم عرش معلیٰ پر نہیں جاتا ہے۔ وہ جو جسم کے اندر کی چیزیں ہیں وہ عرش معلیٰ پر جاتی ہیں اور ثواب کس کو ملتا ہے؟ جسکی ہیں ۔ہمارے بہت سے لوگ ان چیزوں کو نہیں مانتے ہیں لیکن یقین کریں کہ1965ء کی جنگ میں سکھ پائلٹوں نے اس کی تصدیق کری ہے۔وہ کہتے ہیں ہم اوپر سے بم پھینکتے تھے لیکن وہ نیچے سفید جامے والے اس کو پکڑ لیتے تھے پتہ نہیں کیا چیزیں تھیں۔ مجدد الف ثانی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ میں نے آپ کو فلاں دن خانہ کعبہ میں دیکھا۔ فرمانے لگے میں تو نہیں گیا۔ دوسرے نے کہا میں نے آپ کو اسی دن حضور پاکﷺ کے روضے پر دیکھا۔ کہا میں نہیں گیا۔ تیسرے نے کہا اسی دن غوث پاکؓ کے روضے پر دیکھا کہا میں نہیں گیا۔ لوگوں نے کہا پھر کیا تھا؟ فرمانے لگے میرا اندر تھا۔ یہ جتنے یہاں بیٹھے ہیں ان کے اندر وہ مخلوقیں موجود ہیں۔ اگر تم ان میں سے کوئی ایک کو بھی جگا لو تو تم مر کے بھی زندہ ہو۔ وہ مر بھی گئے زندہ بھی ہیں۔ اگر تم نے ان کو نہیں چھیڑا تو پھر چالیس سال بعد یہ ختم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ آہستہ آہستہ ساٹھ سال تک ہو سکتا ہے بالکل ہی ختم ہو جائیں۔ پھر تم زندہ ہی مردہ ہو۔ پھر اُدھر نفس کس طرح دھوکہ دیتا ہے، وہ اسکا اندر ختم ہو گیا ہے، داڑھی بالکل سفید ہو گئی ہے۔ اب کچھ کر تو سکتا نہیں سفید کپڑے پہن لئے، سفید داڑھی ہو گئی، تسبیح لے لی بیٹھ گئے۔ لوگوں کی نظر میں بزرگ بن گیا لیکن اللہ تعالیٰ کی نظروں میں وہ ناکارہ ہے
(جاری ہے۔)

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان