الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ
Subscribe: PostsComments

خصوصی محافل بسلسلہ ذکر ِ امام حسین

October 6, 2017
خصوصی محافل بسلسلہ ذکر ِ امام حسین

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِ اسلام فیصل آباد کے زیر اہتمام محرم الحرام میں امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ اور شہدائے کربلا کی بارگاہ میں خراج ِ عقید ت پیش کرنے کے لیے شہر بھرمیں محافل کا انعقاد کیا گیا ۔ یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوئم حضرت عمر ؓ کے یوم شہاد ت کے سلسلہ میںآستانہ فیصل آباد پر محفل ِپاک منعقد کی گئی ۔
2محرم الحرام کو وحید انور قادری صاحب کے (مرکز ِ ذکر) میں محفل ِ نعت و ذکر اللہ کا اہتمام کیا گیاجس میں صاحبزادہ حماد ریاض گوھر شاھی صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی ۔ اس محفل پاک کا باقاعدہ آغاز تلاوت ِ کلام ِپاک سے کیا گیاجس کی سعادت حافظ محمد بلال نے حاصل کی اس کے بعد بارگاہ ِ رسالت مآب ﷺ میں ہدیہ نعت کا سلسلہ شروع ہو ا اور بالترتیب محمد عدیل قادری ، عثمان سعید ، طلحہ سعید ، احتشام گوھر ، عبدالمنا ن قادری ، شفیع اللہ خاں آف (گکھڑ سٹی) نے اپنے مخصوص انداز میں سرکار ِ دو عالم ﷺ کے حضور نعت کا نذرانہ پیش کیا ۔بارگاہ ِ امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ میں قصیدہ کی سعاد ت عبدالعزیز قادری نے حاصل کی ۔
صاحبزادہ مرشد کریم حماد ریاض گوھر شاھی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ضرور ت اس امر کی ہے ہم اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی پاک کریں کیونکہ جب تک اندر پاک نہیں ہوتا ظاہرکا صاف ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دل کو غلاظتوں ، حسد ،تکبر اورکینہ سے پاک کریں ۔ اس کے بعد صاحبزاد صاحب نے حلقہ ذکر ترتیب دیا اور درود و سلام کے بعد دعا کی اور لنگر تقسیم کیا گیا۔
3محرم الحرام محمد اشر ف صاحب کے گھر ، 4محرم الحرام شیخ نوید قادری صاحب کے گھر ، 5محرم الحرام قاری سعید احمد قادری صاحب کے گھر ، 6محرم الحرام محمد شہباز لودھی صاحب کے گھر، 7محرم الحرام شکیل الرحمن قادری کے گھر، 8محرم الحرام محمد ساجد قادری کے گھر، 9محرم الحرام (مرکزی محفل ) آستانہ فیصل آباد، اور حاجی محمد تاج انور قادری صاحب کے گھر، 11محرم الحرام صفدر علی قادری صاحب کے گھر، 12محرم الحرام محمد صابرقادری صاحب کے گھر، 13محرم الحرام محمد صدیق ڈان صاحب کے گھر، 14محرم الحرام اطہر حسین بخاری صاحب کے گھرپر محافل کا انعقاد کیا گیا۔
ان مقدس محافل میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری ،اطہر حسین بخاری و دیگر نے سرانجام دئیے۔تلاوت ِکلام ِمجید سے محافل کا آغاز کیا گیا۔حمد ِباری تعالیٰ ،نعت ِرسولِ مقبول ﷺ،منقبت امام ِعالی مقام ،منقبت ِغوث الوراء ؓاور آخر پر پیرومرشد حضرت سیّدناریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی کے حضور ہدیہ ٔقصیدہ پیش کیاگیاجس کی سعادت قاری طارق محمود قادری ،قاری غلام مجتبیٰ ،علامہ حسن رزاق ،محمد رفیق قادری ،محمد صابر قادری ،محمد جمیل قادری ،منصب علی قادری ،ڈاکٹر محمد ناصر،قاری محمد عدیل ،محمد فیصل شوکت ،محمد فیصل سلطانی ،افسر علی رضوی،میاں عبدالمنان قادری اور عبدالعزیزقادری ودیگر نے حاصل کی ۔حلقہ ٔذکر ِالٰہی اور دعا حاجی محمد سلیم قادری ،حاجی محمد اصغر قادری اور حاجی محمد اویس قادری نے کروائی ۔درودوسلام کے نذرانے بھی پیش کئے ۔اختتام ِمحافل پر لنگر کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ان پاک محافل میں اہل ِمحبت نے بھرپور شرکت فرمائی اور انجمن سرفروشان ِاسلام کی اس روایت کو بے حد سراہا اور مرشد پاک کی تعلیمات کو بھی بے حد پسند فرمایا کہ اُن کی بدولت یہ سرفروش اہل ِمحبت کے یہاں اہل ِبیت کے حضور نذرانہ ٔعقیدت و محبت پیش کرتے ہیں ہیں اور پیغام ِحسینی اور پیغام کربلا کو پوری شدومد کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ اگر کبھی اسلام کی خاطراپنی اور اپنے خاندان کی جانی قربانی بھی پیش کرنی پڑے تو کبھی اس سے دریغ نہ کرنااور ہر باطل قوت سے ٹکرا جانا اور اسلام کے پرچم کو کبھی سرنگوں نہ ہونے دینا۔یہی کل ایمان ہے اور یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے ۔اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین۔
اس موقع پر جناب مفتی سعید صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا سورۃ آل ِعمران میں اللہ تعالیٰ نے حضور ِپاک ﷺکی اہل ِبیت کی شان کو بیان فرمایا ہے ۔اور حضور پاک ﷺنے ارشاد فرمایا تھا کہ تم 72فرقوں میں تقسیم ہو جائوگے اور اُن میں سے ایک صحیح ہو گااور وہ کون سا ہوگا؟وہ گروہ جو فلاح پانے والا ہے اس کے دووصف بیان فرمائے میرے آقاﷺنے کہ
{” وہ میری سنت پر عمل پیرا ہو گااور دوسرایہ کہ وہ بڑا گروہ ہوگا۔فھوااہل السنت والجماعۃ(وہ اہل ِسنت ہوگا اور جماعت یعنی گروہ پر مشتمل ہوگا)}
شیخ سعدی! ؒبارگاہ ِرب العزت میں دعا کرتے ہیں کہ مولا !”اگر تو نے میر ی دعا قبول نہ کی( میں تجھے اس دعا میں آل ِرسول کا واسطہ دے رہاہوں) تو قیامت کے دن اہل ِبیت کا دامن پکڑ کرشکایت کروں گا”۔ایمان کی تکمیل کے لئے اہل ِبیت کی محبت لازم و ملزوم ہے ۔ایمان پہ مرنے کیلئے اہل ِبیت کی محبت ضروری ہے ۔اگر کوئی چاہے کہ مجھے ایمان پہ موت آئے پارہ نمبر 4رکوع نمبر 2آیت نمبر 1کے آخری جملے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ” اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈروجس طرح ڈرنے کاحق ہے “کردار اور گفتار کو سنوارو۔اس میں بہت فرق ہے ۔گفتار کا غازی بنناکوئی کمال نہیں ،کردار کا غازی بننا بہت کمال کی بات ہے ۔پورااسلام کردار کانام ہے ،صرف گفتار کا نہیں۔آقاﷺکی اپنی ظاہری سیرت مبارکہ دیکھیں 63سالہ زندگی میں 40سالہ دور صرف کردار ہی کردار ہے اور 23سالہ دور حضور ﷺکی پوری تھیوری اور پریکٹیکل کے مجموعے کانام اسلام ہے اور حضورْﷺنے اپنے نبی ہونے کی جو دلیل پیش کی کہ میں نبی ہوں ۔میرے نبی ہونے کی دلیل کیا ہے وہ 11ویں پارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی پیش کی ۔جب حضور ﷺنے مکہ میں اعلان ِنبوت کیاتو مکہ والے سب مل کے آگئے کہ آپ بتائیں آپ جو کہہ رہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں تو آپ ﷺکے پاس کوئی دلیل بھی ہے کہ آپ ﷺاللہ کے نبی ہیں ؟تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے محبوب !ان کو فرمادیں “اے مکہ والو!تمہارے پاس میرے نبی ہونے کی دلیل موجود ہے ۔40سالہ زندگی تمہارے اندر گزار چکا ہوں ۔اب اس 40سالہ دور میں اگر ایک بھی بے وفائی تمہیں نظر آتی ہے۔محمد!سامنے کھڑا ہے انگلی اُٹھائو۔جب تمہیں نظر نہیں آسکتی تو پھر کچھ تو سوچو۔یہی تو دلیل ہے میرے نبی ہونے کی۔تو نبوت کی دلیل کردار تھانہ کہ گفتار۔نبوت کی دلیل کردار بنا ناکہ گفتار بنی۔

مفتی سعید صاحب نے مزید کہا کہ ہم آقاﷺکے غلام ہیں ۔ہم مومن و ایمان والے ہیں۔تو ہمارے ایمان کی دلیل بھی کردار ہی بنے گاتومومن بنیں گے نہ کہ گفتار۔گفتار نہیں بن سکتی ۔اس لئے جب ہم خانوادہ ٔ رسول ﷺکا کردار اپنائیں گے توہم حسینی ہوں گے ۔صرف گفتار سے ،صرف سبیلوں سے ثواب ملتا ہے ۔سب کچھ درست ہے لیکن حسینی بننے کے لئے کردار کی ضرورت ہے جس جس ایمان والے میں یہ کردار ِحسینؑ پیدا ہواوہی رسول ﷺکا غلام بنا۔اس لئے کردار کو اپنی زندگی کا لازمہ بنانے کی کوشش کیجئے ۔آج کے دور میں ہمارا اور مسلمانوں کا بڑا دشمن امریکہ ہے ۔یہاں یہ بات کرنا ضروری ہے کہ اُسے ہمارے ایٹم بم سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔اُس کے پاس ہم سے زیادہ ہیںمگر ایک سچے اور صاحب ِکردار مسلمان سے ۔وہ ہمارے کردار پر حملہ کر رہاہے ۔کچھ سوچو۔ ہم کسی نبی کے غلام ہیں ؟کس نبی کی آل کے غلام ہیں ؟جنہوں نے کردار پیش کیا تھا۔اس لئے کردار اپنانے کی کوشش کریں گے تو پھر اللہ کی بارگاہ میں معززو محترم ہوں گے ۔ پارہ نمبر 4رکوع نمبر 2آیت نمبر 1میں رب العزت نے ارشاد فرمایاکہ” اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈروجس طرح ڈرنے کاحق ہے “رسماّ نہیں کردار کے اعتبار سے ڈرواور دوسرا کام یہ کرنا کہ بس نا مرنا ،نامرنا،نامرنامگر ایمان کے بغیر۔یہ کس طرح کا خوبصورت جملہ ہے کہ پہلے نفی فرمائی پھر استثناء کیا۔نفی بھی کوئی عام نہیں ۔اس میں تین دفعہ تاکید لگائی ۔عربی کا اصول ہے کہ جس لفظ کے آخر میں ن، شدوالی آجائے تو اس میں تین دفعہ تاکید کا معنی ہو تا ہے ۔ضرور ،ضرور ،ضرور۔اللہ زور کیساتھ تاکید لگا کر وہ بات بیان کرنا چاہ رہاہوتاہے ۔تو جہاں مرنے کی بات کی تو فرمایا میرے بندو! ہرگز نا مرنا،نا مرنا،نامرنا مگر ایمان پہ مرنایعنی اگر تمہیں موت آئے تو بس ایمان ہی پہ آئے کیونکہ باقی ایمان سے ہٹ کراگر کسی کو موت آئی اُس سے نامرنا اچھا ہے کیونکہ اُس کی حالت ہی ایسی ہونی ہے کہ اُس کی حالت کو کوئی دیکھنے والا نہیں ہوگا۔مومن کیلئے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اُس کا سانس ایمان پہ نکلے ۔اگر کوئی شخص چاہے کہ مجھے ایمان پہ موت آئے تو اُس کے لئے” محبت اہل ِبیت” ضروری ہے ۔جس کے دامن میں محبت اہل ِبیت ہو گی تو یقینا وہ ایمان پہ مرے گااور جس کے پاس محبت ِاہل ِبیت ہو گی اُس کا ایمان بھی مکمل ہو گا۔ہمیں اپنے بڑوں سے ،آئماء اکرام سے دین کوسیکھنے کی جستجو کرنی چاہیے۔

ایمان کی تکمیل کے لئے محبت اہل ِبیت ضروری ہے اور ایمان پہ مرنے کیلئے بھی یہی نعمت و دولت ضروری ہے ۔حضور پاک ﷺنے اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع پر تمام لوگوں کو تاکیداً ارشاد فرمایاکہ غور کرو اب میں تمہیں بہت ضروری بات کہنے جارہاہوں کہ “میں تم میں دو چیزیں چھوڑکرجارہاہوں ۔اگر ان دونوں سے چمٹے رہو گے ،ان دونوں سے وابسطہ رہوگے،زندگی بھر گمراہ نہیں ہوسکتے ۔سیدھے رہو گے ،بھٹکو گے نہیں ۔بے راہ رو نہیں ہو گے ۔گمراہی کی دلدل میں نہیں پڑو گے ۔ایک اللہ کی کتاب (قرآن )جو مکمل ہو گیا ۔تمہیں وہ دے کے جارہاہوں اور ایک میری اہل ِبیت ہے وہ تمہارے اندر چھوڑ کے جارہاہوں ۔اگر ان دونوں کے ساتھ وابسطہ رہو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ،ہدایت پہ ہی رہوگے تو جس کے پاس یہ دوونوں نعمتیں ہو ں گی ،ایمان بھی مکمل اور زندگی کا اختتام بھی مکمل ۔اگر آپ زندگی میں سب کچھ حاصل کرلولیکن ایمان نصیب نہ ہواور زندگی کااختتام ہوگیاتوسب کچھ رائیگاں گیالیکن اگر دنیاوی طور پر کچھ بھی حاصل نہ کر سکا مگر دولت ِایمان نصیب ہو گئی تو مومن کے لئے اس سے بڑھ کو کوئی نعمت نہیں یعنی اُس کا خاتمہ ایمان پہ ہوگیا۔خانوادہ ٔاہل ِبیت کی محبت زندگی کا لازمہ بنا لو۔جب بھی حضور ﷺکے خانوادے کا نام آئے سر جھکا کے سلام پیش کیا کرو۔اللہ اپنے اور اپنے پیارے محبوب ﷺکی غلامی عطاء فرمائے ۔اپنے پیارے محبوب کے خانوادہ کے ساتھ ہم سب کو دل سے پیار کرنے کی ،محبت کرنے کی ،آپ کے کرداروتعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
حضور داتاصاحبؒ کی لکھی ہوئی کشف المحجوب تصوف کے لئے اثاثی اور بنیادی کتاب ہے ۔عرفاء کے لئے بہت بڑی میراث ہے ۔اس بلند پایا تصنیف میں داتا صاحب ؒ نے اہل ِبیت کے متعلق پورا باب لکھا ہے جہاں حضرت امام ِحسین ؑکابھی بہت تذکرہ کیا ہے وہاں چونکہ امام حسن ؑبڑے ہیں اس لئے اُن کی بابت صرف ایک بات عرض کروں گاجو انہوں نے اس کتاب میں تحریر فرمائی ۔اور فی زمانہ اُس کی بہت اشد ضرورت ہے ۔جب امام حسن ؑکے مصاحب ،متعلقین اور متوسلین آپ ؑکے پاس بیٹھتے تو آپ کیا پیغام دیتے تھے ؟آپ عربی میں ایک جملہ ارشاد فرماتے تو لوگ سہم جاتے ۔آپ ؑارشادفرماتے تھے کہ لوگو!اپنے دل کی خبر لو۔اللہ کا تعلق دلوں سے ہوتا ہے ۔یہ بہت بڑی بات ہے ۔ہمیں اپنے جسموں کی تو خبر ہے لیکن اپنے دلوں کی نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ آپ انجمن سرفروشان ِاسلام کے مرکز پہ جائیں تو اللہ کا نام ایک خاص انداز میں لکھا ہو تا ہے وہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔وہاں آپ کو اللہ اللہ کرنا اور دلوںکیساتھ کرنا دکھاتے ہیں ،سمجھاتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔اس لئے کہ اللہ کے نام جیسا کوئی نا م نہیں۔سورۃ مریم کی ایک آیت میں ارشاد ِباری تعالیٰ ہے ۔جبرائیل ِامین ؑ نے کہا ۔پیارے محبوب !اللہ جیسا کوئی نام تو پوری دنیا میں کسی اور کا ہے ہی نہیں ۔اللہ نام واقعی کسی کانہیں ہے ۔تفسیرمیںمفتی احمد یار خان نعیمی سمیت تمام افراد لکھتے ہیں۔کہ بتوں کوپوجنے والے دنیا میں کتنے بڑے بڑے مشرک آئے ۔اب بھی اس وقت دنیا میں بہت سارے غیر مسلم ہیںاور معبودان ِباطلہ کوپوجنے والے بھی ہیں لیکن اُن بتوں کا نام اللہ کسی نے نہیں رکھا۔حبل ،منات وغیرہ سارے نام رکھے لیکن اللہ نہیں رکھا۔کیا انہیں کوئی روک سکتا تھا نہیں بلکہ اللہ نے رکھنے ہی نہیں دیا(سبحان اللہ )اور کوئی جسارت کر بھی نہیں سکتا۔علماء نے لفظ اللہ پر پوری کتاب لکھی ہے کہ لفظ ِاللہ ہے کیا؟لفظ اللہ کے چارحروف ہیںاور پوری کتاب ہے کہ لفظ اللہ کی اصل کیا ہے ؟تو اصل اور آخری بات جو نہایت قابل ِغوروفکر ہے کہ “اگر اللہ نام جیسا کوئی اور نہیں ہے تو اُس کی “ذات”جیسا کوئی کیسے ہو سکتا ہے ؟نام جیسا رب نے اپنے کوئی بننے نہیں دیاتو اللہ کی ذات جیسا کوئی نہیں بن سکتا۔اس لئے اللہ اللہ ہے ۔اسلئے امام حسن ؑنے فرمایا “لوگو!اپنے دلوں کی خبر لو۔اللہ کا تعلق دلوں سے ہوتا ہے “۔اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے ۔خاندانِ اہل ِبیت کے پیغامات کو سمجھنے کی توفیق دے ۔اُن کی محبت میں مرنا جینا نصیب فرمائے ۔آمین۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather

ماہانہ روح پرورمحفل ِگیارھویں شریف ستمبر 2017

September 8, 2017
ماہانہ روح پرورمحفل ِگیارھویں شریف ستمبر 2017

ؑٓعالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام(رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیر ِاہتمام امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری کی زیر ِصدارت ہر ماہ کی طرح آستانہ پر حضور غوث ِپاک ؓ کی ذات ِبابرکات سے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لئے اور اُن کی روحانی تعلیمات کو عوام الناس تک احسن طریقے سے پہنچانے کے لئے ماہانہ محفل ِگیارھویں شریف کا انعقاد کیا گیاجس میں نقابت کے فرائض غلام رسول قادری،اطہر حسین شاہ بخاری اورنسیم احمد آرائیںنے سرانجام دئیے۔یہ محفل ِپاک انچارج شعبہ پروگرام کمیٹی محمدافضال قادری کی زیر نگرانی منعقد کی گئی۔محفل ِپاک کاآغازنماز ِمغرب کی باجماعت ادائیگی کے بعد مناجات غوث الورائؓسے حاجی محمد اصغر قادری نے کیا۔اس کے بعد خصوصی دعامحمد اشرف قادری نے کرائی۔
اس روح پرور محفل ِپاک میں قاری طارق محمود قادری نے تلاوت ِکلام ِمجید پیش کی ۔اسکے بعد محمد بشیر قادری نے بارگاہ ِربوبیت میں حمد ِباری تعالیٰ کا نذرانہ پیش کیا۔نعت ِرسول ِمقبول بحضور سرورِکون و مکاں ﷺمحمد ذیشان قادری، ضیاء المجتبیٰ ،محمدعبید اشرف اورعبدالعزیز قادری نے پیش کی ۔منقبت ِغو ث ِپاک ؓمحمداعجازنے پیش کی ۔میاں عبدالمنان قادری نے خصوصی کلام اور قصائد ِمرشدی پیش کرکے حاضرین سے خوب دادوصول کی ۔حلقہ ٔذکرِالٰہی امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے ترتیب دیا۔درودوسلام کے بعدتمام دنیا کے مظلوم مسلمانوں خصوصاًبرما(روہنگیا)کے مسلمانوں کے لئے خصوصی دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اُن پر اپنا فضل و کرم فرمائے اور اُن کی مشکلات کو دور فرمائے ۔اُن کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا فرمائے اور ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچائے ۔آمین۔بعد از محفل ِپاک لنگر کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔
اس موقع پر جہاں پوری دنیامیں مسلمانوں کا کوئی پرسان ِحال نہیں ہے اور ہر جگہ جہاں غیر مسلم کا بَس چلتا ہے وہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ ان نازک حالات میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر خون ِمسلم ہی کیوں اتناارزاں ہو گیا ہے اور ہرجگہ پر اُن کے ساتھ انتہائی غیر مناسب رویہ رکھا جارہاہے اور مسلمانوں کو گاجر ،مولی کی طرح کاٹا جارہاہے ۔اس پر اظہار ِخیال کرتے ہوئے سید اطہر حسین شاہ بخار ی نے سرکارقبلہ مرشد ِگرامی حضرت سیّدنا ریاض احمد گوہرشاہی مدظلہ العالی کی سرفروش ذاکرین کے ساتھ ایک نشست کااحوال بیان کیا کہ اُس وقت چیچنیامیں مسلمانوں کا بہت زیادہ قتل ِعام ہوا۔اُس وقت سوسو دودوسو(100)کی تعدادمیں مسلمان مردو خواتین کو لائین میں کھڑا کر کے گولیاں ماردی جاتی تھیں۔ذاکرین نے سرکار سے سوال کیاکہ حضور !یہ مسلمانو ں کا اتنا قتل ِعام ہو رہا ہے ۔اُس علاقے کے جو اولیاء اکرام ہیں وہ اتنا قتل ِعام کیوں ہو نے دے رہے ہیں ۔وہ اس کو روکتے کیوں نہیں ہیں؟ اس کی وجہ کیا ہے ؟مرشد ِپاک نے دریافت فرمایا کہ مسلمان ہیں کون؟آج اگر ایک لائن میں ہندو کو کھڑا کر دیا جائے ،اُس کے ساتھ سکھ کو کھڑا کر دیا جائے ،انگریزکو ،عیسائی کو ،غیر مسلم کو کھڑاکردیاجائے اور آخرمیںمسلمان کو کھڑا کردیا جائے ۔کسی صاحب ِنظر کو کہا جائے کہ ان میں سے مسلمان کو تلاش کرو تو وہ اُن کے سینے دیکھے گااور سب کو کافر قرار دے گا۔آج جیسے ہندو کا سینہ ہے ،ویسے ہی مسلمان کا سینہ ہے ۔اس کے سینے میں بھی وہ نور ِالٰہی نہیں ہے اور غیر مسلم کے سینے میں تو ہے ہی نہیں۔اطہر حسین شاہ بخاری کا کہناتھاکہ دوستو!اگر آپ بازار سے دو چار کلو سیب خریدتے ہیں اور دکاندار اُن میں اچھے سیبوں کے ساتھ خراب سیب بھی ڈال دیتا ہے لیکن جب آپ گھر آکر دیکھتے ہیں تو اچھے پھل کے ساتھ خراب پھل بھی ہوتا ہے ۔تو آپ کیا کرتے ہیں تویقیناآپ اُن گلے سڑے سیبوں کو پھینک دیں گے کیونکہ وہ آپ کے کسی کام کے نہیں ہیں۔عزیز ساتھیو!ہم جب اللہ کی بارگاہ میں جائیں گے توقرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ” پس کامیاب ہوا وہ شخص جو میرے پاس آیا قلب ِسلیم لے کر”جوچیز اللہ تعالیٰ کو چاہیے وہ آپ کا”قلب ِسلیم “ہے ۔وہ روشن قلب،اللہ کاذکرکرتا ہوا قلب،اللہ کی محبت کا گہوارہ قلب۔وہ اللہ تعالیٰ کو چاہیے۔جب اِس دِل کے اندر اُس کی محبت ہی نہیں ہے ۔جب اِس سینے کے اندر حضورسرکار دوعالمﷺکی محبت ہی نہیں ہے ،جب اِس سینے کے اندر اہل ِبیت کا عشق ہی نہیں ہے تو دوستو!ایسے جسم کو کیاکرنا؟اگر کوئی عورت ،مردوں جیسا لباس پہن لے تو اُس کے اندرمردوں والی خاصیتیں آجاتی ہیں!۔نہیں آتیں۔اس طرح اگر آپ مسلمانوں کی طرح لباس پہن لیںاور داڑھی رکھ لیں تو کیا آپ مومن بن جائیں گے ؟۔اگر کسی سکھ کویہ لباس پہنا دیا جائے،داڑھی رکھوادی جائے اور سَر پرامامہ شریف بھی سجا دیا جائے تو کیا وہ اسلام کا حامی بن جائے گا؟کیا وہ مومنین میں شمار ہوگا؟نہیں ،ہرگز نہیں کیونکہ اُس کا اندریعنی دل توسیاہ ہے دوستو!تو سب سے پہلے اندر سے تبدیلی لائیں یہ ایمان کا تقاضاہے ۔جب تک اندر ایمان ،اندر نور نہیں آئے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کے ظاہر کو نہیں دیکھتا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ یہ جو تم میری راہ میں قربانی کرتے ہو اِس کاگوشت اور خون مجھ تک نہیں پہنچتابلکہ تمہارا تقویٰ،نیت اور طہارت پہنچتی ہے ۔نیت کا تعلق آپ کے دل کے ساتھ ہے اور جب آپ کادل صاف ہو گاتو نیت بھی صاف ہو گی اور تمہارا اِرادہ پاک ہو گا اور پھر اُس وقت جو عمل کریں گے وہ مقبول ِبارگاہ ِالٰہی ہو گا۔جب دِل ہی صاف نہیں ہے تو آپ کے جسم سے نکلنے والے یا جسم سے سرزد ہونے والے اعمال بھی پاکیزہ نہیںہوں گے ۔دوستان ِعزیز!ایک پانی کی خاصیت ہے کہ آپ کے جسم کو پاک کرتا ہے اور ایک نور کی خاصیت ہے جو آپ کے باطن کو ،دل کو پاک کرتا ہے ۔پانی آپ کے لباس،بدن اور جسم کوپاک کرتاہے اوراللہ کے ذکر کا نور آپ کے قلب ،آپ کی روح کو طہارت دیتاہے اُس کو مصفی ٰکرتا ہے اُس کو چمکدار بناتاہے اورآج انجمن سرفروشان ِاسلام آپ کو یہی پیغام دیتی ہے کہ آئو اور اپنے باطن کو پاک کرو اپنے سینوں کو روشن ومنورکرلو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح آج پوری دنیا میں مسلمانوں کی حکومتیں ہیں،اُن کی Statesہیںبالکل اسی طرح ہلاکو خان اور چنگیز خا ن کے دور میں مسلمان ممالک موجود تھے ،اُن کی حکمرانی تھی ۔ جس طرح آج مسلمانوں کو قتل کیا جارہاہے اِسی طرح وہ آتے تھے اور مسلمانوں کا قتل ِعام کرتے جاتے تھے کیوںکہ وہ آج کی طرح متحد نہیں تھے ۔آج بھی وہ کشمیر ،فلسطین،شام ،بوسنیا اور برما(روہنگیا)میں اسی طرح ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل کررہے ہیںاورکوئی پوچھنے والانہیں ہے ۔آئیے!ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ اِس برے وقت میں ،اس نفسا نفسی کے دور میں،اِس آخری وقت میں اسم ِذات اللہ کو حاصل کریں اور جوہستی یہ نایاب دولت ِعظمیٰ بانٹ رہی ہے اُس کے ساتھ منسلک ہو جائیں ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ “جب تمہاری جان کو خطرہ ہوتوصدقہ دے کر بچ جایا کرو اور جب تمہارے ایما ن کو اور اسلام کو خطرہ ہو تواپنی جان دے کر اسلام کو بچالیا کرو”آج دوستو!اسلام کو خطرات درپیش ہیں ۔چاروں طرف سے اسلام کو کافروں نے گھیراہواہے ۔آئیے اپنے ایمان کو مضبوط کریںتاکہ جب جان دینے کا وقت آئے تو انجمن سرفروشان ِاسلام کے یہ سپاہی بھی کسی سے کم نہیں ہیںجب ہمیں اوپر سے حکم ہوگا تو ہم اپنی جانوں کا نذرانہ حضور ِپاکﷺکی ذات پہ قربان کرنے کیلئے تیار ہوںگے ۔ہم برما میں قتل ِعام کی پر زور اور شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیںاور اس سلسلے میں عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام پاکستان کی جانب سے بھرپور انداز میں پریس کے سامنے اپنا احتجاج بھی ریکارڈکروایاہے ۔ہم اس پلیٹ فارم پر حکومت ِوقت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیںاقوام ِمتحدہ سے فوری رجوع کیاجائے اور اسلامی سٹیٹ ہونے کے ناطے سے ،پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک کرنے کے ناطے سے ،یہ ہمارااخلاقی اور مذہبی فرض بنتا ہے کہ جو مسلمان شہید کئے جارہے ہیں ،اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔اُن کی مدد کی جائے اور بین الاقوامی طور پر آواز بلند کی جائے۔ اقوام ِمتحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار قوتوں پردبائو ڈالا جائے کہ وہ اِس قدرانسانیت سوز اقدامات کو روکے۔ برما کی حکومت پر دبائو ڈالاجائے کہ اس طرح کے اقدامات سے باز رہے اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور یہی انجمن سرفروشان ِاسلام اور اولیاء اللہ کا پیغام ہے کہ پوری دنیامیں اسم ِذات اللہ کے ذریعے عالمی امن و محبت اور بھائی چارہ کی فضاکو قائم کیا جائے تاکہ پوری دنیا میں تمام مذاہب کے درمیان محبت و اخوت کو پروان چڑھایا جائے اور انسانیت کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مولا!مسلمانوں کی حفاظت فرمااور اُن کے سینوں میں اپنا اور حبیب ِپاک صاحب ِلولاک ﷺکا سچا اور پکا عشق پیدا فرما۔آمین۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم کےخلاف پاکستان بھر میں احتجاج کیا گیا

September 8, 2017

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام فیصل آباد کے زیر اہتمام (برما) میانمار کی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم اور بربریت کی پر زور مذمت کی گئی اسی سلسلہ میں فیصل آبا دضلع کونسل سے ایک پر امن احتجاج کیاگیا جس میں ذمہ داران و اراکین ِ انجمن سرفروشان اسلام نے کثیر تعدا د میں شرکت کی ۔اسی اثنا میں چئیرمین مرکزی مجلس ِ شوریٰ حاجی محمداویس قادری ، امیر فیصل آبا د حاجی محمد سلیم قادری اور محمد افضال قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ محض تنقید کی نہیں بلکہ حقیقی عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور حکومت ، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام ِ متحدہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عظیم ظلم کے خلاف جنگی بنیادوں پر برما حکومت کے خلاف فوری فوجی کاروائی کی جائے ۔ تاکہ زندہ افراد کی جان و مال کے تحفظ کو اور ان کی بحالی کو یقینی بنایا جاسکے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ برما حکومت کی مشیر آنگ سان ساچی سے نوبل امن انعام بھی واپس لیا جائے۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather

برما روہینگیا کےمسلمانوں پرڈھائےجانے والےمظالم اوران کی نسل کشی کی بھرپورمذمت

September 3, 2017
برما روہینگیا کےمسلمانوں پرڈھائےجانے والےمظالم اوران کی نسل کشی کی بھرپورمذمت

انجمن سرفروشان اسلام پاکستان کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں میانمار کی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر ہونے والے ظلم و بربریت کی پرزورمذمت کی گئی ۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather

روحانی ٹور انجمن سرفروشان اسلام فیصل آباد

August 14, 2017
روحانی ٹور انجمن سرفروشان اسلام فیصل آباد

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام فیصل آباد کی طرف سے ایک روحانی ٹور ترتیب دیا گیا جس میں فیصل آباد کے علاوہ سمندری کے ذاکرین اور ذاکرات نے بھر پور شرکت کی ٹور 4گاڑیوں پر مشتمل تھا اور تقریباً 225 مر د ، خواتین نے شرکت کی ۔ اس روحانی قافلہ کا آغاز آستانہ فیصل آباد سے ہوا اور مختلف راستوں سے ہوتاہوا کھڑی شریف میاں محمد بخش ؒ اور دمڑی والی سرکار ؒ کے مزار شریف پر پہنچا ۔ میاں محمد بخش ؒ کے دربار شریف پر حاضری کے بعد محفل ِ پاک منعقد کی گئی اور محفل کا آغاز حمد ِ باری تعالیٰ سے کیا گیا جس کی سعاد ت محمد اطہر اقبال قادری نے حاصل کی اس کے بعد بارگاہ ِ سرورِکونین ﷺ میں ہدیہ عقید ت کا سلسلہ شروع ہو ا اور عابد علی قادری (آف سمندری ) اور محمد کاشف قادری (آف چنیوٹ) نے پیارے آقا علیہ السلام کی بارگاہ مقدسہ میں نعت کا نذرانہ پیش کیا اس کے بعد حضور پیران ِ پیر دستگیر جناب غوث پاک ؓ کی بارگاہ میں منقبت کا نذرانہ محمد ساجد قادری نے پیش کیا ۔ میاں محمد بخش ؒ کی شہرہ آفاق تصنیف سیف الملوک اور پیر ومرشد حضرت سیّد نا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کی بارگاہ میں قصیدہ کی سعادت عبدالعزیز قادری نے حاصل کی ۔
محفل پاک کے آغاز ہی سے بہت سارے نئے لوگ بھی محفل کا حصہ بنے اور بعد ازاں ذکر ِ قلب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے عبدالعزیز قادری نے کہا کہ اللہ رب العزت کے نام کو اپنے دلوں میں بساکر اولیا ء کرام ایسی حیات ِ جاویدانی حاصل کر لیتے ہیں کہ وہ امر ہوجاتے ہیں وہ خود تو اس دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ان کے نام کے ڈنکے چار دانگ ِ عالم میں بجتے ہیں اور انہی اللہ کے ولیوں کی نسبت اور سنگت سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہِ ہدایت نصیب ہوتی ہے کیونکہ ان کا در س اور تعلیم ہی دلوں کو پاک کر کے اللہ کے نام کو دلوں میں بساکر ویران اور بنجر کھیتیوں کو نور ِ عرفان سے روشن کرنا ہوتی ہے ۔محفل پاک میں موجو د نئے لوگوں کو ذکر ِ قلب کی دولت سے نوازا گیا اور فیضِ روحانی مرشد پاک کو حاجی محمد اویس قادری صاحب نے عوام الناس میں تقسیم کیا ۔
حلقہ ذکر ترتیب دیا گیا جس کے فرائض وحید انور قادری صاحب نے سرانجام دیئے اور اس کے بعد درود و سلام پڑھا گیا اور چوہدری اظہر نواز صاحب نے ملک و قوم کی بھلائی اور پاکستان کو اندرونی، بیرونی سازشوں اور خاص طور پر دہشت گردوں سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ پاک کی بارگاہ میں خصوصی دعا فرمائی ۔
میر پو ر کے ساتھی محمد شفیق قادری نے اپنے ہوٹل پر تمام ساتھیوں کے ناشتے کا انتظام کیا ہوا تھا اس کے بعد تمام لوگ اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر میرپور (شہر ) پہنچے ناشتہ کیا اور قبلہ ابا جی حضور ؒکے دربار شریف پر حاضری کے لیے روانہ ہو گئے۔
قبلہ ابا جی حضور ؒ کے دربار شریف پر بھی محفل پاک منعقد کی گئی جس کا آغاز محمد نثار بٹ صاحب نے حمد ِ باری تعالیٰ سے کیا نعت ِ رسول ِ مقبول ﷺکی سعادت عبدالعزیز قادری نے حاصل کی قصیدہ غوثیہ محمد جمیل قادری نے پیش کیا اور قصیدہ مرشدی کی سعادت عبدالعزیز قادری نے حاصل کی ۔
شبیر بھائی نے اباجی حضور ؒ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر ذاکر اس بات سے واقف ہے کہ اباجی حضور ؒکس قدر شفیق اور مہربان شخصیت کے حامل تھے ان کی عزت و تکریم اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ خود پیر و مرشد ابا جی حضور ؒ کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ اللہ پاک ہمیں اس نسبت سے دائمی وابستگی عطا فرمائے(آمین) اس کے بعد حلقہ ذکر ترتیب دیا گیا اور دعا کے بعد واپسی کے لیے تمام ذاکرین اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر فیصل آباد آستانہ پر پہنچے اور ٹور کی کامیابی پر دلی خوشی کا اظہار کیا۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather

انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان کی طرف سے جشنِ آزادی مبارک

August 12, 2017
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان کی طرف سے جشنِ آزادی مبارک

(فرمانِ حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدِظلہ العالیٰ)
میں ان لوگوں کو حلفیہ خوشخبری سناتا ہوں جو ناحق جیلوں میں بند ہیں یا وہ لوگ جو ناحق مقدموں کی وجہ سے مفرور ہوکر ڈاکوں بن گئے یا سیاسی انتقام کی بنا پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔۔۔کہ عنقریب وقت آنے والا ہے کہ اس ملک پاکستان میں کسی درویش کی حکومت ہوگی بکری اور شیر ایک ہی جگہ پانی پیئیں گے ۔سکون ہوگا امن ہوگا اور انصاف ہوگا اور ہر کوئی خوش حال ہوگا۔ذمہ دار کرسیوں پرخدا تر س اور درویش ہی بیٹھیں گے ۔اتنا میرے علم میں ہےکہ یہ انگریز قانون اور جیلیں ختم کردی جائیںگی ۔تاوان،قصاص اور جرمانے یا غلامی کے بعد تمام قیدی رہا کردیئے جائیں گے اور یا تو کوڑے مار کر فارغ ،یا ہاتھ کاٹ کر فارغ ، یا پھر سنگسار کر دیئے جائیں گے ۔جیلوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔یہ سخت قانون امن کا باعث بنے گا

 

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather

ماہانہ روح پرورمحفل ِگیارھویں شریف اگست 2017

August 4, 2017
ماہانہ روح پرورمحفل ِگیارھویں شریف اگست 2017

ہرماہ کی طرح اس ماہ بھی 4اگست 2017؁ ء بروز جمعتہ المبارک 11ذوالقعد1438ہجری آستانہ عالیہ عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)فیصل آباد پرماہانہ محفل ِگیارھویں شریف امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری کی زیر ِصدارت نہایت تذک و احتشام سے منعقد کی گئی ۔نماز ِمغرب کی باجماعت ادائیگی کے بعد حاجی محمدا صغر قادری نے مناجات کا نذرانہ پیش کیا۔اسکے بعد محفل پاک کاباقائدہ آغازحمد ِباری تعالیٰ سے محمد رفیق قادری نے کیا۔اس محفل ِپاک میں نقابت کے فرائض محمدافضال قادری اور ڈاکٹرمحمد مشتاق قادری نے سرانجام دئیے۔محفل ِپاک میں بارگاہ ِسرورِکون و مکاں ﷺ،بارگاہ ِاقدس جناب ِغوث الثقلین ؒاورمرشدپاک کے حضور عقیدت و محبت کے نذرانے باالترتیب محمد عاصم گوھر،محمدصدیق،ذیشان الٰہی،محمدفیصل شوکت،پیر محمدا لیاس قادری ،نورانی اور حکیم محمدافضل سہروردی(شاگردِرشیدالحاج فصیح الدین سہروردی)اورقاری محمد عدیل قادری نے پیش کئے۔اسکے بعد ماسٹر محمدا رشد قادری نے حلقہء ذکرالٰہی کو ترتیب دیا۔درودوسلام کے بعد دعائے خیرحاجی محمد اویس قادری نے کروائی اور ملک ِخداداد پاکستان میں امن و امان کے قیام،ترقی و خوشحالی اور نیک صفت،خداترس ،ایمان داراور خلق خداکی بھلائی کے حامل حکمرانوںکی حکومت قائم فرما۔
اس موقع پر جناب مولانا مفتی محمد سعید صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اللہ کے ایک درویش کے درپر پیران ِپیرؒ کی یاد میں محفل گیارھویں شریف سجائے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے ہمیں تذکیۂ نفس اور تصفیہ قلب کا درس دیا ہے ۔اللہ والوں کی کوئی بھی بات اللہ اور اُ س کے رسول ﷺکے فرمان کے خلاف نہیں ہوتی ۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ وہ اللہ کا ولی بھی ہو اور اُس کا قول وفعل خلاف ِشرع ہو۔اللہ کے برگزیدہ بندوں کی زبانیںاللہ اور اُس کے پیارے حبیب ﷺکے فرامین کی ترجمان ہوتی ہیں۔اسی لئے قرآن ِکریم میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے ۔
ترجمہ :۔”اُس نے فلاح پائی جس نے تذکیہ کیااور رب کے نام کا ذکر کیا اور پھر نماز پڑھی”۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم نے اس جدید دور میں ہر قسم کی ظاہری پاکیزگی حاصل کرلی لیکن ہم اللہ رب العزت کی نگاہ میں اُس وقت تک کامیابی و کامرانی کی منزل کو نہیں پا سکتے جب تک اپنے باطن کو پاک و صاف نہیں کر لیتے یعنی ہر پاکی سے پہلے اپنے اندر کی پاکی ضروری ہے ۔جب اندر پاک ہو گیا تو ظاہر میں بھی اُس کی جھلک نظر آئے گی۔اس لئے اپنے اندر آگ لگائو ۔باہر خودبخود لگ جائے گی۔ انجمن سرفروشانِ اسلام کے یہ سرفروش کارکنان آپ کو دعوت ِفکر دے رہے ہیں کہ پہلے اپنے اندر کو پاک کرو اور اُس کو یعنی اپنے نفس اور قلب کو صاف کرنے کیلئے رب العالمین کے مبارک نام کا ذکر کرنا پڑے گا ۔جب اس ذکر ِپاک سے تمہارا اندر روشن و منور ہو جائے گا تو پھر نماز ادا کرنا۔اُس وقت ادا کی ہوئی نماز رب تک پہنچے گی ۔وہی نماز نبی ِرحمت ﷺکی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو گی۔پھر حضور ﷺکی محبت بھی سینوں میں اجاگر ہوجائے گی اورغوث ِپاک ؒکے فرمان کے مطابق تم اپنی زبان کے ساتھ ساتھ اپنے دل کے ساتھ بھی اللہ اللہ کروگے تو میرے داخلی مریدوں میں شامل ہو جائو گے۔۔پھریقینا تم صحیح معنوں میں رب کی بارگاہ ِاقدس میں کامیابی و کامرانی حاصل کرلوگے۔دعاہے کہ اللہ ہم سب کو اس دَراور اولیاء اللہ سے ہمیشہ کی وابستگی عطاء فرمائے اور اُن کے اس پیغام ِمحبت کو ہر دل تک پہنچانے کی توفیق عطاء فرمائے اوراُن کو ہم سے راضی فرمائے ۔آمین۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestmailby feather
Page 1 of 8312345...102030...Last »
انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان